Home / شمارہ فروری 2018 / شکر گزاری

شکر گزاری

تحریر: حافظ محمد شارق

آپ کسی دن یہ ارادہ کرلیتے ہیں کہ آج کا دن اپنے محبوب بچے کے لیے وقف کریں۔ آپ آفس کی چھٹی بھی کرتے ہیں اور صبح سویرے اٹھ کر اسے سمندر  پکنک پر لے جاتے ہیں۔ کہیں پارک میں گھماتے ہیں ، دوپہر کا شاندار لنچ ، پلے لینڈ میں جھولے جھلانے اور خوب موج مستیاں کرنے کے بعد رات ڈنر کرکے تھکے ہارے، گھر واپس لوٹتے ہیں۔ تھکن  سے آپ کا بدن چُور ہے لیکن آپ خوش ہیں کہ آج آپ نے بچے کو ڈھیروں خوشیاں دی۔ آپ بہت سی تھکن کے باوجود خود کو بہت مطمئن محسوس کرتے ہیں مگر عین اسی لمحےبچہ آپ سے ضد کرتا ہے کہ اسے آئس کریم کھانی ہے۔ آپ اسے کہتے ہیں کہ ہم کل آئس کریم کھانے جائیں گے مگر وہ بھی بضد ہے کہ آئس کریم لازمی کھانی ہے اور ابھی ہی کھانی ہے۔ آپ اس سے کل کا وعدہ کرتے ہیں لیکن وہ نہیں مانتا اور چیخنا شروع کردیتا ہے۔

وہ روتے دھوتے پورے گھر میں  شکایات کرتا  پھرتا ہے کہ آپ نے اسے آئس کریم نہیں کھلائی۔  وہ آپ کی دن بھر کی ساری  محنت  کو بھول کر صرف اس آئس کریم کے لیے رونا شروع کردیتا ہے۔ ایسی صورت حال میں عین ممکن ہے آپ کو انتہائی غصہ آجائے اور دل کرے اس ضدی بچے کو تھپڑ مار دیں ۔ یہ غصہ  اس لحاظ سے  جائز ہوگا کہ دن بھر گھمانے پھرانے کے عوض جس شکریے کے آپ مستحق تھے، اور جو خوشی آپ اس کے چہرے پر دیکھنا چاہتے تھے اس کے بجائے آپ کو یہ افسردگی، ناشکری اور شکوے شکایات سننے کو مل رہی ہے۔ ایسی ناشکری پر کون برہم نہ ہو؟

یہ تو محض ایک بچے کی بات ہے، مگر ہم تو بڑے ہیں۔ غور کیجیے کہ ہم زندگی میں بھی درحقیقت یہی ناشکری کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر انعامات کی بارش کی ہے، ہمیں اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھا ہے، اپنے ارد گرد نظر دوڑا کے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اللہ نے ہمیں کیا کچھ نوازا ہے اور کتنی محرومیوں سے محفوظ رکھا ہے۔ لیکن کوئی ایک خواہش ، کوئی ایک ضد مصلحتاً موخر یا منسوخ ہوجائے تو ہم اس ضدی بچے کی طرح رونا شروع کردیتے ہیں جسے آئس کریم نہیں ملی۔ ہم بے پناہ عنایتوں پر رب کا شکرگزار بننے بجائے وہ سارے اکرام، خوشیاں اور عنایتیں بھول کر صرف ایک ضد کے لیے شکایات کا مجسمہ بن جاتے ہیں ۔  یہ رویہ ناشکری ہے اور یہ اسی وقت معقول ہوسکتا تھا  کہ جب  واقعی  خدا نے ہمیں کچھ نہیں دیا ہو۔ لیکن  ہمارا مشاہد ہ یہ بتاتا ہے کہ اس رب نے تو سب سے زیادہ بڑھ کر ہمیں عطا کیا ہے ۔ اس صورت میں ہماری ناشکری اور شکایت پر مبنی رویہ پر قرآن کی ایک آیت سوال کررہی ہے۔

’’ اورتم اپنے پالنے والے  کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *