Home / رمضان سپیشل / صدقہ و خیرات اور رمضان

صدقہ و خیرات اور رمضان

رمضان کے مہینے میں دیگر عبادات کے ساتھ صدقہ و خیرات میں بھی بڑا اضافہ ہو جاتا ہے۔ صدقہ و خیرات جتنی بڑی عبادت ہے، اتنی بڑی آزمائش بھی ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ نیت درست نہ ہو تو صدقہ و خیرات بھی ضائع ہو جاتے ہیں، لیکن نفس کے پاس اتنے خفیہ حیلے ہیں کہ آدمی کو اپنی نیت اور مقاصد کا مکمل ادراک بھی نہیں ہو پاتا اور وہ اپنے مال سے، اپنے صدقہ و خیرات سے  جہنم کا خریدار بن رہا ہوتا ہے اور اپنے طور پر یہ بھی سمجھ رہا ہوتا ہے کہ وہ جنت کما رہا ہے۔ ذیل میں چند ایسے ہی حیلوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ہمارے ایک دوست بڑے دین دار کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی فیکٹریوں کے مالک ہیں۔ صدقہ و خیرات بہت کیا کرتے ہیں۔ اپنے مزدوروں کو بھی نوازتے رہتے ہیں۔ ان کے مزدوروں کی گردنیں ان کے احسانات کے آگے جھکی رہتی ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنا خون پسینہ ایک کر کے بڑی وفاداری سےان کی ملوں کو چار چاند بھی لگاتے ہیں۔

میں نے ایک بار ان سے عرض کیا کہ:” جو پیسے آپ صدقہ کرتے ہیں ، اس کی  بجائے اپنے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیں، تاکہ وہ صدقہ و خیرات کے محتاج ہی نہ رہیں اور اس طرح ان کی عزتِ نفس بھی مجروح ہونے سے بچ جائے گی”۔ لیکن دین دار دوست کے اندر کا سرمایہ دار فور با ہر آ گیا ۔ انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ :”اس طرح مزدوروں کے نخرے بڑھ جائیں گے، مارکیٹ میں مزدوری کا ریٹ خراب ہو جائے گا۔”

ان کی اس بات کا اس کے علاوہ اور کیا مطلب ہے کہ مارکیٹ کے سرمایہ داروں نے مل کر یہ طے کر رکھا کہ مزدورں کو ایک خاص سطح سے زیادہ مزدوری نہیں دینی اور اس طرح ان کو کم مزدوری پر کام کرنے پر مجبور بنائے رکھنا ہے۔ پھر جب ان بے چاروں کو اپنے یا اپنے بچوں کے علاج، تعلیم یا شادی وغیرہ کے لیے پیسے درکار ہوں تو ان کو بھیک دے کر ان کو اپنا احسان مند بھی بنا لینا ہے اور پھر اس احسان مندی کے عوض ان کی وفاداری بھی خرید لینی ہے۔

آخر کوئی بھی شخص پورا دن محنت مزدوری کے بعد اتنے پیسے کیوں نہ کما سکے کہ بغیر کسی سے بھیک وصول کیے خوداری سے اپنا وقت سکون سے گزار سکے؟ ایک سروے کے مطابق پانچ افراد پر مشتمل ایک مزدور کے خاندان کو کم سے کم ماہانہ قریبًا 36 سے 40 ہزار روپے درکار ہیں۔ جب کہ حکومت نے کمال مہربانی سے موجودہ بجٹ میں مزدور کی کم از کم اجرت  13 سے 14 ہزار مقرر کی ہے۔ بقول شخصے، حکومت ایک مہربانی اب یہ بھی کر دے کہ ان غریبوں کو  اتنے پیسوں میں پورے مہینے کا بجٹ بھی بنا کر دے دے۔

مہذب ممالک میں مزدور کی کم سےکم مزدوری اتنی ہے کہ وہ چند ہی برسوں میں خوشحال ہو جاتا ہے۔ انگلینڈ میں ایک گھنٹے کی مزدوری  6.75 پاؤنڈ (تقریباً 1,000/- روپے پاکستانی) ہے، جب کہ پاکستان میں مزدوری کم ترین سطح پر ہے یعنی 4 پاؤنڈ (تقریباً 600/- روپے) ہے۔  اور آپ کو یہ جان کربھی حیرت ہونی چاہیے کہ ہمارا ملک صدقہ و خیرات کرنے میں دینا کے صف اول کے ممالک میں ہے۔ یہ ہے ہمارے معاشرے کا تضاد۔ یعنی لوگوں کو عزت سے روزی کمانے میں ہمیں کوئی دلچسپی نہیں، لیکن صدقہ و خیرات کر کے اور لوگوں کی گردنیں اپنے آگے جھکانے میں بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔

کیا جس صدقہ و خیرات کا صلہ احسان مندی اور وفاداری  کی محنت کی صورت میں وصول کر لیا گیا ہو اس کا کوئی صلہ آخرت کے لیے باقی رہ جاتا ہے؟ آپ اپنے بے چارے ملازمین اور ماتحتوں کو تو دھوکا دینے میں کامیاب ہوگئے، آپ خود فریبی میں بھی مبتلا ہیں، لیکن کیا خدا کو بھی دھوکہ دینے  میں کامیاب ہو جائیں گے؟

يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ (سورہ البقرہ، 9)

 وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔

لوگوں نے خدا کو نعوذ باللہ کسی سادہ مزاج بزرگ کی طرح سمجھ لیا ہے، جسے چند ظاہری اعمال سے دھوکا دیا جا سکتاہے۔ مت بھولیے کہ خدا آپ کے دلوں کا حال آپ سے بھی بہتر جانتا ہے:

اِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِأَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (سورہ الملک، 13-14)

وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ حالانکہ وہ باریک بیں اور باخبر۔

خدا کے ہاں صرف خالص عمل قابلِ قبول ہے، جو  صرف اس کی رضا کے حصول کے لیے انجام دیے جائیں، جن میں کسی قسم کی غرض اور بدلے کا شائبہ نہ پایا جائے، حتی کہ یہ بھی نہیں کہ کوئی آپ کا ممنون احسان ہو۔ ایسے خالص صدقے و خیرات کرنے والوں کے لیے خدا فرماتا ہے:

نیک لوگ (جنت میں) شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آب کافور کی آمیزش ہوگی۔ یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں لیں گے۔یہ وہ لوگ ہونگے جو (دنیا میں) نذر پوری کرتے ہیں، اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی۔ یہ مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے، اِس کے باوجود کہ خود اُس کے ضرورت مند تھے۔(اور اُن سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔ ہمیں تو اپنے رب سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا ۔ پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچا لے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا۔اور اُن کے صبر کے بدلے میں اُنہیں جنت اور ریشمی لباس عطا کریگا ۔وہ اُس میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ اُس میں دھوپ کی حدت دیکھیں گے، نہ سرما کی شدت۔ جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہوگی، اور اُس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑ لیں) ۔ اُن کے آگے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جا رہے ہونگے ۔ شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہونگے، اور ان کو (منتظمین جنت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی۔یہ جنت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سر و سامان تمہیں نظر آئے گا۔اُن کے اوپر باریک ریشم کے سبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے، ان کو چاندی کے کنگن پہنا ئے جائیں گے، اور ان کا رب ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابل قدر ٹھیری ہے۔ (سورہ الدھر، 5-22)

مشہور شاعر،جوش ملیح آبادی نے اپنی کتاب ‘یادوں کی بارات’ میں لکھا ہے کہ ان کے والد بڑے جاگیردار تھے، بڑے جری، کسی سے نہ دبتے تھے۔ ان کے ہاں ایک صاحب کبھی کبھی آتے تھے۔ جوش لکھتے ہیں کہ میں دیکھتا کہ میرے والد ان کے آنے پر  چپکے سے اپنے دراز سے ایک لفافہ نکال کر ان کے حوالے کر دیتے اور وہ چلے جاتے، والد صاحب ان کے سامنے شرمندہ سے محسوس ہوتے، نظریں اٹھا کر ان کی طرف نہ دیکھتے۔ والد صاحب کی یہ حالت دیکھ کر جوش کو  بڑی کوفت ہوتی کہ ان کے بہادر اور خود دار والد نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ انہیں اس شخص کے آگے شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور لفافے میں یہ کیا ڈال کر دیتے ہیں جیسے ان کا قرض دینا ہو۔ لکھتے ہیں کہ آخر  میں نے ایک دن ہمت کر کے پوچھ لیا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ والد صاحب نے کہا کہ وہ صاحب اپنے وقت کے بڑے نواب تھے، لیکن گردش ایام نے انہیں اس حال میں پہنچا دیا کہ دوسروں کی مالی مدد پر گزارہ کرنا پڑ رہا ہے۔ وہ جب میرے پاس مالی مدد لینے آتے ہیں تو مجھے ان کا وہ وقت یاد آتا ہے اور مجھے ان سے حیا آتی ہے۔

ایک سچے صدقہ کا اثر کچھ ایسا ہوتا ہے کہ صدقہ دینے کے بعد یہ بھی پسند نہیں آتا کہ کسی کی آنکھوں  میں اپنے لیے احسان مندی کی جھلک دیکھیں، اس سے سامنا ہونے پر اپنی ہی آنکھیں جھک جانی چاہییں۔ کسی انسان کو اس کی خودداری سے محروم ہوتے دیکھنا بڑی اذیت کی بات ہے، لیکن دوسرے کو اس کا احساس تب ہی ہو اگر اس میں انسانیت زندہ ہو۔

اگر اپنے ملازم یا ماتحت کی مدد کرنے کے بعد آپ کا رویہ  اس کے ساتھ معمول سے زیادہ بد اخلاق ہو جاتا ہے یا آپ کو اس سے یہ توقع ہونے لگتی ہے کہ اب وہ آپ کے کام میں پہلے سے زیادہ دل لگائے، تو جان لیجیے کہ آپ نے اپنے صدقہ و خیرات کا صلہ یہیں وصول کر لیا، اب نہ صرف یہ کہ خدا سے مزید کسی صلے کی امید نہیں رکھی جائے بلکہ خدا کا  نام  استعمال کر کے اپنے دنیوی فوائد سمیٹنے کے جرم کی جواب دہی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

درج ذیل حدیث میں یہی بتایا گیا کہ کہ خدا کا نام استعمال کرکے اگر اس طرح دنیوی فوائد اکھٹے کیے گئے ہوں گے تو صرف یہ ہی نہیں کہ اعمال اکارت جائیں گے، بلکہ اس جعل سازی کے جرم میں الٹا جہنم میں ڈال دیا جائے گا:

“۔۔۔ (قیامت کے دن) ایک آدمی لایا جائے گا جسے دنیا میں خوشحالی اور ہر طرح کی دولت سے نوازا گیا تھا اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں جتلائے گا وہ شخص ان نعمتوں کا اقرار کرے گا پھر اللہ تعالیٰ سوال کرے گا”میری نعمتوں کو پا کر تو نے کیا کام کئے؟“ وہ کہے گا ” یا اللہ میں نے تیری راہ میں ان تمام جگہوں پر مال خرچ کیا جہاں تجھے پسند تھا “ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا” تو نے جھوٹ کہا، تو نے صرف اس لیے مال خرچ کیا تاکہ لوگ تجھے سخی کہیں اور دنیا نے تجھے سخی کہا“ پھر( فرشتوںکو) حکم ہوگا اور اسے بھی منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا “۔ (صحیح مسلم، 1905)

About ڈاکٹر عرفان شہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *