Home / شمارہ اگست 2017 / سورہ العصر کا خلاصہ

سورہ العصر کا خلاصہ

 بنی نوع انسان کی پیدائش سے لیکر قیامت تک کی گھڑی اس امر پر شاہد رہے گی کہ زمانے کی بے ثباتی سے آشنائی کے باوجود انسانوں کی اکثریت اپنی تخلیق کی اصل غایت ہی سے غفلت کے سبب اپنے لیے نقصان کے درپے ہے ۔ زمانہ درحقیقت انسان کے لیے ایک محدود اور برق رفتار مہلتِ عمل ہے جس کا راس المال انسان کے اعمال و افعال ، کردار و اطوار اور حرکات و سکنات ہیں ۔ بد بخت ہو گا وہ جو اس حیاتِ فانی کی لذتوں کو آخرت کے نفع پر ترجیح دے کر بد عملی پر اصرار کیے رکھے ۔ اور چند دنوں کے امتحان میں مقررہ وقت پر اپنا پرچہ حل کرنے کی بجاے ، دی ہوئی مہلت کو کسی  اور کام میں ضائع کر دینا خسارہ نہیں تو اور کیا ہے؟ ہر سیکنڈ کے ساتھ ماضی میں تحلیل ہو جانے والا وقت گواہ ہے کہ اپنی مہلتِ عمر کا ضیاع انسان کو ابدی اور نا تمام خسارے سے دوچار کرنے والا ہے ۔ تاریخ کے اوراق روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ اپنے انجام سے بے خبری برتنے والے ، دنیاوی جاہ مرتبے کی حرص میں سر کشی اختیار کرنے والے کس طرح روندے گئے ۔ انسان کو دیا گیا یہ امتحان کیا ہے جس میں نا کامی ابدی خسارہ ہے ۔ یہ امتحان تقوی اور تربیتِ نفس کے ذریعے خدا کی رضا اور محبت کے راستہ کا انتخاب ہے ۔خسارے سے مستشنی وہی ہوں گے جو ایمان کو شعوری طور پر دریافت کر کے نتیجتا ظاہر و باطن کی پاکیزگی کے ساتھ اخلاص پر مبنی اعمالِ صالحہ سے متصف ہوں ۔ ایمان و عمل کی سعادت حاصل کرتے ہوے ان کی زندگی کا مقصد پھر اس کے فطری تقاضے کی تکمیل یعنی دوسروں کو بھی حق کی تلقین کرنا اور درپیش مصائب پر صبر کے ذریعے سے قوت اور استقامت اختیار کرنے پر ابھارنا ہو ۔ ان کی مثال معاشرے میں باطل اور لغویات کے خلاف یوں ہو کہ جیسے سرد کمرے میں ہیٹر آن کیا جاے اور اس کی حرارت سے رفتہ رفتہ پورا کمرہ گرم ہو جاے ، یہاں تک کہ سردی کا احساس تک ختم ہو جاے ۔ انسان کی ابدی فلاح کا خلاصہ یہی ہے کہ حق کی دریافت یعنی ایمان اور معرفت الہی کے نتیجہ میں بلا تعصب حق کو قبول کرتے ہوے ، باطل پر اصرار سے گریز کیا جاے ۔ اور اس کے فطری تقاضوں یعنی نفس کی تربیت کے ذریعے اعمال صالحہ کو اختیار کرتے ہوے لغویات کو ترک کیا جاے ، پھر اس عمل پر صبر و استقامت کا دامن تھام لیا جاے اور اسی کا پر چار کیا جاے ۔ اسی کی وصیت کی جاے ۔ ان چاروں مراحل میں کسی ایک سے بھی گریز کی راہ گمراہی اور غفلت کی صورت میں انسان کے لیے ایسا نقصان ہے ، جس کا ازالہ زمانے کی برق رفتاری کے ساتھ آخرِ کار اس کے خاتمے پر نا ممکن ہو جانے والا ہے ۔

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *