Home / شمارہ اگست 2017 / فبای الاء ربکما تکذبان

فبای الاء ربکما تکذبان

’ مما… میرے پاس کوئی کپڑے نہیں ہیں پہننے کو اور آپ ہر روز کہیں نہ کہیں جانے کا پروگرام بنا لیتی ہیں یا گھر پر کسی کو بلا لیتی ہیں !‘‘

’’ میرا اسکول اس قدر فضول ہے پاپا، سرکاری اسکولوں سے بڑھ کر گھٹیا،  نہ اساتذہ اچھے ہیں ،  نہ دوسرے طلباء،  نہ اسکول کے کھیل کے میدان نہ ہی ماحول ‘‘

’’ یہ بھی کوئی گھر ہے، گھر تو دیکھیں کمال صاحب کا، کیا کمال کا گھرہے، ہمارے گھر کی تو کوئی چیز اس قابل نہیں کہ ہم کسی کو اپنا گھر دکھا بھی سکیں اور کمال صاحب کی بیگم تو فخر سے ہر آئے گئے کو اپنے گھر کا پورا دورہ کرواتی ہیں ‘‘

’’ میرے شوہر تو اتنے کنجوس ہیں، ایک میرے بڑے بہنوئی ہیں، کوئی دیالو سے دیالو ہیں، میری چھوٹی بہن کا میاں تو پورا ہیرو لگتا ہے اور ایک میرے میاں ہیں کہ ماتھے سے تیوری ہی نہیں ہٹتی!!! ‘‘

’’ میری سہیلی کے ماں باپ اتنے کھلے دل کے ہیں اور ان کے گھر کا ماحول بھی آزاد ہے، ہمارا گھر جیل کی طرح ہے، ماں باپ جلادوں جیسے ظالم، پابندیوں کی انتہا ہے، سوچوں پر بھی پابندی ہے ‘‘

’’ ملازمت تو میرے دوست کی ہے، باس مہربان ہے ، ماتحت اس کا اشارۂ ابرو سمجھتے ہیں اورایک میرا دفتر ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے‘‘ ، ’’ کیا ذائقہ ہے میرے پڑوسی کی بیوی کے ہاتھ میں، ایک میری بیوی ہے کہ جس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا میں ہر روز سزا کے طور پر کھاتا ہوں،  نہ اسے بات کرنے کی عقل ہے نہ مسکرانے کا طریقہ آتا ہے،  نہ پہننے اوڑھنے کا، جانے کہاں  سے یہ بد مزاج،  بد شکل،  بد روح مجھے چپک گئی ہے ‘‘ ،’’ میری اس کھٹارا گاڑی کا کیا مقابلہ تمہاری اس نئے ماڈل کی گاڑی سے یار،  میری قسمت ہی خراب ہے جو میں ایسے غریب گھر میں پیدا ہوا،  سانس لینا بھی دشوار لگتا ہے، پیٹ بھر کر کھانے کو ہے نہ دوا  دارو کو کچھ،  اپنی زندگی کی گاڑی کو گھسیٹنا مشکل لگتا ہے ،  ہم کہاں کسی نئی گاڑی کے خواب دیکھ سکتے ہیں !! ‘‘ ،

’’ یہ بھی کوئی ملک ہے، کون سی برائی ہے جو اس ملک میں نہیں ہے، کرپشن،  جرائم، دہشت گردی، ملاوٹ،  سفارش،  رشوت،  گندگی،  لاقانونیت،  بد انتظامی،  مہنگائی… غرض کون سا عفریت ہے جو اس ملک میں نہیں ہے،  دوسرے ملکوں میں سڑکیں دیکھو،  ائیر پورٹ دیکھو،  عمارات دیکھو ‘‘

’’ ہماری بیٹی کی شادی کا فنکشن بھی کوئی فنکشن تھا، فنکشن تو تھا نادرہ آپا کی بیٹی کی شادی کا، کیا ہال تھا، کیا انتظامات تھے، کیا کھانا تھا، بارات بھی کیسی سجی سجائی تھی، جہیز اور بری بھی ٹکر کے تھے ‘‘، ’’صدیقہ کی بہو کیسی فرمانبردار ہے،  بیٹے ابھی تک ماں کے پاؤں دھو دھو کر پیتے ہیں ، م اں کو گھر کی ملکہ کا درجہ حاصل ہے، ایک ہم ہیں کہ جس دن سے بہوئیں آئی ہیں اس دن سے معزول ہوئے پڑے ہیں ‘‘، ’’ اللہ نے ہمیں کوئی اولاد نہیں دی، ایک میری کام کرنے والی ہے ۔

جس کے آٹھ بچے ہیں، آپا کی صرف بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں جانے وہ بیٹوں سے محروم کیوں ہیں، سعدیہ کے دو بیٹے ہی ہیں ،  بیٹی کوئی نہیں بے چاری کی،  نورین کو اللہ نے دو بیٹیوں کے بعد ایک بیٹا دیا ہے،  اب اللہ کرے کہ اس کے بیٹوں کی جوڑی بھی بن جائے ‘‘ اور جانے کیسی ہی اتنی مثالیں، اس وقت جو ق در جوق مجھے یاد آ رہی تھیں۔ اس روز جب ماما جی نے گھر میں داخل ہو کر سلا م کیا اور مجھ سے جائے نماز مانگی تھی، میں نے حیرت سے ان سے پوچھا کہ اس وقت تو کسی نماز کا وقت نہ تھا۔ ’’ بس بیٹا جلدی سے شکرانے کے دو نفل پڑھوں گا !! ‘‘ انھوں نے کہا۔’’ اچھا ماما جی! کیا خوش خبری ہے، پہلے خوش خبری تو سنائیں ، پھر شکرانے کے نفل پڑھیں ‘‘ میں نے بے تابی سے ان سے پوچھا، جانے کسی بچے کا رشتہ طے ہوا تھا یا ان کی بیٹی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا تھا۔’’ میں نے ایسا کیا کہا ‘‘ انھوں نے حیرت سے پوچھا۔’’ آپ شکرانے کے نفل تو پڑھنے لگے ہیں ؟؟ ‘‘ میں نے اپنی حیرت کو زبان دی۔

’’ اچھا … تو؟ ‘‘ انھوں نے حیرت سے سوال کیا۔

’’ یہی تو پوچھ رہی ہوں ماما جی کہ شکرانے کے نفل کیوں پڑھنے لگے ہیں؟ ‘‘

’’ بتاتا ہوں‘‘  وہ زور سے ہنسے، ’’ جلدی سے دو نفل پڑھ لوں پھر خوش خبری بھی بتاتا ہوں ! ‘‘ وہ مصلے پر کھڑے ہو گئے۔

’’ اس طرح تو میں تجسس سے مر جاؤں گی ماما جی!! ‘‘ میں نے بے تابی سے کہا۔ سلام پھیر کر انھوں نے دعا کی اور مصلیٰ لپیٹ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ’’ جلدی سے بتائیں ماما جی!‘‘ میں نے فوراً پوچھا، ’’ کیوں پڑھے ہیں آپ نے شکرانے کے نوافل؟ ‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائے، جوتے پہن کر صوفے پر میرے قریب آ بیٹھے۔ ’’ میں نے اس لیے شکرانے کے نوافل پڑھے ہیں کہ میں خیریت سے تمہارے گھر پہنچ گیا ہوں  ‘‘ ’’ کیوں کیا ہوا، کیا کوئی حادثہ ہو گیا تھا راستے میں؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔’’ ہر گز نہیں ‘‘ انھوں نے فوراً کہا۔’’ تو پھر اس میں شکر ادا کرنے کی کیا بات ہے ماما جی؟ مجھے تو ڈرا ہی دیا تھا آپ نے ‘‘

’’ کیا لازم ہے کہ ہم اللہ کا شکر صرف کسی حادثے سے بچنے کے بعد ہی کریں؟ ‘‘ وہ گویا ہوئے، ’’ کیا اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتیں کم ہیں کہ ہم ان کا شکر ادا کریں، اگر ہم اللہ کا شکر اس کا حق سمجھ کر واقعی معنوں میں ادا کریں تو ہمارا سارا دن شکر ادا کرنے میں ہی گزر جائے، یہ عمر عزیز کم پڑ جائے اور ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کر سکیں !! خود اللہ تعالی ہم سے پوچھتا ہے کہ ہم اس کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلا سکتے ہیں!! ‘‘ ’’ کیا آپ ہر سفر کے بعد نوافل پڑھ کر شکر ادا کرتے ہیں؟ ‘‘ میں نے سوال کیا، ’’ اور کون کون سی چیزوں کے بعد آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ؟‘‘’’ یوں تو دن میں اگر انسان کرنا چاہے تو لاکھوں نوافل بھی کم ہیں مگر میں کوشش کرتا ہوں اور دن میں کم از کم بیس نفل پڑھ ہی لیتا ہوں ۔

اس نے مجھے لاکھوں کروڑوں نعمتوں سے نوازا ہے تو میں بیس بار تو اس کا شکر ادا کروں، صبح جاگ کر نماز پڑھتا ہوں اورا س کے بعد دو نفل شکرانے کے پڑھتا ہوں کہ اس نے مجھے عارضی نیند کے بعد جگایا، اس کے بعد ہمت اور صحت دی کہ میں اپنے پیروں پر اٹھا، اپنے قدموں پر چل کر غسل خانے تک گیا،  وضو کیا، اللہ نے توفیق دی کہ میں لاکھوں غافلوں سے بہتر ہوا کہ اس کی پکار پر بستر سے اٹھ کر سر بہ سجود ہوا، کیا یہ جواز کافی نہیں کہ کم از کم میں دو نفل تو پڑھ کر اس کا شکر ادا کروں ۔’’ اس طرح تو انسان دن بھر شکرانے کے نفل ہی پڑھتا رہے ماما جی، اللہ نے ہمیں اتنی نعمتیں دے رکھی ہیں !‘‘ میں نے ہنس  کر کہا۔’’ تو انسان کی بندگی کا حق ادا ہو جائے بیٹا ‘‘ ماما جی فورا بولے، ’’ ابھی تم نے کہا ہے نا بیٹا کہ اس کی نعمتیں اتنی ان گنت ہیں کہ شکر ادا کرنا مشکل ہے ، تو کیا کبھی تم نے کسی بات پر شکر  دن میں ایک بار بھی ادا کیا، کیا دل سے اعتراف کیا کہ اس نے ہمیں لاکھوں کروڑوں سے بہتر بنایا اور بہتر حالات میں رکھا ہے۔

ہاں ہم سب اس وقت مصلے پر کھڑے ہو جاتے ہیں جب ہم سے کچھ چھن جاتا ہے یا کچھ چھننے کا خوف طاری ہو جاتا ہے ‘‘’’ کوشش کروں گی ماماجی!!‘‘ میں نے ہولے سے کہا، مگر ہم سب اتنے مصروف ہیں کہ شکرانے کے نوافل پڑھنا تو درکنار، یہ یاد  کرنا بھی بھول جاتے ہیں کہ ہمارے پاس کون کون سی ان گنت نعمتیں ہیں، ہاں ماما جی جیسے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جنھیں اللہ تعالی یہ توفیق بھی دیتا ہے کہ وہ اس کے شکر گزار بنیں، ہمیں تو یہ توفیق بھی نہیں ہوتی۔ میرے ارد گرد وہ آوازیں تصور میں گونجنے لگیں جو ہم سب کی آوازیں ہیں… یہ برا، یہ غلط، یہ خراب… صرف میں ہی کیوں ، فقط میرے ساتھ ہی کیوں ، فبای الاء ربکما تکذبن

About شیریں حیدر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *