Home / رمضان سپیشل / فہم القرآن

فہم القرآن

یااَیُّھا الَّذِینَ اٰمَنُوۡ کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبلِکُم لَعَلَّکُم تَتَّقُونَ ۙ

اے ایمان والوتم پر روزے فرض کیےگئے  ہیں جیسا کہ تم سے پہلے  لوگوں پر کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقوٰی پیداہو.

سورہ البقرہ : 183

آیت کا مطالبہ

اس  آیت میں اللہ نے اہل ایمان  کو تصریح فرما دی کہ  تم پر روزے اس لیے فرض کیے گئے تاکہ تم تقوٰی اختیار کرو۔اس سے فائدہ یہ ہے کہ انسان کا نفس پاک و  صاف  ہو جاتا ہے ۔ ساتھ ہی فرمایا گیا ہے کہ اس حکم کے ساتھ تم تنہا نہیں بلکہ تم سے اگلوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم تھا، اس بیان سے یہ بھی مقصد ہے کہ یہ امت اس فریضہ کی بجاآوری میں اگلی امتوں سے پیچھے نہ رہ جائے ۔

متعلقہ احکام

اﷲ تعالیٰ صرف متقی لوگوں کے اعمال صالحہ قبول کرتا ہے “۔ (المائدہ : 27)

حضرت عمر بن خطاب  رضى الله عنہ  نے حضرت ا بی بن کعب رضى الله عنہ سے تقویٰ کا مفہوم دريافت کيا تو انہوں نے جواب ديا کہ:

آپ کبھی خار دار وادی سے نہيں گذرے ؟ تو حضرت عمر رضى الله عنہ نے فرمايا: کيوں نہيں ضرور گذرا ہوں ۔ حضرت أبی بن کعب رضى الله عنہ نے پوچھا : وہاں سے  کیسے گذرنا ہوا ؟ حضرت عمر بن خطاب  رضى الله عنہ  فرمانے لگے : دامن کوبالکل سميٹ کر گزرا، انہوں نے فرمايا : یہی تقویٰ کا مفہوم ہے يعنی گناہ وسيئات کی واديوں سے دامن بچا کر گذر جانا۔ ( تفسير ابن کثير : 1/43)

About فاطمہ نور

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *