غزل

شاعر: محسن نقویؔ

آدمی جلتا دیا ہے اور بس!!

سانس آوارہ ہوا ہے اور بس!!

موت بے آفاق صدیوں کا سفر

زندگی زنجیر پا ہے اور بس!!

نارسائی ، اس قدر برہم نہ ہو

لب پر اک حرف دعا ہے اور بس!!

اور ،میں روٹھا ہوں اپنے آپ سے

اور ،تو مجھ سے خفا ہے اور بس!!

یا نگاہوں میں ہے رنگوں کا ہجوم

یا ترا بند ِ قُبا ہے،اور بس!!

دل مثال ِ دشت بے نقش و نگار

اس میں ترا نقش پا  ہے  اور بس!!

شام غم میں تیرے ہاتھوں کا  خیال !

شعلہ رنگِ حنا ہے اور بس!!

اس کے میرے فاصلے محسن ؔ نہ پوچھ

رنگ سے خوشبو جدا ہے اور بس!!

About محسن نقویؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *