Home / شمارہ جولائی 2017 / سائنس اور انکارِ خدا

سائنس اور انکارِ خدا

دی گرینڈ ڈیزائن(The Grand Design) اسٹیفن ہاکنگ کی تصنیف ہے جنھیں سائنس کی دنیا میں آئن سٹائن کے بعد سب سے ذہین اور  ماہر ترین سائنسدان سمجھا جاتا ہے۔ ان کی یہ کتاب 2010میں شائع ہوئی ۔اس کتاب میں اسٹیفن ہاکنگ نے یہ دعوی کیا ہے کہ کائنات اور دنیا میں موجود حیات کی معرفت کے لیے ہمیں کسی خدا کی ضرورت نہیں ہے بلکہ قدرت کے قوانینLaws of Natureہمیشہ سے ہیں اور وہ وہی اس گرینڈ ڈیزائن کی علتCauseہیں۔ ہاکنگ اپنی اسی کتاب میں یہ الفاظ بھی کہتے ہیں:

Science makes God unnecessary

سائنس  نے خدا کو غیرضروری ثابت کردیا ہے

سائنسی دریافت کی بنیاد پر بعض جید سائنس دانوں میں خدا کے انکار کا خیال انیسوی صدی کے بعد رائج ہوا ہے۔ نیوٹن کے بعد اس وقت یہ تاثر پیدا کیا جانے لگا کہ علومِ جدیدہ نے خدائی ایمان کی پوری عمارت کو مسمار کردیا ہے ۔ اس پوسٹ ماڈرن دنیا میں اب خدا کی کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے۔حتیٰ کہ مغرب میں خدا کی موت اور خدا کی تدفین  جیسے نعرے  بھی بلند ہونے لگے۔

ملحدین کے نقطہ نظر کے مطابق پہلے زمانوں میں انسان کا علم محدود تھا، اس وجہ سے اسے کائنات کی توجیہہ کا یہی تصور ملا کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے بارے میں مان لیا جائے کہ اسے کوئی خدا چلا رہا ہے۔لیکن سائنسدانوں نے ایسے قوانین دریافت کر لیے ہیں جن کی مدد سے یہ جانا جا سکتا ہے کہ یہ کائنات کیسے چل رہی ہے۔ اب ضرورت نہیں رہی کہ خدا کے تصور کے ساتھ جڑاجائے بلکہ ہمیں فطرت کے ان قوانین کا علم ہو چکا ہے جن کی مدد سے یہ کائنات چل رہی ہے۔ جیسے پہلے انسان سمجھتا تھا کہ سورج طلوع و غروب ہوتا ہے۔ اس نے ایک خدا فرض کر لیا جو سورج کو نکالتا اور غروب کرتا ہے۔ جدید سائنس نے یہ ثابت کر دیا کہ سورج طلوع و غروب نہیں ہوتا بلکہ زمین گردش کرتے ہوئے اس کے سامنے آ جاتی ہے۔ اس وجہ سے  اب اس خدا کو بھی ماننے کی ضرورت نہیں رہی جو سورج کو کنٹرول کر رہا ہے۔سائنس میں ہونے والی ہر ایک نئی پیش رفت دراصل اس تابوت کی ایک اور کیل ہے جس میں خدا کو بند کردیا گیا ہے۔

اس نقطہ نظر کا جائزہ لینے سے قبل یہ غلط فہمی رفع کرلینا ضروری ہے کہ سائنس گوکہ آج بے پناہ ترقی کرچکی ہے لیکن سائنس نے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا کہ پہلے جو تفصیلات معلوم تھیں، ان میں کچھ مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ان معلومات میں اضافے کے نتیجے میں خدا کا تصور کسی طرح بھی بے کار قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہمیں کسی پراسیس کے بارے میں اضافی معلومات مل جائیں تو کیا اس سے اس بات کی نفی ہو جاتی ہے کہ اس پراسیس کا کوئی خالق موجود نہیں ہے؟ ملحد سائنس دانوں کی غلطی یہ ہے کہ وہ تخلیق اور “طریقۂ تخلیق” کو باہم مخلوط کررہے ہیں۔کسی شے کی طریقۂ تخلیق کا علم ہوجانا اس بات کا مجاز نہیں کہ اس شے کا خالق کوئی نہیں ہے۔مولانا وحید الدین خان ملحدین کے اس خیال کے بارے میں لکھتے ہیں:

یہ صحیح ہے کہ سائنس نے کائنات کے بارے میں انسان کے مشاہدے کو بہت بڑھا دیا ہے، اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ کون سے فطری قوانین ہیں، جن میں یہ کائنات جکڑی ہوئی ہے اور جس کے تحت وہ حرکت کر رہی ہے۔ مثلاً پہلے آدمی صرف یہ جانتا تھا کہ پانی برستا ہے، مگر اب سمندر کی بھاپ اٹھنے سے لے کر بارش کے قطرے زمین پر گرنے تک کا وہ پورا عمل انسان کو معلوم ہو گیا ہے، جس کے مطابق بارش کا واقعہ ہوتا ہے۔ مگر یہ ساری دریافتیں صرف واقعہ کی تصویر ہیں، وہ واقعہ کی توجیہ نہیں ہیں۔ سائنس یہ نہیں بتاتی کہ فطرت کے قوانین کیسے قوانین بن گئے، وہ کیسے اس قدر مفید شکل میں مسلسل طور پر زمین و آسمان میں قائم ہیں، اور اس صحت کے ساتھ قائم ہیں کہ ان کی بنیاد پر سائنس میں قوانین مرتب کیے جا تے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرت جس کو معلوم کر لینے کی وجہ سے انسان یہ دعوی کرنے لگا ہے کہ اس نے کائنات کی توجیہ دریافت کر لی، وہ محض دھوکا ہے۔ یہ ایک غیر متعلق بات کو سوال کا جواب بنا کر پیش کرنا ہے، یہ درمیانی کڑی کو آخری کڑی قرار دینا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے، اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت کو دیکھ لیں، مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کر لیا؟ کیا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے؟ اور اپنے آپ چلی جا رہی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہوا اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے؟[1]

[1]وحید الدین خان۔ مذہب اور جدید چیلنج۔   ص 22-23۔ دہلی: مکتبہ الرسالہ۔  www.cpsglobal.org (ac. 13 Oct 2011)

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *