Home / شمارہ اکتوبر 2017 / شعبہ ادیان عالم ۔۔۔ کچھ گزارشات

شعبہ ادیان عالم ۔۔۔ کچھ گزارشات

مسلمانوں میں تقابل ادیان کی روایت الحمدللہ اچھی رہی ہے، بالخصوص سامی مذاہب کے حوالے سے اس موضوع پر بے تحاشا تحقیقی کام موجود ہے ۔ دیگر مذاہب پر بھی اہل علم قلم جوئی کرتے رہتے ہیں اور مختلف مذاہب پر اچھی تجزیاتی اور تقابلی کتب مل جاتی ہیں لیکن جو موضوع اب تک ہماری توجہ سے محروم ہے وہ ہے ’’مذہب‘‘۔

جی ہاں، تقابل ادیان سے ہٹ کر ’’مطالعہ مذہب ‘‘ بالکل ایک الگ شعبہ ہے جو ہمارے ہاں بالکل اجنبی حیثیت کا حامل ہے۔ مذہب کا بطور ایک آفاقی قدر کے مطالعہ ہمارے ہاں بالکل مفقود ہے اور نتیجتاً ہم میں سے اکثر تو اس بارے میں ہی بے خبر ہے یہ بھی دینیات کی کوئی شاخ ہے جہاں مذہب کی تشکیل ، تاریخ ، حدود و قیود اور اس کے تصورات پر تحقیق و بحث کی جاتی ہے۔بہت کم ہی لوگ ہیں جو اس شعبے سے واقف ہیں لیکن تحقیقی ذوق کے فقدان اور مسلم اہل علم کی عدم توجہی کی وجہ سے وہ اس موضوع پر لادین مفکرین کے ہی محتاج ہیں۔چنانچہ اس وقت اس موضوع پر براہ راست یا بالواسطہ جتنی بھی کتب اُردو زبان میں موجود ہیں انھیں پڑھ کر انسان اسی نتیجے پر پہنچتا ہے جو نہ صرف ہر قسم کی روحانیت اور تصور ِعبدیت سے عاری ہے بلکہ اپنی بنیاد میں خالصتاً خدا کے انکار پر مبنی ہے۔

آج کل مذاہب یعنی ’’ مطالعہ ادیان ‘‘ کے شعبے میں تحقیق کا چلن عام ہے ۔ ہر روز میرے انباکس میں تھیسز میں معاونت کے لیے درخواست موجود ہوتی ہیں اور روزانہ دسیوں نئے عنوانات سامنے آرہے ہیں جس میں عیسائیت، ہندومت، یہودیت وغیرہ پر تحقیق کی جار ہی ہیں۔ادیان عالم کے شعبے مختلف جامعات میں قائم ہو رہے ہیں۔ اس شعبے میں گہماگہمی ایک اچھی پیش رفت ہے لیکن یہ تحقیقی رجحان ایک مخصوص جہت تک محدود ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالانکہ مذہب کے ہر ایک موضوع پر از سر نو غور وفکر آج کا تقاضا ہے، عقیدہ، ثقافت، خدا،قبائلی مذہب، فلسفہ مذہب ایک وسیع دنیا ہے جو محققین کو دعوتِ التفات دے رہی ہے۔ بلکہ اس موضوع پر مسلمانوں کی جانب سے حق ہی اس وقت ادا ہوگا جب ذیلی موضوعات کے بجائے اصولی مباحث پر تحقیق و تنقید کا فروغ ہو۔

اس حوالے سے محققین کو کچھ ہمت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کچھ ’’کام کے‘‘ موضوعات کا انتخاب کرنا چاہیے۔ دوسری جانب جامعات میں بھی اس شعبے کو صحیح جہت فراہم کرنا ضروری ہے اور اس کے لیے ابتدائی تربیت انتہائی ضروری ہے۔ مذہب کے اصولی مباحث کے تمام موضوعات ایسے ہیں کہ ان پر روایتی نصاب کے بعد تحقیق بالکل ناقص ہوگی۔علومِ اسلامی کے علاوہ تاریخ، فلسفہ، بشریات اور نفسیات وہ علوم ہیں جن پر کسی حد تک گرفت کا ہونا اس موضوع کے محققین کے لیے ناگزیر ہے۔ اس لیے مطالعہ ادیان کے ڈسیپلن میں ان علوم کو کسی حد تک شامل کرنا لازمی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہماری جامعات مطالعہ ادیان کی مزید وسعت دینے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے اورہمارے محققین آیا اس بابت کچھ کام کرنے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ مگر مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اگر مطالعہ ادیان کے شعبے کو صحیح سمت دینی ہے تو ان معروضات پر غور کیجیے بصورت دیگر محض ڈگریوں کے اجرا کے لیے چند گنے چنے بلکہ ’’گھمے پھرے‘‘ موضوعات کے ساتھ اس شعبے کو چلانا ہے تو پھر یہ شعبہ بند کردیجیے کیونکہ ان مقاصد کے لیے قرآن اور سیرت کے مظلوم ترین شعبے پہلے ہی موجود ہیں۔

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *