Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ایک تعارف

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ایک تعارف

انتخاب:آفتاب آل میراں

 

 عالم اسلام، محدث ، صوفی

پیدائش: قطب الدین احمد، 21 فروری1703، موضع پھلت، مظفر نگر ضلع، مغلیہ سلطنت، (موجودہ مظفر نگر، اتر پردیش، بھارت)

وفات: 20 اگست1762ء (59 سال)

وجہ وفات: طبعی وفات

رہائش: دہلی، مغلیہ سلطنتء(موجودہ بھارت)

قومیت: ہندوستانی

نسل: ہندوستانی

دور: اٹھارویں صدی عیسویں

شعبہ: دینیات

مذہب: اسلام

فرقہ: سنی اسلام

فقہ: حنفی

مکتب فکر: اشعری

شعبہ عمل: علم حدیث

کارہائے نمایاں: ترجمہ قرآن (بزبان فارسی)، الحجۃ  البالغہ، الفوز الکبیر

موثر: امام مالک، امام محمد بن اسماعیل بخاری

متاثر: شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی، حاجی شریعت اللہ ، الشیخ محمد ناصر البانی، ڈاکٹر اسرار احمد

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ایک نظر میں

مسلمانان ہند و پاک کے دورِ زوال کی اہم ترین شخصیت (پیدائش: 1703ء، انتقال:1762ء) برصغیر پاک و ہند میں جب مسلمانوں کا زوال شروع ہوا تو بہت سے لوگوں نے سنجیدگی کے ساتھ زوال کے اسباب پر غور کرنا شروع کیا ان لوگوں میں عہد مغلیہ کے مشہور عالم اور مصنف شاہ ولی اللہ(1703ء تا 1763ء) کا نام سب سے نمایاں ہے۔ مجدد الف ثانی اور ان کے ساتھیوں نے اصلاح کا جو کام شروع کیا تھا شاہ ولی اللہ نے اس کام کی رفتار اور تیز کردی۔ ان دونوں میں بس یہ فرق تھا کہ مجدد الف ثانی چونکہ مسلمانوں کے عہد عروج میں ہوئے تھے اس لیے ان کی توجہ زیادہ تر ان خرابیوں کی طرف رہی جو مسلمانوں میں غیر مسلموں کے میل جول کی وجہ سے پھیل گئیں تھیں لیکن شاہ ولی اللہ چونکہ ایک ایسے زمانے سے تعلق رکھتے تھے جب مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا تھا اس لیے انہوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بھی غور کیا اور اس کے علاج کے بھی طریقے بتائے۔

(ماخذ:آزاد دائرۃ المعارف ویکیپیڈٰیا سے )

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *