Home / شمارہ ستمبر 2017 / صحت مند اور مثبت سیلف اسٹیم کیسے ؟

صحت مند اور مثبت سیلف اسٹیم کیسے ؟

سیلف اسٹیم کو اردو زبان میں خود توقیری ،خود شعوری اور تصور ذات   کے الفاظ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سیلف اسٹیم کا تعلق ہماری سوچ سے ہے کہ ہم اپنے آپ کو ،اپنی صلاحیتوں کو، خوبیوں کو خامیوں کو،  اپنی زندگی کے واقعات کو اور اپنے سے جڑی ہر چیز کو کس انداز سے دیکھتے ہیں ؟ نفسیات کی رو سے سیلف اسٹیم ایک اصطلاح ہے جسے کسی شخص کے اپنے بارے میں مجموعی تصور کےلیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ایک صحت مند تصور ذات کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بارے میں ایک متوازن ،معقول ،مثبت اور درست تصور رکھتے ہیں آپ کی اپنے بارے میں، اپنی صلاحتیوں کے بارے میں اچھی اورمثبت رائے ہےاور ساتھ ہی آپ اپنی خامیوں اور کمزوریوں سے بھی آگاہ ہیں۔مثبت اور صحت مند تصور ذات ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے خود انچارچ بن سکیں اور اسے چلا سکیں اور کسی ڈر کے بغیر اپنی غلطیوں سے بھی سیکھ سکیں ۔

صحت مند تصور ذات کو پروان چڑھانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنی تعریفوں کے پل باندھنے لگیں بلکہ یہ اپنے آپ کو عزت دینا اپنے آپ کو اپنی تمام خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنا اور اپنی قدر کرنا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی اس شخصیت کی قدر دانی ،محبت اور عزت کرنا ہے جو کہ آپ خود ہیں۔

حقیقی اور مثبت تصور ذات کو آئیڈیل سمجھا جاتا ہے کم رہ جانے والی یا ضرورت سے زیادہ بڑھ جانے والی عزت نفس دونوں کو کسی شخص کی شخصیت کے جذباتی اور معاشرتی پہلوؤں کے لیے خاص طور پر نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے اور ایک نارمل بات ہے کہ ایک شخص کبھی اپنے بارے میں اچھا محسوس کرے اور کبھی اپنے  بارے میں برا محسوس کرے۔ اگر یہ دونوں کیفیات مستقل طور پر یا کافی  عرصہ تک طاری رہیں اور آپ ان کیفیات سے نکل نہیں سکیں تو یہ  نارمل نہیں بلکہ بیمار ہونے کی علامت ہےیہ مضمون  انہی مستقل یا کافی عرصہ تک اکثر رہنے والی کیفیات کے بارے میں ہے۔

تصور ذات اس بات سے متعلق ہے کہ آپ اپنے بارے میں کیسا سوچتے ہیں ؟اپنی زندگی کے بارے میں اور ان تما م معاملات میں جو آپ سے متعلق ہیں کس طرح فیصلے کرتے ہیں ؟اور یہ کہ  آپ اپنے اردگرد کی دنیا کو کس طرح دیکھتے ہیں اور اس کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔جب سیلف اسٹیم ضرورت سے کم ہوگی یا ضرورت سے زیادہ ہو گی تو یہ سب کچھ متاثر ہوگا ان دونوں صورتوں  میں آپ کے لیے اپنے ارد گرد کی دنیا سے اور لوگوں سے معاملہ کرنا مشکل ہو جائے گا ۔زندگی کے فیصلے درست طور پر اور حقیقت پسندی کے ساتھ نہیں ہو پائیں گے اور نتیجتاً آپ کے مسائل و مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

خود توقیری کی کمی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس سے شخصیت تباہ ہو کر رہ جاتی ہے ۔ایسا فرد اپنے بارے میں منفی سوچتا ہے اس میں خود اعتمادی کی بھی کمی ہوتی ہے ۔وہ اپنے بارے میں مطمئن نہیں ہوتا سارے عیب اپنے  اندر نظر آنے لگتے ہیں ،اپنے آپ کو برا بھلا کہتا ہے ،اس بات کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوتا ہے کہ لوگ اسے برا  بھلا کہیں گے ،لوگوں کے سامنے آنے سے ہچکچاتے ہیں ۔

اس کے برعکس   خود توقیری منفی طور پر  بڑھی ہوئی ہو تو ایسا فرد اپنے بارے میں غیر حقیقی طور پر خوش گمان ہوتا ہے ،خود پسندی اور تکبر کا شکار ہوتا ہے،ہر چیز کا حقدار خود کو سمجھتا ہے ،لوگوں سے امتیازی سلوک کی توقع رکھتا ہے،اپنی ذات ،اپنی بات ،اپنا خیال بہت قیمتی لگتا ہے،دوسروں کی برائیاں کرنا،بے عزتی کرنا ،مذاق اڑانا،اگر کوئی ان کی بات سے اتفاق نہ کرے اختلاف کرے تو دشمنی پر اتر آنا ،انتقامی کاروائیاں شروع کر دینا ،نقصان پہنچانا اس کردار کی مثالیں ہیں۔

سوچنے کی سادہ تیکنیک کو استعمال کر کے اپنے تصور ذات کو بہتر بنایا جا سکتا ہےاس کے لیے مستقل مزاجی کی ضرورت ہے جب آپ کے ذہن میں اپنے بارے میں منفی سوچ آئے( منفی لو یا منفی ہائی ) تو اسے وہیں پر روک دیں اور اپنے آپ کو مثبت جملوں کے ذریعے پیغام دیں ،روزانہ کی بنیادوں پر اپنے آپ کو مثبت پیغام دیتے رہیں جب تک کہ وہ آپ کی سوچ کا حصہ نہ بن جائیں۔

مثال کے طور پر ” میں نے بہت غلط کیا اور میں کوئی کام ٹھیک نہیں کر سکتا/سکتی”جب آپ کا ذہن اس طرح کا پیغام دے تو  اس پیغام کو آپ ایک مثبت پیغام سے بدل دیں ”ہاں مجھ سے غلطی ہوئی لیکن میں نے اس سے سیکھا میں درست کام کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا /گی۔”

مثال کے طور پر ”مجھ سے بہتر یہ کام کوئی کر ہی نہیں سکتا ”اس منفی پیغام کو بھی آپ مثبت سے بدل دیں” ہاں لیکن مجھ سے کبھی کبھی غلطی بھی ہو جاتی ہے کیونکہ میں انسان ہوں ۔”

جب آپ اپنے بارے میں برا محسوس کرتے ہوں تو درج ذیل پیغامات  اپنے آپ کو دیں:

  • میں اپنی اور دوسروں کی عزت کرتا /کرتی ہوں۔
  • میں اس قابل ہوں کہ میری عزت کی جائے اور مجھ سے محبت کی جائے۔
  • میں اپنا اور دوسروں کا اچھا دوست ہوں ۔
  • اللہ تعالی نے مجھے بہت سی صلاحیتیں دی ہیں جن پر شکر کیا جانا چاہیے۔

اور جب آپ کا ذہن اپنے بارے میں مبالغہ آمیز حد تک خوش گمان ہو تو اسے بھی آپ حقیقت پر مبنی اور مثبت پیغامات دیں :

  • میں اور دوسرے لوگ ایک جیسے برابر ہیں ۔
  • مجھ میں خوبیاں ہیں لیکن ساتھ ہی کچھ خامیاں اور کمزوریاں بھی ہیں ۔
  • میں سبھی کام بہتر نہیں کر سکتا /سکتی ،ہاں کچھ کاموں میں میں بہتر ہوں لیکن پھر بھی مجھ سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔
  • میں ایک عام انسان ہوں اور دوسروں سے ہرگز بالا نہیں ہوں ۔
  • دوسرے سب لوگ بھی میری ہی طرح عزت اور محبت کے مستحق ہیں۔

خلاصہ یہ کہ جب آپ کا ذہن اپنے بارے میں برا محسوس کرتا ہو، اسے اپنے اندر عیب نظر آ تے  ہوں  تو اسے اپنی خوبیاں یاد دلائیں،اپنی صلاحیتیں یاد کرائیں ،اپنے اچھے کام یا د دلائیں ،اور اس کو مثبت پیغامات دیں ،بھلائی کے کاموں میں حصہ لیں تاکہ آپ اپنے بارے میں اچھا محسوس کریں ۔ اور جب آپ کا ذہن آپ کو اپنے بارے میں مبالغہ پر مبنی پیغامات دے تو بھی آپ اس کو مثبت اور حقیقت پر مبنی پیغام دیں اور اس کو حقیقت دکھائیں اور اپنی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنی کمزوریوں ، خامیوں اور  ناکامیوں  کو بھی یاد کریں۔اور اس کو بتائیں کہ آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہیں ،وہ اور آپ سب برابر ہیں ،آپ اور طرح کی صلاحیتیں رکھتے ہیں اور دوسرے لوگ کسی دوسرے کاموں میں ماہر ہیں ۔

اپنی ایک ڈائری بنائیں جس میں آپ اپنے مطابق کتب سے انٹرنیٹ سے ،رسائل سے مثبت پیغامات جمع کر کے لکھیں اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر پڑھتے رہیں جب تک کہ  وہ آپ کی ذات اور سوچ کا حصہ بن جائیں ۔

About ماہم یامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *