Home / شمارہ اگست 2016 / عبادت اور توحید

عبادت اور توحید

عبادت ایک  بڑا جاندار لفظ ہے اور اگر میں یہ کہوں کہ دین کی دو چار  اہم ترین اصطلاحات  میں سے ایک ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ لفظ  وسعت سے بھرپور لفظ تھا، بہت سی چیزیں اس میں شامل تھیں، بلکہ یوں کہیے کہ جس طرح دنیا پر آسمان چھایا ہوا ہے اسی طرح لفظِ عبادت ایک چھائی ہوئی چیز تھی، اس کے بعد عبادت   کی اصطلاح محدود ہونی شروع ہوئی یہاں تک کہ مسجد کی چہاردیواری میں لا کر اسے قید کر دیا گیا، یہاں عبادت کے کیا معنی ہو گئے؟ نماز روزہ،  زیادہ ہوا تو بیس پچیس روپے کی ایک آدھ تسبیح خرید لو، گھر میں یا مسجد میں کچھ تلاوت کر لیا کرو۔۔۔ وہ ساری چیزیں جو اس لفظِ عبادت میں تھیں، سمیٹ دیا ان سب کو۔  یہ لفظ سمٹ گیا مسلمانوں کے اندر۔ لیکن  ذرا دیکھیں کہ کیا کیا چیزیں شامل ہیں اس لفظِ عبادت میں؟

غور و فکر کریں تو ایک بڑی اچھی مثال  سمجھ میں آتی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ چیزوں کو اپنی اپنی جگہ رکھا جائے۔ میں  ایک زندہ جسم کو عبادت   سے تعبیر کرتا ہوں۔ یعنی یہ سمجھ لیں کہ عبادت برابر ہے زندہ وجودکے۔

عبادت  =   زندہ وجود

اگر ایک انسان زندہ ہے اور عبادت اپنی اصلیت کے ساتھ ہو تو یہ دونوں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ اب انسان کے جسم کو سمجھ لیجیے تو عبادت بھی سمجھ میں آجائے گی۔ انسان کے جسم میں ایک بڑی بنیادی چیز ہوتی ہے، اسے کہتے ہیں روح یا جان۔ یہ ہے تو انسان کا وجود زندہ ہے نہیں ہے تو سب  ہی کچھ ہے مگر انسان نہیں ہے۔  گیا وہ، اب دفنا دو اسے مٹی  میں ۔ اب اس جگہ ایمان، دین و شریعت یا اعمالِ صالحہ میں  سےکون سی چیز آتی ہے ؟ عبادت کے کون سے اجزا اس جگہ پر ہوتے ہیں؟ اللہ کی خشیت اللہ کی محبت۔ یہ ہے عبادت کی جان اور اس کی روح۔ جس طرح انسان کے جسم کی اس کی روح کا مقام ہے عین  یہی مقام  ہے عبادت میں  اللہ کی خشیت کا ۔

وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّـهِ

اور ایمان والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں

اللہ کی محبت، دل میں امنڈتا ہوا ایک والہانہ جزبہ۔ میں اپنے رب سے ملاقات کروں۔ میں اپنے رب کو دیکھوں۔ میں اپنے رب کی طرف بڑھوں۔ میں کب اپنے رب سے ملوں؟ اللہ کے بندو! مومن کی تو سب سے بڑی آرزو ہے یہ۔۔ کہاں ہو آپ لوگ؟ کیا سوچا ہے آپ لوگوں نے؟ کیا کیا ہے آپ لوگوں نے آج تک؟ کیا محنت کی ہے ؟  کیا آپ پر آج تک  دو  راتیں ایسی گزری ہیں کہ جب آپ نے معلوم کیا ہو کہ  تڑپنے کی چیز کیا ہے،  آپ تڑپ اٹھتے کہ ایمان کی  وہ پہلی چنگاری وہ آتش کیا ہے جو میرے اندر لگنی چاہیے تھی۔

خدا تجھے کسی  طوفان سے آشنا کر دے

کہ تیرے بحر  کی موجوں میں اضطراب نہیں

کیا کریں گے آپ لوگ؟  نماز پڑھ کر گھروں کو چلے جائیں گے،  تلاوت کر کے بخش دیں گے، رمضان کے بعد اللہ و رسول کو اٹھا کر کونے میں ڈال دیں گے؟ نہیں،  چیک کریں اپنے آپ کو۔ عبادت کی اصل جان اللہ کی محبت ہے، اللہ کی خشیت ہے، اس کی انابت ہے۔  یہ سب ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ ایک رْخ سے  دیکھو تو انابت ہے، دوسرے رْخ سے وہ محبت ہے، تیسرے سے دیکھو تو وہی خشیت ہے۔ ایک اور رْخ سے اللہ کا شکر  اور اس پر  توکل ہے۔  یہ ہے   تو پھر جان ہے عبادت میں ۔

دوسری چیز،  جو انسان کے جسم میں روح کے بعد ہوتی ہے، وہ ہے انسان کا  نفس۔ یہاں  کون سی چیزیں عبادت کے اندر شامل ہوتی ہیں یا عبادت سے تعلق رکھنے والے  دین کے  کون سے اجزا یہاں نفس کے اندر پائے جانے چاہییں؟  امانت – صدق – اخلاص – عجز و انکسار – اخلاقِ حسنہ – وہ کیسے؟ آپ دیکھیے کہ  جتنی خرابیاں نفس کی ہوتی ہیں وہ انہی چیزوں کے بدلے ہوئے نام  ہیں۔ جیسے خیانت ۔۔ امانت کے بجائے خیانت لیجیے۔ نفس کے ساتھ اس کا الحاق کیجیے۔صدق یعنی سچائی  کی جگہ کزب یعنی جھوٹ  کو دیکھیے۔  آپ دیکھیے کہ نفس کی جو برائیاں ہوتی ہیں  میں نے صرف ان برائیوں کے مقابلے میں جو نیکیاں آتی ہیں  ان کے نام رکھ دیئے ہیں آپ کے سامنے۔ آپ  دیکھیں کہ وہ ہیں عبادت کا نفس۔

پھر ایک ہوتا ہے انسان کادَم یعنی سانس ۔  انسان کے جسم میں  بڑی مرکزی چیز ہے  روح اور جان ، اس کے بعد جس  چیز کا گھیرا ہے وہ ہے اس کا نفس، پھر اسے  جس چیز نے گھیرا ہوا ہے وہ ہے اس کا سانس۔ یعنی دَم۔ یہ ہے اللہ کا ذکر، قرآن مجید کی تلاوت، اور آخرت کی فکر۔ اس طرح بندہ مومن چل پھر رہا ہے تو جیسے سانس لے رہا ہے ویسے اللہ کو یاد کر رہا ہے۔ گویا اللہ کو یاد کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔ جب تک اس کے اندر سانس ہے تب تک وہ آخرت کی فکر میں ہے کہ اسے رَب کے آگے جوابدہ ہونا ہے۔

پھر انسانی  جسم  میں ہڈیوں کا نظام ہے اور ان پر گوشت ۔ ان ہڈیوں  پر پورا انسان کھڑا  ہے۔ یہ ہے اقامتِ صلوٰۃ ایتاء ذکوٰۃ صومِ رمضان حج۔  ہڈیوں کا جو مقام ہوتا ہے بالکل وہی ان عبادات کا ہے۔ وہ کیسے؟ غور کیجیے،  انسان کا گوشت ہے حقوق العباد۔ اس میں والدین کے حقوق، پڑوسیوں، قرابت داروں کے حقوق، الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو پیڑ پودوں تک کے حقوق بتائے ہیں۔ یہ حقوق العباد ہیں تو صوم و صلوٰۃ ہے۔ ورنہ بِنا گوشت کی ہڈیوں والا معاملہ ہے۔ کہ جب گوشت ہڈیوں سے لٹک جاتا ہے تو انسان ایک نیم مردہ  وجود  کی مانند ہوتا ہے۔ یعنی حقوق العباد ہیں تو صوم و صلوٰۃ بھی ہے۔

پھر ایک چیز ہے جِلد۔ یعنی یہ اوپر والی جِلد۔ یہ ہے لوگوں کے ساتھ معاملات۔  دوسرے لوگ  آپ پر نگاہ ڈالتے ہی پہلے آپ کی جلد دیکھ کر  ہی شناخت کرتے ہیں کہ آپ گورے ہیں یا سانولے؟ آنکھیں ناک کان بال سَر چہرہ کیسا ہے، آپ زیادہ حسین ہیں کہ کم؟  یعنی جیسے اس کی ظاہری جلد کو دیکھ کر اس کے ظاہری حسن کا فیصلہ بلکہ اس کی شناخت ہوتی ہے بالکل اسی طرح اس کے  بندہ مومن ہونے کا فیصلہ  کیا جاتا ہے، بلکہ کیا جانا چاہیے۔ان معاملات میں آپ کا وعدہ پورا  کرنا، امانت  داری، سچائی و دیانت داری، عدل و انصاف ، درگزر،  جیسے معاملات شامل ہیں۔

یہ ہیں وہ ساری چیزیں جن سے عبادت کی روح یعنی جان سمجھ میں آتی ہے۔  پورا دین اس عبادت کے اندر ہے۔ اب آپ اس  پیرائے بیان کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن مجید پڑھیئے گا  اور سنتِ رسول کا مطالعہ فرمایئے گا تو آپ کے سامنے آئے گا کہ

لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا ٱللَّـهَ

کا مطلب یہ ہوا کہ ان ساری چیزوں اور اس  پورے کے پورے نقشے میں اللہ رب العالمین کے دیئے ہوئے نقشے کو معیار بنایا جائے۔

ہاں البتہ ایک چیز رہ جاتی ہے وہ ہے بشری لغزش۔ اور یہ ممکن ہوتی ہے مومن سے بھی۔ بندہ مومن بھی غلطیاں کر بیٹھتا ہے۔ لیکن معیار نہیں بدلتا اس کا۔ مومن غلطی کرتا ہے تو ٹِھٹک جاتا ہے۔ فوراً اس کا دماغ  کہتا ہے کہ  مجھے یہ کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ کیوں؟ اس لیے کہ معیار بدلا نہیں اس کا۔ وہ اپنی غلطی کو غلطی سمجھ رہا ہے۔ اس کی گنجائش ہے۔  اللہ اس کو معاف فرماتا ہے، کہ اسے اپنی غلطی کا احساس بھی ہے اور اعتراف بھی۔اس کا  ذکر و فکر ہو ،صبر و  شکر ہو، توکل  ہو، معاملات ہوں، صوم و صلوٰۃ ،  قرآن و سنت کا مطالعہ،  ان سب میں  ضعیف احادیث اور محض بزرگوں سے منسوب باتیں اور وظیفے نہ ہوں۔الغرض،  جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے بتا دیا جزوی طور پر بھی ان میں ترمیم کے لیے تیار اور راضی نہ ہونا۔ یہی معیار ہے بندہ مومن کے لیے۔۔

یہ کہلاتی ہے توحید !

About ساجد محمود

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *