Home / خواتین اسپیشل / عورت گر کامل ہو جائے

عورت گر کامل ہو جائے

ابو موسی سے روایت ہے کہ

    ”نبی کریم ﷺ نے فرمابا کہ مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے اور عورتوں میں سے کامل نہیں ہوئی مگر مریم بنت عمران اور آسیہ جو فرعون کی بیوی ہے۔“ (ترمذی)“

اللہ نے اس دنیا میں عربوں کھربوں انسان پیدا کئے اور ان کی ہدایت کے لیے مختلف زمانوں میں  ایک لاکھ  چوبیس ہزار  انبیاء   بھیجے  اور تمام انبیاء  مرد تھے اور اللہ کے تمام  پیغمبر  ہی کامل تھے۔  ان پر اس دنیا کو بدلنے کی ذمہ داری تھی  اور اللہ رب العزت کی ذات بہتر جانتی ہے کہ شاید انبیاء کے علاوہ بھی کوئی کامل مرد اس دنیا میں آیا ہو۔ لیکن  دنیا میں  عورتیں دو ہی کامل گزری ہیں،  حضرت مریم اور حضرت آسیہ۔ حضرت  مریم کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا  اور حضرت آ سیہ کے ساتھ  جو مرد      (فرعون) تھا وہ دنیا کا  برا ترین انسان تھا اور اس کا ہونا سب سے بڑا  امتحان تھا۔ لیکن  فرعون کی برائی ان کے ایمان  میں کمی  نہیں کر سکی کیونکہ حضرت آسیہ کامل تھی۔

آج کے دور میں ہر مرد  اپنی بیوی کی تمام قربانیوں، محبت اور وفا داری کو پس پشت ڈال کے چند خامیاں ، جو کے با حیثیت انسان  سب میں ہی ہوتی ہیں ہر جگہ تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ تو  مردوں کو  یہ بات سمجھنی چاہیے کہ  عورت اگر کامل ہو جائے تو اسے مرد کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اسے اپنی کچھ کمزوریوں کے لیے ہی ایک ساتھی چاہیے ہوتا ہے جو اس کا محافظ اور سہارا بنے۔

آج کل ہر انسان نا خوش نظر آتا ہے، ہر گھر میں لڑائی جھگڑا  چل رہا ہے  کیونکہ  مرد اور عورتیں دونوں ہی اپنی  ذات  وخیالات میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ایک طرف عورت مرد کی برابری کا دعوی بھی کرتی ہے اور اسپیشل پروٹوکول  بھی چاہتی ہے۔ دوسری طرف مرد برتری بھی چاہتا ہے اور  ہر فرض اور ذمہ داری سے چھٹکارا بھی چاہتا ہے۔ یہ ہے دوہرا معیار جو آج کے دور  کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن اللہ نے مرد کو برتری دی ہے  یہ مان لینا چاہیے اور برتری اس لیے دی کہ ذمہ داریاں زیادہ رکھی گئیں۔  کیونکہ وہ عورت کا محافظ ہے  اور اس لیے کہ وہ عورت پہ مال خرچ کرتا ہے۔ہمارے معاشرے میں شاید ہی کوئی مرد ایسا ہو جس کو یہ یاد نہ ہو کہ  حدیث میں ہے کہ اگر اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ جائز ہوتا تو عورت کو حکم ہوتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ بڑے بڑےمقام پانے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں۔

 شادی کے بعد عورت پہ صرف ایک گھر کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن مرد پہ اپنے بیوی بچوں کے  ساتھ ما ں باپ کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ مرد کو شہریت پابند کرتی ہے کہ  عورت کے لیے الگ گھر کا بندوبست کرے اور  اس کی ضروریات کا خیال رکھے،  اور اس کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی خدمت کرے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کے مرد کو صرف اتنا سمجھ میں آیا کہ اسے عورت پہ برتری حاصل ہے۔  اس برتری  کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی اور  اسی لیے  ان ذمہ داریوں سے چھٹکارا  چاہتا ہے جو اس کی برتری کی وجہ ہیں۔  عورت کا الگ گھر کا مطالبہ اسے غیر شرعی لگنے لگا۔  اپنے ماں باپ کی خدمت بھی اس کی بیوی کی ذمہ داری بن گئی  اور اس بات پہ شکر گزاری تو دور الٹا الزامات بھی لگنے لگتے ہیں کہ میری بیوی ماں باپ کا خیال نہیں رکھتی ، ان کا احساس نہیں کرتی۔ بیوی  کے دل میں احساس آئے گا بھی کیسے جب اس نے شوہر کو اپنے ماں باپ کا احساس کرتے اور خیال کرتے دیکھا ہی نہیں۔ اور ماں باپ بھی یہ نہیں سوچتے کہ جو فرض اپنی اولاد کا تھا وہ نہیں کر رہے  تو جو کر رہی ہے اس کا شکریہ ادا کریں بلکہ الٹا اسے کے خلاف پروپیگنڈہ  شروع ہو جاتا ہے۔

مرد کے مقام کی وجہ اس کا مال خرچ کرنا ہے لیکن آج کے دور میں وہ فارغ لوگ جو کچھ نہیں کرتے  اور  عورت  خود کما کے گھر  چلاتی ہے جو کہ اس کی ذمہ داری نہیں ہے اور نکاح جیسے مقدس فریضے میں بھی  ان کی نظر جہیز پہ رہتی ہے اور لمبے چوڑے مطالبے کرتے ہیں۔  ان سب کے باوجود وہ چاہتے ہیں کے عورت ان کی عزت کرے۔

دنیا میں جنت صرف دو رشتوں سے جوڑی جاتی ہے ماں اور شوہر۔ سب  ہی جانتے ہیں کہ ماں کا مقام اتنا بڑا کیوں ہے کیونکہ وہ اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کے لیے وقف کر دیتی ہے۔  جیسے ہی ایک عورت ماں بنتی ہے  اس کا کھانا پینا، سونا جاگنا، سکون، خوشی، دکھ سب اس  کے بچے سے جڑ جاتا ہے تو بہت معذرت کے ساتھ شوہر کے پاس جنت صرف حکم چلانے کی نہیں ہوتی۔ا نہیں بھی عورت کے سکون اور خوشی کے لیے  اس سطح پہ جا کے خیال رکھنا ہو گا  تب ملے گی جنت۔

آج کل  کا مشہور جملہ، ڈراموں سے لے کر حقیقی زندگی تک کہ ایک اچھی بیوی کو پتا ہونا چاہیے کہ اس کا شوہر کا موڈ کیسا ہے اور اس کے مطابق بات کرنی چاہیے تو جناب ایک  اچھے شوہر کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ بیوی کا موڈ کیسا ہے اور اس کے مطابق ہی بات کرنی چاہیے۔ عورت کوئی مشین نہیں ہے کہ اس کا ریموٹ مرد کے ہاتھ میں ہے  اس کی مرضی سے چینل بدل جائے۔ عورت  فطرتا ًمرد سے زیادہ حساس ہوتی ہے اس لیے اس کے موڈ کا خیال رکھنے کی  بھی اتنی ہی  ضرورت ہوتی ہے۔

شوہر مجازی خدا ہے  یہ تو سب کہتے ہیں لیکن کبھی یہ سوچا ہے کہ اس مجازی خدا  کا رویہ اپنے حقیقی خدا کے ساتھ کیا ہے؟ اللہ سب کچھ  دیتا ہے لیکن پھر بھی انسان  نا شکری کرتا ہے  لیکن خدا اپنا فضل بندوں سے روکتا نہیں ہے۔ لیکن  شوہر کے لیے مجازی خدا کہلانا آسان ہے  لیکن  کچھ دے کے نا شکری برداشت کرنا مشکل ہے۔  مرد کہتے ہیں مذہب اجازت دیتا ہے کہ  شوہر بیوی پہ ہاتھ  اٹھا سکتا  ہے۔  مذہب ایسے حالات میں اجازت دیتا ہے  جب عورت شوہر سے بے وفائی کر رہی ہو  تو بھی مرد مسواک جیسی چیز سے مار سکتا ہے اور یہ مار عورت کے لیے ایک بہت بڑی  تنبیہ ہے۔ تو ذرا سوچیں مرد کو کتنا  نرم مزاج،  محبت کرنے والا  اور خیال رکھنے والا ہونا چاہیے کہ عورت  اتنی بڑی غلطی کر ے  اور صرف ایک مسواک کی مار  اسے ایک  تنبیہ لگے۔  لیکن یہ تنبیہ اس معاشرے کے لیے نہیں ہو سکتی جہاں محض کھانے میں نمک  تیز  ہونے پہ یا جہیز کم  لانے پہ  عورتیں زندہ جلا دی جاتی ہوں۔

اس سب سوالات کا جو آج کی عورت مرد سے پوچھ رہی ہے یہ ہو گا  کہ ہم فرشتے نہیں ہیں غصہ آ جاتا ہے۔اس جواز کو مانا جا سکتا ہے  لیکن  اتنا سمجھنے کی ضرورت ضرور ہے کہ آپ  انسان ہیں تو عورت بھی انسان ہے  اور انسان ہونے کے ناطے غلطیاں دونوں طرف سے ہوں گی اس لیے ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھ جائیں۔ زندگی خوبصورت ہو جائے گی۔

مردوں کے اس معاشرے میں عورت کو ڈرایا جا سکتا ہے  لیکن یہ یاد رکھیں ایک ڈری سہمی ہوئی عورت کی گود میں کبھی محمد بن قاسم اور سکندرِ اعظم پروان نہیں چڑھتے۔  ایک عورت پہ رعب ڈالنے کی خواہش میں اپنی نسلوں کو  تباہ  نہ کریں۔ ر شتوں کو  محض مردانگی اور  انا کی بھینٹ نہ  چڑھائیں۔  یہ ایک لا حاصل  جنگ ہے اپنے آپ سے بھی اور دوسروں سے بھی۔ اس جنگ کے آخر میں تنہائی  اور پچھتاوؤں کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔  بہت سی غلطیاں، جن کو بنیاد بنا کر رشتے دعوؤں پہ لگا دیے جاتے ہیں۔ انہیں صرف ایک مسکراہٹ سے بھی  ختم کیا جا سکتا ہے۔

رومانہ گوندل

About رومانہ گوندل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *