Home / شمارہ ستمبر 2017 / رسائل و مسائل

رسائل و مسائل

سوال و جواب:

مفتی شکیل عاصم

سوال:میری آمدنی کم ہے میں لون پہ گزارہ کرتا ہوں اور میرا گھر بھی لون پہ ہے مگر میں اپنی بیوی کے زیور پر زکوۃ بھی نکالتا ہوں اور میں اپنے بھائی بہنوں سے زکوۃ بھی لے لیتا ہوںاور دوسرے بھائی بہنوں کی زکوۃ سے مدد بھی کر دیتا ہوں ۔ کیا یہ میرا عمل صحیح ہے کیونکہ ایک طرف میں صاحبِ نصاب بھی ہوں اور دوسری طرف مستحقِ زکوۃ بھی ہوں ، پلیز رہنمائی فرما دیجیے ۔

جواب:السلام علیکم رحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ صاحب نصاب نہیں ہیں بلکہ آپ کی بیوی صاحب نصاب ہیں۔ شاید آپ یہ سوچ رہے ہوں کہ  بیوی اور آپ کون سا بٹے ہوئے ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ اسلام خاتون خانہ کو اپنی پراپرٹی بنانے یا رکھنے کا حق دیتا ہے۔ جس کی مالک آپ کی بیوی ہیں وہ انہی کا ہی ہے تاوقتیکہ وہ آپ کو بیچ نہ دے یا تحفہ کے طور پر نہ دے دیں۔ اور جو آپ نے انہیں دیا وہ ان کا ہی ہوگا۔ اس لیے بیوی کے زیور پر زکوۃ دینا آپ کے ذمہ نہیں ہے۔ بلکہ بیوی اپنے گولڈ کی زکوۃ آپ کو دے سکتی ہیں اگر آپ قبول کرنا چاہیں کیونکہ آپ کے اخراجات اٹھانا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ بلکہ ان کے گھریلو ضروریات کا بار آپ کے ذمہ ہے اور اصول یہ ہے کہ جب کسی کے ذمہ آپ کا نان ونفقہ نہیں ہے تو اس کی زکوۃ وصول کرنے کے آپ روا دار ہیں اگر آپ مستحق ہوں۔ امید ہے بات واضح کرپایا ہوں۔

والسلام

About مفتی شکیل عاصم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *