Home / خواتین اسپیشل / سوال و جواب

سوال و جواب

سوال:کیا بھنویں بنوانا  اور چہرے کے بال نوچنا  جائز ہے،قرآن  یا حدیث کی روشنی میں جواب دیجیے؟

جواب:صحیح بخاری  میں روایت ہے:

عن عبد اللهِ قال لَعَنَ الله الْوَاشِمَاتِ وَالْمُوتَشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللهِ فَبَلَغَ ذلك امْرَأَةً من بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لها أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ فقالت إنه بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فقال ومالي لا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ هو في كِتَابِ اللهِ فقالت لقد قرأت ما بين اللَّوْحَيْنِ فما وَجَدْتُ فيه ما تَقُولُ قال لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لقد وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأْتِ (وما آتَاكُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وما نَهَاكُمْ عنه فَانْتَهُوا.)۔ قالت بَلَى قال فإنه قد نهى عنه .

(بخاري )

حضرت عبد اللہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تزین کے لیے جلد پر نقش بنانے، (١)اور بنوانے والیوں پر چہرے کے بال اکھڑوانے والیوں، () دانتوں کو رگڑ کر ان کا گیپ زیادہ کرنے والیوں،(٣) اور خلق اللہ کو تبدیل کرنے والیوں پر لعنت کی ہے۔ان کی یہ بات بنو اسد قبیلے کی ایک خاتون، جنھیں ام یعقوب کہا جاتا تھا، نے سنی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ یوں اور یوں کہتے ہیں! انھوں نے کہا کہ مجھے کیا ہے کہ میں ان پر لعنت کرنے سے رکوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی، اور جن کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہو۔اس عورت نے کہا کہ میں نے تو قرآن مجید تو شروع سے آخر تک پڑھا ہے۔ لیکن میں نے تو اس میں ایسی کوئی بات نہیں پائی جو آپ کہتے ہیں۔ انھوں نے جواب میں کہا: اگر آپ نے صحیح طرح سے قرآن پڑھا ہوتا تو یقینا یہ بات آپ اس میں پا لیتیں۔ کیا آپ نے یہ نہیں پڑھا کہ:”جو کچھ اللہ کے رسول نے دیا ہے وہ لے لو، اور جس کو آپ نے روکا ہے اس سے رک جاؤ۔” اس عورت نے کہا، ہاں میں نے یہ آیت پڑھی ہے۔ تو انھوں نے کہا کہ پھر جان لو کہ ان کاموں سے نبی اکرم نے روکا ہے۔

جسم سے بالوں کو نوچنے کے لیے حدیث مبارک میں ’’النّمص‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فقہاء کے مابین اتفاق ہے کہ بھنویں بنوانا بھی اسی لفظ کے زمرے میں آتا ہے، البتہ اس بارے میں ان کے مابین اختلاف اس بات پر ہے کہ آیا یہ حرام ہے یا جائز؟

اس مسئلہ میں تین آراء ہیں:

î             جمہور فقہاء کے نزدیک  بھنویں بنوانا ممنوع اور حرام ہے۔خواہ خاوند کی چاہت اور مرضی بھی اس میں شامل ہو۔

î                شافعی فقہاء کی رائے کے مطابق شادی شدہ خاتون جو بیوہ نہ ہو وہ اپنے خاوند کے لیے ایسا کرسکتی ہے۔ اور شادی شدہ خاتون کو اس حکم سے اس لیے مستثنی کیا ہے کہ اس خاتون کے لیے بنیادی طور پراپنے شادی کے بندھن کو مضبوط کرنے کے لیے بناؤ سنگھار جائز ہے۔

îکچھ مالکی فقہاء کا کہنا ہے کہ ہر خاتون بھنویں بنوا سکتی ہے، بشرطیکہ اس میں دھوکہ دہی کا پہلو نہ ہو۔ش

اسرا ٹیم

 

سوال: وراثت میں مرد کا حصہ عورت کی نسبت دوگنا کیوں رکھا گیا ہے؟ کیا یہ نا انصافی نہیں؟

جواب:   اسلام کے قانون معاشرت کے مطابق عورت کی کفالت مرد کی ذمہ داری ہے۔ شادی کے وقت مرد عورت کو مہر کی صورت میں ایک مناسب رقم ادا کرنے کا پابند ہے۔ اس کے بعد وہ ساری زندگی عورت اور بچوں کے نان نفقے کا خرچ اٹھاتا ہے۔ اس ضمن میں عورت پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس لئے وراثت میں اگر مرد کا حصہ دوگنا رکھا گیا ہے تو یہ ناانصافی نہیں بلکہ عین انصاف کا تقاضا ہے۔

          یہ الگ بات ہے کہ ہماری دیہاتی معاشرت میں خواتین کو اس حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ یہ دین اور اخلاقیات کے تمام اصولوں کے خلاف ہے۔ جو لوگ دین پر ایمان رکھتے ہوئے ایسی حرکت کے مرتکب ہوتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو ان کا حق دینا چاہیے۔

محمد مبشر نذیر

About حافظ محمد شارق، محمد مبشر نذیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *