Home / خواتین اسپیشل / شادی شدہ خاتون کے حقوق و فرائض

شادی شدہ خاتون کے حقوق و فرائض

ایک لڑکی جب شادی کے بعد نئے ماحول میں آتی ہے تو کئی طرح کی دشواریاں پیش آتی ہیں جن کے حل کے لیے ضروری ہے کہ لڑکی اور اس کے شوہر اور سسرال کو بھی اس کے حقوق کا علم ہو۔ چونکہ اس نئے فرد کی ذمہ داریوں کا علم تو سب کو ہوتا ہے اور بسااوقات ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے تو اسی لیے ضرورت ہے کہ اس کے حقوق کا خود اس لڑکی کو بھی علم ہو اور شوہر سمیت باقی گھر والوں کو بھی۔

سب سے پہلی بات جو شوہر اور پھر سسرال والوں کو سمجھنا ضروری ہے وہ یہ کہ اپنا گھر, رشتے اور بسا اوقات اپنا شہر یا ملک  تک چھوڑ کر لڑکی آتی ہے تو سب سے زیادہ محبت، تعاون اور کیئر کی ضرورت لڑکی کو ہے۔ نئے ماحول،طور طریقوں اور لوگوں کے مزاج کو سمجھنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد فراہم کرنا شوہر اور سسرال کی ذمہ داری  اور لڑکی کا حق ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر انسان کی طرح لڑکی بھی اپنی ایک انفرادی شخصیت رکھتی ہے۔ اسے بدلنے کا بےجا مطالبہ کرنا،خاندان کے خودساختہ اصولوں کے تحت ڈھالنے کے لیے اس پر نفسیاتی دباؤ ڈالناایک غیرفطری طریقہ اور اس لڑکی پر ظلم ہے۔ہر انسان منفرد ہے اور اس کا حق ہے کہ اس کی انفرادیت کا احترام کیا جائے نا کہ اسے اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے لیے اس پر کسی بھی قسم کا جبر کیا جائے۔

ہمارے معاشرے میں ابھی تک کچھ گھرانوں میں بہو کے جلدی سونے یا آرام کے وقت دروازہ بند کرلینے پر اعتراض کرتے ہیں جبکہ اسلام نے خود خصوصیت کے ساتھ تین اوقات کو پردے کا وقت قرار دیا۔ہر انسان کی طرح عورت کی بھی ضرورت ہے کہ وہ کچھ وقت تنہا گزارے اور اس ضرورت کا احترام سب پر لازم ہے۔  یہ سب کا حق ہے کہ ان کی پرائیویسی کا خیال رکھا جائے۔

اسلام نے انسان کی پرائیویسی کا اس قدر خیال رکھا ہے کہ شوہر کے لیے بھی درست طریقہ یہی قرار دیا کہ وہ بھی بیوی کو اطلاع دے کر جائے۔ یہاں اجازت لینا ضروری نہیں تاہم کوئی ایسا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے جس سے بیوی کو شوہر کی آمد کی اطلاع ہو جائے اور وہ باوقار طریقے سے شوہر کے سامنے آسکے۔صحابہ کرام کے ہاں یہی طریقہ رائج تھا ایک حدیث میں ہے کہ سفر سے رات کے وقت بغیر اطلاع گھر آجانے سے حضورؐ نے منع فرمایا ہے۔

کچھ گھرانوں میں اب تک شادی شدہ جوڑوں کے لیے بھی ملحقہ باتھ رومز کو غیر ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ باقی قباحتیں اپنی جگہ مگر اس وجہ سے صرف میاں بیوی کے درمیان ہی اتنی نا اتفاقی و ناچاقی پیدا ہو جاتی ہے کہ رشتے میں کڑواہٹ در آنا ایک عام سی بات ہے مگر اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔

اسلام اس بارے میں اتنا حساس ہے کہ کسی کے خط(آج کل میسیجز یا ڈائری )  پر نگاہ تک ڈالنا جائز نہیں ، نہ ہی ان دو لوگوں کے درمیان بیٹھنا درست ہے جو آپس میں کسی ذاتی  نوعیت کی گفتگو کر رہے ہوں اور کسی کی مداخلت انہیں گراں گزرے۔کوئی فون پر مصروف ہو۔بیوی/بہو اپنے گھر والوں سے فون پر یا آمنے سامنے بات کرے تو اسے تنہا چھوڑ دینا چاہیئے۔بہو یا بیوی کو بھی سپیس ملنی چاہیئے یہ اس کا حق ہے-اس پر اپنی پسند نا پسند مسلط کرنا، یہ خیال کرنا کہ بہو/بیوی کا آپ کے لیے ہر وقت میسر ہونا آپ کا حق اور اس لڑکی کا فرض ہے، ایک غیر حقیقی سوچ ہے جس کا نتیجہ منفی ہی نکلتا ہے۔

عموما ًسکھایا بھی یہی جاتا ہے کہ عورت کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنی دین و دنیا کی ہر ضرورت سے بے نیاز ہو کر سب کو راضی رکھے۔ جبکہ انسان پر سب سے پہلی ذمہ داری اس کی اپنی ذات  کی عائد ہوتی ہے۔ہر لڑکی کو اپنی زندگی اور ذات کی ذمہ داری  قبول کرنی چاہیئے۔ اپنے حق کے لیے مثبت و محکم انداز میں بات کرنا،اپنے احساسات، جذبات اور ضرورت کا مثبت و محکم انداز میں اظہار کرنا معیوب نہیں،پسندیدہ ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے اور نہ ہی لڑکی کو اس پر احساس جرم میں مبتلا ہونا چاہیئے

نہ ہی شادی کے بعد لڑکی کی ذاتی یا مثبت سرگرمیوں اور مشاغل پر فل سٹاپ لگانا جائز ہے۔ شادی کے بعد بھی تعلیم و تربیت کا حصول اس کا حق ہی نہیں بلکہ بیوی اور مستقبل کی  ماں ہونے کی حیثیت سے اس کی ضرورت ہے۔

وہ صرف بیوی یا بہو نہیں ہے بلکہ وہ ماں ہونے کی حیثیت سے انسانیت کی معمار بھی ہے۔ جس کے لیے اس کا زمانے سے ہم آہنگ ہونا، وقتی تقاضوں کو سمجھنا،  آگہی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔

ان حقوق کا علم ہونا لڑکی کے لیے بھی ضروری ہے اور شوہر اور سسرال  کے لیے بھی تاکہ ہر ایک اپنی حد کو پہچان کر دوسرے کی حد میں داخل ہونے کی غلطی نہ کرے جس کے نتیجے میں گھر میں بگاڑ اور بے سکونی پیدا ہوتی ہے۔

حنا تحسین طالب

About حِنا تحسین طالب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *