Home / شمارہ جون 2018 / شاعرانہ کلام

شاعرانہ کلام

حمد  باری تعالی

آسماں کی وسعتیں تیری ہیں ،سیارے ترے
میری آنکھیں بھی تری یہ سارے نظارے ترے
ابر کے لشکر ، یہ کہکشاروں کے لمبے سلسلے
اور ان کی چوٹیوں کے اونچے مینارے ترے
دوپہر کی آگ تیری ،سیم وتن سورج ترا
سب جھلستے راستے تیرے ہیں ، بنجارے ترے
شمع تیری ، شمع کے سر پر رکھا شعلہ ترا
رات تیری،رات کی زلفوں کے اندھیارے ترے
صبح تیری ،شبنمیں مخمل ترا، گلشن ترے
حمد گاتے خوشنوا رنگین طیارے ترے
کف اڑاتی ، چیختی چنگھاڑتی موجیں ،تری
کشتیاں ، ساحل ہوا کے تندخو دھارے ترے
پھول تیرے ، رس ترا ، تیری شہد کی مکھیاں
مکھیوں کے ڈنک تیرے ،قنذ کے پارے ترے
نوح کی بستی تری ، طوفاں ترا ، کشتی تری
ڈوبنے والے ترے، کشتی کے سب پیارے ترے
آزمائش ، کامیابی ، نامرادی ، سب تری
کوئی ابرا ہیم ہو ، گل ہوں کہ انگارے، ترے
امتِ موسی تری ، فرعون کا لشکر، ترا
پار اترنے والے تیرے ، قہر کے مارے ، ترے
سب نمائند ہیں تیرے خیر وشر کی جنگ میں
جیتنے والے بھی تیرے ،بدر کے ہارے ،ترے
(اقبال فیضی)

***********

بے زبانوں کو جب وہ زبان دیتا ہے

پڑھنے کو پھر وہ قرآن دیتا ہے

بخشش پہ آتا ہے جب امت کے گناہوں کو

تحفے میں گناہ گاروں کو رمضان دیتا ہے

***********

عبادتوں کے اس دور میں

آؤ مانگیں سب کے لیے مغفرت

مانگتے ہیں ہم کچھ نہ کچھ اپنے لیے

چلو آج دوسروں کے لیے مانگیں

رمضان کی آمد کی خوشی ہے بہت

ساتھ ہی اس کے رخصت ہو جانے کا غم

خدا کرے وقت تھم جائے اس وقت

جب برس رہی ہو خدا کی رحمت ہم پر

رمضان کے رخصت ہونے سے پہلے

درِ توبہ بند ہونے سے پہلے

اس مبارک مہینے کی ہر فضیلت حاصل کر لیں

جو ہم گزشتہ سالوں میں حاصل نہ کر سکے

***********

کھوج

چلو آج مل کے

کسی ایسے جہاں کی کھوج کریں

جہاں پہ

رب کی بڑائی بیان کرتے ہوئے

کسی خوش الحان کا گلا نہ گھونٹا جائے

جہاں کسی معصوم کے دل میں

سوائے اپنے کھلونوں کے ٹوٹ جانے کے

کوئی خوف نہ کڑکڑاتا ہو

جہاں پہ جب بھی کبھی

مائیں اپنی بیٹیوں کو

یوں ٹوکتی ہوں کہ اپنی ہنسی پہ قابو پاؤ

تو ان کے پھول لبوں سے

ہنسی کا فوارہ

ابل کے گونجنے لگتا ہو سارے آنگن میں

کسی نگر ، کسی کوچے ، کسی گلی میں

کوئی تو ہوگا جسے خبر ہوگی

کہ وہ جہاں جسے ہم سب ہی کھوجتے ہیں

کسی کے خواب میں شاید کوئی بزرگِ قدیم

دکھا گیا ہو کوئی اسرار اس دنیا کے

تلاش کرتے ہیں آؤ اسی جہاں کو ہم

یہاں نہیں بھی ملا تو بھی ہے مجھے یہ یقین

کہ میرا رب میری اس

کھوج کے عوض مجھے

انعام کردے گا جنت میں اک نگر ایسا

کسی پرانی کہانی کے منظروں جیسا……

(آمنہ آفتاب)

***********

اے میرے خدا

صبح ہو یا شام
دن ہو یا رات
سردی ہو یا گر می
بہار ہو یا خزاں
خوشی ہو یا غمی
میں جب بھی
تیرے در پہ آوں
میرے دل میں
میرے ذھن میں
میری سوچ میں
میری فکر میں
تیرے سوا
کوئی نہ ہو
اے میرے خدا

***********

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

ٹک حرص وہوا کو چھوڑ میاں مت دیس بدیس پھرے مارا
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کرنقارا
کیا بدھیا. بھینسا، بیل شتر، کیا گونیں پلا سر بھارا
کیا گیہوں ،چاول، موٹھ ،مٹر، کیا آگ ،دھواں، اور انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

جب چلتے چلتے رستے میں یہ گون تری ڈھل جاوے گی
اک بدھیا ،تیری مٹی پر، پھرگھاس نہ چرنے پاوے گی
یہ کھیپ جو تونے لادی ہے سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھی. پوت .جنوائی. بٹیا. کیا بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

یہ کھیپ بھرے جو جاتا ہے یہ کھیپ میاں بت گن اپنی
اب کوئی گھڑی یا ساعت میں یہ کھیپ بدن کی ہے کھیتی
کیا تھال .کٹورے. چاندی کے. کیا پیتل کی .ڈبیا ڈھکنی
کیا برتن .سونے. چاندی .کے کیا مٹی. کی ہنڈیا چینی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

پرآن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن
ملک غافل دل میں سوچ ذرا ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی، باندی، دائی، دوا کیا، بندا،.چیلا ،نیک چلن
کیا مندر ،مسجد ،تال ،کنوں، کیا کھیتی، باڑی،پھول چمن
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

جب مرگ پھرا کرچابک کو یہ بیل بدن ہا نکے گا
کوئی ناج ،سمیٹے گا ،تیرا کوئی گون سئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو خاک لحد کی پھانکے گا
اس جنگل میں پھر آہ نظیر اک پھنگا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائیگا جب لاد چلے گا بنجارا

(نظیر اکبرآبادی)

***********

ترتیب:فیصل شہزاد

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *