Home / رمضان سپیشل / فہم الحدیث

فہم الحدیث

الصيام جنة من النار كجنة أحدكم من القتال

’’روزہ آگ (جہنم کی)سے ڈھال ہے جس طرح لڑائی میں تم میں سے کسی کی ڈھال ہوتی ہے۔‘‘

( سنن  ابن ماجہ ،باب ماجاء فی فضل الصیام،رقم الحدیث1639،ج1،ص 525)

اس حدیث مبارک کی رو سے روزہ نہ صرف جہنم کی آگ سے ڈھال ہے بلکہ روزہ  کی مثال جنسی خواہشات،مادی اور روحانی  ہر قسم کی بیماریوں کے لیے ڈھال کی سی ہے۔  روزہ انسان کی جنسی خواہشات کو دبا کر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے۔تاہم روزہ کا مقصد صرف یہ نہیں کہ  جنسی جذبات کا  مکمل طور پر خاتمہ ہو بلکہ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان ہرقسم کی خواہشات ِنفسانی  سے بچا رہے ۔ خطاؤں سے حتی الامکان  اجتناب کرے اور اپنے نفس کی اصلاح کرکے روزے کو اپنے لیے حصول تقویٰ بنائے ۔ جو شخص ہر سال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر پورا مہینہ اپنی بنیادی  خواہشات  پر قابو پانے کی مشق  کامیابی اور بہترین طریقہ سے مکمل کرے تو اسے ضبط نفس کی وہ قوت مل جاتی ہے کہ رمضان  کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی شیطان کی ہر ترغیب کا مقابلہ کرسکنے کے علاوہ دوسرے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے اپنے نفس کو بآسانی  باز  رکھ سکتا ہے۔  اور ہر خلاف شریعت عمل سے رک جانے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔تاہم  اس عبادت کا اہم تقاضا ہی یہی ہے کہ ہم دن بھر ایسے کاموں  سے رکے رہیں جس سے اس عبادت کی روح زخمی ہو۔آئیے آج ہم اپنا  احتساب کریں کہ

  • کیا واقعی ہم نے روزے کو اپنے لیے ڈھال بنایا ہوا ہے؟
  • کہیں روزے کی روح کو مجروح تو نہیں کیا ہوا؟
  • روزے کو باطل کرنے والے امور سے بچتے ہیں؟
  • کیا روزے کی حالت میں اپنے اعضا خاص طور پر زبان کی حفاظت کرتے ہیں؟

About مریم نورین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *