Home / شمارہ ستمبر 2017 / شیزوفرینیا کیا ہے؟

شیزوفرینیا کیا ہے؟

انتخاب:رابعہ ریحان

شیزوفرینیا ایک ذہنی بیماری ہے جو مریض کی سوچ، احساسات اور اعمال کو متاثر کرتی ہے۔ شیزوفرینیا کے مریض کے لیے حقیقی اور تصوراتی دنیا کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسے دوسروں کے سامنے اپنے جذبات کے اظہار میں دشواری ہوسکتی ہے۔ شیزوفرینیا کے زیادہ تر مریض جارح یا پرتشدد نہیں ہوتے لہٰذا وہ دوسروں کے لیے خطرہ تصورنہیں ہوتے۔ تاہم کچھ تشدد پر بھی اتر آتے ہیں۔ شیزوفرینیا کی وجوہ تاحال واضح نہیں۔ البتہ شواہد کی بنیاد پر اس بارے میں مختلف نظریات ضرور قائم کیے گئے ہیں۔

شیزوفرینیا کی وجوہات 

1۔ایک وجہ جینیاتی بتائی جاتی۔ یعنی یہ بیماری ایک سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی ہے۔

2۔شدید/طویل ٹینشن یا ذہنی یا جسمانی ٹارچر۔

3۔کسی حادثہ کا ہونا جیسے کسی کی موت، طلاق، ریپ۔

 4۔دماغ میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیاں بھی اس کا باعث بن سکتی ہیں۔

 5۔اس کی وجہ کوئی انفیکشن بھی ہوسکتی ہے۔

 6۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ ذہنی بیماری بعض خاندانوں میں نسل در نسل چلتی ہے۔ افراد اس بیماری کا شکار عمر کے اس حصے میں ہوتے ہیں جس میں ہارمونز اور جسم میں تیزی سے تبدیلیاں واقع ہو رہی ہوتی ہیں۔ یہ عموماًبلوغت میں قدم رکھنے کی عمر ہوتی ہے۔ یہ اس وقت بھی لاحق ہوسکتا ہے جب فرد کسی بڑے دباؤ کا شکار ہو۔ 16 سے 30 سال تک اس کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

7۔ سائنس دانوں کے مطابق شیزوفرینیا کے مریضوں کے دماغ میں کیمیائی عدم توازن پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے دماغ درست طور پر کام نہیں کر پاتا۔

 شیزوفرینیا کی علامات مختلف ہیں۔ ہر مریض میں یہ قدرے مختلف ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات آہستہ آہستہ بھی

ظاہر ہو سکتی ہیں اور اچانک بھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بیمار رہنے والا فرد نارمل ہو جائے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ اس کا شکار ہوجائے۔

شیزوفرینیا کی علامات 

شیزوفرینیا کے مریض میں یہ علامات پائی جاتی ہیں:

1۔کسی ایسی شے کو دیکھنا یا سننا جس کا دراصل وجود نہ ہو۔

 2۔ یہ احساس رہنا کہ کوئی اسے مسلسل دیکھ رہا ہے۔

3۔ بولنے اور لکھنے کا مخصوص اور نامعقول انداز۔

4۔ اہم مواقع پر لاپرواہی کا مظاہرہ کرنا۔

5۔ کسی عجیب حالت میں کھڑے، بیٹھے یا سوئے رہنا۔

 6۔جسمانی صفائی اور ظاہری شکل و صورت کا خیال نہ رکھنا۔

 7۔ معاشرے سے کٹے رہنا۔ اپنوں سے ناراض ہو جانا یا ان سے خوف زدہ رہنا۔

8۔عقیدہ پرستی کی انتہائیوں کو چھونا۔

9۔ شیزوفرینیا کا مریض التباس یا فریب کا شکار رہتا ہے۔ اس کے خیالات حقیقت سے دور ہوتے ہیں مثلاً اسے یہ خیال ستا سکتا ہے کہ اس کی جاسوسی کی جارہی ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اسے عجیب و غریب آوازیں سنائی دے سکتی ہیں یا اسے کوئی ایسی خوشبو محسوس ہو سکتی ہے جو موجود ہی نہیں۔

10۔ شیزوفرینیا کے مریض عموماً کسی ایک موضوع پر بات کرتے کرتے اچانک موضوع بدل لیتے ہیں۔

11۔شیزوفرینیا کے مریض بعض اوقات اپنی باتوں کو بار بار دہراتے ہیں۔

 12۔شیزوفرینیا کے مریض بلاوجہ پریشان ہو سکتے ہیں یا کسی معقول وجہ کے بغیر غصے میں آ سکتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اگر کسی فرد میں ان علامات میں سے چند بھی نمودار ہوں تو فوراً علاج یا مشورے کے لیے رجوع کرنا چاہیے۔ علاج جتنا جلد شروع کیا جائے گا مرض میں بہتری کا امکان اتنا بڑھ جائے گا۔ شیزوفرینیا جیسے ذہنی مرض کا علاج بسا اوقات طویل ہوتا ہے۔ اس میں ادویات دینے کے ساتھ کونسلنگ یا مشاورت بھی کی جاتی ہے۔ کوشش کی جاتی ہے کہ مریض کا اعتماد بحال ہو اور وہ آزاد فرد کی حیثیت سے دوبارہ بھرپور زندگی کی جانب لوٹ جائے۔

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *