Home / گلدستہ / شاعرانہ انتخاب

شاعرانہ انتخاب

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شبِ سست موج کا ساحل
کہیں تو جاکے رکے گا سفینہِ غمِِ دل
جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیارِ حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے ہیں
بہت عزیز تھی لیکن رخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن
سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراقِ ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصالِ منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہلِ درد کا دستور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ہجر حرام
جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
شاعر: فیض احمد فیض

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی

مقام بندگی دے کر نہ لوں شان خداوندی

ترے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا

یہاں مرنے کی پابندی ، وہاں جینے کی پابندی

حجاب اکسیر ہے آوارہ کوئے محبت کو

میری آتش کو بھڑکاتی ہے تیری دیر پیوندی

گزر اوقات کر لیتا ہے یہ کوہ و بیاباں میں

کہ شاہیں کے لیے ذلت ہے کار آشیاں بندی

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی

زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحد میری

کہ خاک راہ کو میں نے بتایا راز الوندی

مری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو

کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی

شاعر:علامہ اقبال

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *