Home / شمارہ فروری 2018 / صحت نامہ

صحت نامہ

تحریر:ڈاکٹرفہد چوہدری

(MBBS, MPH, MCPS, FRSA, FRSPH, Diploma in Personal Nutrition)

ہم جو بھی کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم میں مختلف کیمیائی تبدیلیوں سے گزرنے کے بعد شکر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔  اس شکر یا شوگر کی مقدار  جونہی  آنتوں کے پاس  بلند ہوتی ہے تو  اپنے اپنے حصے کی طاقت،  شوگر کی صورت میں لینے کے لیے پورے جسم کا خون آنتوں کی طرف دوڑ پڑتا ہے  جس کے باعث دماغ اور دیگر اعضا کو خون کی فراہمی میں کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس  کمی کا اثر کھانا کھانے کے بعد غنودگی محسوس کرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔   یہ ہی وجہ  ہے کہ ہمیں کھانا کھانے کے بعد نیند آنے لگ جاتی ہے۔لیکن اس غنودگی کے علاوہ بھی ایک چیز  ہے جس کی طرف میں  آپکی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا۔

جب ہم  خوراک کو شوگر میں تبدیل کر چکے ہوتے ہیں اور وہ شوگر ہمارے خون میں شامل ہو جاتی ہے تو ہمارا لبلبہ حرکت میں آتا ہے ۔ لبلبہ انسولین  بنا کر خون میں پھینکتا ہے۔  اب انسولین کیا کرتی ہے کہ شوگر کو ہمارے پٹھوں میں جانے پر مجبور کرتی ہے۔ جیسے ہی شوگر پٹھوں میں گئی، خون میں شوگر کی مقدار کم ہو گئی اور لبلبہ انسولین بنانا کم کر دیتا ہے یا بند کر دیتا ہے۔ اس طرح ہمیں     روز  دن میں کئی بار خوراک سے طاقت مہیا ہوتی ہے۔

یہ ساری بات تو ہو گئی عام حالات میں جب سارا نظام ٹھیک چلتا رہتا ہے   اب اس وقت جب یہ سسٹم گڑبڑ کرنے لگتا ہے آئیے اس وقت کا بھی تھوڑا سا جائزہ لے لیں کہ اس وقت کیا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہم بات کریں گے کہ یہ سسٹم گڑ بڑ کرتا کیوں ہے؟

اس کے لیے ایک مثال لیتے ہیں، دیکھیں اگر میں آپ کو سارا دن کام پر لگائے رکھوں بغیر کسی وقفے کے تو؟ کیا آپ ایسا کام کرنا پسند کریں گے؟ کیا ایک ہی دن میں آپ اکتا نہیں جائیں گے اور  ایسے کام سے توبہ کر کے بھاگ  نہیں جائیں گے؟

اب ایک اور مثال لیجیئے۔ فرض کریں میں نے آپ کے دونوں ہاتھوں میں دو بالٹیاں پکڑا دی ہیں اور آپ نے کرنا صرف یہ ہے کہ ان کو اٹھائے رکھنا ہے۔ میں اس میں گاہے بگاہے پانی بھی ڈالتا رہوں گا لیکن کبھی کم  کبھی زیادہ اور یہ پانی  بالٹی کے پیندے میں ایک سوراخ سے نکلتا بھی رہے گا۔ آپ کا کیا خیال ہے آپ یہ بالٹی دونوں ہاتھ سیدھے کر کے کتنی دیر  اٹھا سکتے ہیں؟

اب آیئے بات کو پوری طرح سمجھتے ہیں۔ پہلی مثال ان لوگوں کی جو سارا دن منہ چلاتے رہتے ہیں  یا وقفے وقفے سے کھاتے رہتے ہیں اور معدہ کو بالکل آرام نہیں دیتے ، ان کا سارا نظام انہضام چلتا رہتا ہے  اور سب سے بڑی بات لبلبہ   بار بار  انسولین پیدا کر کے تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے  جس کے باعث ایک وقت آتا ہے کہ اگلی دفعہ شوگر کی سطح بلند ہونے پر لبلبہ انسولین یا تو بالکل نہیں بناتا یا پھر بہت زیادہ شوگر کی مقدار پر تھوڑی سی انسولین  بنتی ہے۔

اب دوسری مثال میں،  میں  نےیہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ  پٹھوں پر شوگر مسلسل زیادہ رہنے سے کیا اثر پڑتا ہے۔ اب دیکھیئے شوگر زیادہ رہنے کے باعث پٹھوں پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے جیسے آپ  نے دونوں بالٹیاں اٹھائی تھیں اور ان میں مسلسل پانی  کی آمد ورفت وہ شوگر کا پٹھوں کے اندر آنا اور استعمال ہونا ہے۔ آہستہ آہستہ پٹھے انسولین کو حساسیت کھو دیتے ہیں  یعنی تنگ آ کر انسولین کو لفٹ کروانا چھوڑ دیتے ہیں  جس کے باعث اگر اب لبلبہ انسولین پیدا بھی کرے گا تو پٹھے اسے قبول کرنے سے  ہی انکاری ہو جاتے ہیں۔ انسولین کو لفٹ نہ کروانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ خون میں شوگر کی سطح اب مسلسل زیادہ ہی رہنے لگ جاتی ہے۔

آپ نے دیکھا کہ کیسے وقت بے وقت کھانے کی عادت آہستہ آہستہ آپ کو بیماری کی طرف لے جا رہی  ہے۔  اس لیے وقت پر کھانے کی عادت ڈالیئے اور کبھی پیٹ بھر کر مت کھائیے ۔  انشاللہ اگلی بار اس بحث کو مزید جاری رکھیں گے۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *