Home / شمارہ اپریل 2017 / سورۃ الرحمٰن کا منظوم ترجمہ

سورۃ الرحمٰن کا منظوم ترجمہ

اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا

تیرگی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا

اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا

کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھ جائے گا

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

یہ سحر کا حسن ،یہ سیارگاں اور یہ فضاء

یہ معطر باغ ،یہ سبزہ ،یہ کلیاں دل ربا

یہ بیاباں کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا

سو چ تو کیا کیا ،کیا ہے قدرت نے تجھے عطا

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

خلد میں حوریں تیری مشتاق ہیں آنکھیں اٹھا

نیچی نظریں جن کا زیور ،جن کی آرائش حیا

جن و انساں میں  کسی نے بھی نہیں جن کو چھُوا

جن کی باتیں عطر میں ڈوبتی ہوئی جیسے صبا

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر خدا

بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا و ابتدا

یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا

کسی نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا

نرم شاخیں جھومتی ہیں ،رقص کرتی ہے صبا

پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوشنما

جن کا ہر ریشہ ہے قند و شہد میں ڈوبا ہوا

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

پھول میں خوشبو بھری ،جنگل کی بوٹی میں دوا

بحر سے موتی نکالے صاف روشن ،خوشنما

آگ سے شعلہ نکالا ،ابر سے آب صفا

کیسے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

ہر نفس طوفان ہے، ہر سانس ہے اک زلزلہ

موت کی جانب رواں ہے زندگی کا قافلہ

مضطرب ہر چیز ہے جنبش میں ہے ارض و سماء

ان میں قائم ہے تو ،تیرے رب کے چہرے کی ضیاء

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیاء

شام کو رنگ ِ شفق کرتا ہے اک محشر بپا

چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا

جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا

کب تک آخر اپنے اب کی نعمتیں جھٹلائے گا

About جوش ملیح آبادی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *