Home / شمارہ ستمبر 2017 / علمائے حق اور خونی شدت پسندی کا بیانیہ

علمائے حق اور خونی شدت پسندی کا بیانیہ

 مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کچھ شدت پسندوں نے اپنی مرضی کے گستاخوں کو قتل کرنے کے لیے شعلہ بیانی کی آگ لگا رکھی ہے اور سادہ لوح افراد ان کے ہاتھوں مشتعل ہو کر دوسروں کو قتل کر رہے ہیں، اس سے زیادہ بڑا المیہ یہ ہے کہ ہر فرقے کے مستند اور معتبر علما ہر بار ایسے مواقع پر اپنے اپنے فرقوں کے ان شدت پسندوں کی کھلی مذمت کرنے کی بجائے مصلحت کی چادر اوڑھ کر اپنے حجروں میں جا بیٹھتے ہیں۔

ہر ایک نے اپنے اپنے مسلک والوں کو قاتل بننے کا جواز دے رکھا ہے، لیکن خود مقتول بننے پر تیار بھی نہیں۔ حالانکہ جب طلب آپ نے پیدا کر دی ہے تو رسد تو مہیا کرنی ہی ہو گی۔

 امت میں فسادیوں کا پیدا ہونا کوئی اچنبھا نہیں، یہ تو ہوتے ہی ہیں، امت کی تباہی تب ہوتی ہے جب اصلاح کے علم برادر مصلحت شعاری کا شکار ہو جائیں، وہ جن کی آواز سنی جاتی ہے، مانی جاتی ہے، وہ گنگ ہو جائیں۔

 یہ مسئلہ دوسروں کے قاتلوں کی مذمت سے نہیں، اپنے اپنے مسلک کے فسادیوں کی مذمت سے حل ہوگا۔ مگر علمائے حق پاپولر بیانئے کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی حیثیت عرفی کو داؤ پر لگانے کو تیار نظر نہیں آتے۔ حتی کے ان کی نجی محفلوں میں ان کی طرف سے ایسے فسادیوں کی مذمت کی خبر بھی آ جائے تو اپنی بات ہی اپنانے کو تیار نہیں ہوتے۔

علمائے حق کا ذکر سن سن کر ہم ترس گئے ہیں کہ کاش کبھی کوئی علمائے حق نظر آ ہی جائیں۔ یہ حسرت کہیں رہ ہی نہ جائے۔

About ڈاکٹر عرفان شہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *