عادات نبویﷺ

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کے پانے کی دعا اکثر کیا کرتے تھےاور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دعا اکثر فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔‘‘مسند احمد بن حنبل

 حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری تناول فرمانے میں تاخیر کرتے یعنی طلوع فجر کے قریب سحری کرتے تھے۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے روزہ جلدی افطار کرنے اور سحری میں تاخیر کا حکم دیا گیا ہے۔‘‘السنن الکبری

جب رمضان المبارک کا اخیر عشرہ ہوتا تو رسول اللہ ﷺ کمر کس لیتے اور شب بیداری کرتے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی جگا دیتے ۔(تاکہ وہ بھی ان راتوں کی برکتوں اور سعادتوں سے حصہ لیں ۔)

صحیح بخاری و صحیح مسلم ،معارف حدیث

جب تک روئیت ہلا ل کا ثبوت نہ ہو جائے یا کوئی عینی گواہ نہ مل جائے ،آپ ﷺ روزے شروع نہ کرتے ۔(زاد المعاد)

رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز سے پہلے چند تر کھجوروں سے روزہ افطار فرماتے تھے اور اگر تر کھجوریں بروقت موجودد نہ ہوتیں تو خشک کھجوروں سے افطار فرماتے تھےاور اگر خشک کھجوریں بھی نہ ہوتیں تو چند گھونٹ پانی پی لیتے تھے۔(جامع ترمذی ،معارف الحدیث)

رسول اللہ ﷺ جب افطار فرماتے تھے تو کہتے تھے :ذَھَبَ الظَّمَا ءُ وَابْتَلَّتِ العُرُوقُ وَ ثَبَتَ الاَجْرُ اِنْ شَآ ءَ اللہُ۔

(سنن ابی داود معارف الحدیث)

  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ جواد ( سخی ) تھے اور رمضان میں ( دوسرے اوقات کے مقابلہ میں) جب  جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتے بہت ہی زیادہ جود و کرم فرماتے ۔ جبرائیل علیہ السلام رمضان کی ہر رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا دورہ کرتے ، غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بھلائی پہنچانے میں بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ جود و کرم فرمایا کرتے تھے ۔(صحیح بخاری )

About ماہم یامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *