Home / خواتین اسپیشل / فیملی لائف

فیملی لائف

ہمارے معاشرے میں عموما مشترکہ خاندانی نظام رائج ہے۔عورت شادی کے بعد اس نظام کا حصہ بنتی ہے تو اسے زندگی بہترین ڈھنگ سے گزارنے اور معاملات اچھے طریقے سے حل کرنے کا ہنر سسرال میں سیکھنے کو ملتا ہے۔اگر سسرال کو ایک تربیتی ادارہ ہی نہیں بلکہ ایک امتحان گاہ بھی فرض کر لیا جائے اور ساس کو اس کا سربراہ تو ساس اگر عقل مند اور معاملہ فہم ہو تو پورا گھر خوشیوں اور سکون کا نظارہ پیش کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں اخلاقی ،قانونی اور سماجی پہلوؤں سے مفصل جائزہ لیتے ہیں۔ساتھ ہی ایک دو بنیادی باتیں ضرور ذہن میں رہنی چاہیں۔وہ یہ کہ :

 فیملی لائف کے بارے میں کوئی بھی فتویٰ یا دینی حکم بیان کرنے سے قبل ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کیا دین میں اس کا کوئی واضح اور دو ٹوک حکم بیان ہوا ہے۔ اگر نہیں تو پھر اسے عرف کی ہی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔ یہ اسلام کی عالمگیریت کا حسن ہے کہ ہمیں اس بارے میں کوئی قانون نہیں دیا گیا بلکہ اسے سماج کے مطابق رکھا گیا ہے۔ہمارے دین میں نان  و نفقہ کی ذمہ داری مرد پر ہوتی ہے مگر اس بارے میں کوئی قانون نہیں کہ خاتون شادی کے بعد مرد کے  خاندان کے ساتھ رہے گی یا علیحدہ گھر میں ۔ سماجیات میں یہ بات بالکل معروف ہے کہ شادی کے بعد میاں بیوی کا ساتھ رہنا مختلف معاشروں میں مختلف طرح ہوتا ہے۔ اکثر معاشروں میں  Patrilocal  یا Nuclear رواج ہے یعنی شادی کے بعد مرد  کے خاندان کے ساتھ یا پھر علیحدہ گھر میں رہے گی۔  لیکن بہت سے معاشروں میں یہ رواج Matrilocal ہے۔ جب ہم ساس، بہو، شوہر اور ان کے بارے میں ایسے حقوق و فرائض  کے تعین کی طرف جاتے ہیں جن کی وضاحت دین نے نہیں کی،  تو ضروری ہے کہ  ہم اس معاملے میں  اس سماج کے رواج کو بھی دیکھیں۔ قانون بذات خود کوئی شے نہیں بلکہ اضافیت کی محتاج اور ایک مجرد قدر ہے۔ ایک چیز ایک سماج میں شر اور دوسرے سماج میں خیر بھی ہوسکتی ہے۔مذکورہ سوال کو دیکھیں تو عرب معاشرت زیادہ تر Nuclear رواج پر قائم ہے، اس صورت حال میں جواب ظاہرہے کہ صرف وہی ہوگا جو شوہر کے ذمے بیوی کے حقوق و فرائض ہیں۔ برصغیر میں بہو کے حقوق و فرائض وہی ہوں گے جو ایک بیٹی کے لیے ہوتے ہیں کیونکہ Patrilocal  نظام میں بہو بیٹی سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح Matrilocal نظام میں ظاہر ہے کہ شوہر کی اہمیت  اور حیثیت ایک دوسرے خاندان میں بیٹے کی طرح ہوجاتی ہے۔ چنانچہ فیملی لائف میں میں قانون کی توضیع مختلف Variations سے ہی کی جانی چاہیے۔رہا اخلاقی پہلو تو وہ انھی کے زیر اثر ہوتا ہے۔ آئیے  اس  مضمون میں اسے مزید وضاحت سے دیکھتے ہیں۔

 اخلاقی  پہلو

گر غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو اندازہ ہو گا کہ لفظ ساس سنتے ہیں ہمارے یہاں کوئی ڈائن جیسی صورت ابھرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں اس طرح کے جملے بھی زبانوں پر گردش کرتے ہیں کہ ”ماں کے قدموں تلے جنت جبکہ ساس کے قدموں تلے۔۔۔” یا پھر ”ماں کی دعا جنت کی ہوا اور ساس کی۔۔۔” وغیرہ۔ شاید اس تصور میں کچھ نہ کچھ صداقت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ عموما ساس  محدود ذہنیت  اور کچھ باتوں میں انا کا مظاہرہ کرتی ہیں،ان کا رویہ ایک ہی معاملے میں بیٹی کے ساتھ کچھ اور بہو کے ساتھ کچھ اور ہوتا ہے جس کے باعث بہوؤں سے ان کی چپقلش رہتی ہے۔

یعنی  کہا جا سکتا ہے کہ یہاں تالی  دو  سے نہیں  بلکہ چار ہاتھوں سے بجتی ہے ۔

یہ دو رخی کسی طور پر درست نہیں ہے۔  بیٹیوں کی اس معاملے میں خصوصی تربیت کی ضرورت ہے کیونکہ وہی کل کی مائیں اور پھر ساس بننے جارہی ہوتی ہیں۔یہ درست ہے کہ معاملات میں قصور وار صرف ساس ہی نہیں ہوتی مگر یہ سچ ہے کہ بیشتر ساسیں  انتہائی استحقاق پسند ہوتی ہیں  وہ بیٹے اور بہو دونوں کو  مٹھی میں رکھنا چاہتی ہیں اور اس خواہش کی بنا پر ان کے جائز مطالبے بھی تسلیم نہیں کرتیں۔ یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

قانونی پہلو

ہمارے معاشرے کے برعکس  اگر عرب معاشرے  کا جائزہ لیں تو  وہاں  جوائینٹ فیملی سسٹم کا رواج  نہ ہونے کی بنا پر متعین طور پر ساس اور بہو کے حقوق فرائض نہیں ملتے چنانچہ تمام امور استنباطی ہیں۔

اکثر علما یہ بیان کرتے ہیں کہ بہو پر لازم نہیں کہ وہ ساس سسر کی خدمت کرے، یہ تو مرد یا اولاد کا کام ہے کہ وہ خدمت کرے۔ لیکن یہ ایک انتہائی غیر معقول حل ہے۔ اس پر ایک سوال یہ ہے کہ کیا مرد دفتر یا بزنس کو بند کرکے اپنے ماں باپ کی تیمارداری، کھانا پکانا ، خدمت اور دیگر کام کرے جو اس کی بیوی سے متوقع تھے؟ ظاہر ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ دوسرا حل یہ ہے کہ اگر ماں باپ کی خدمت اولاد پر فرض ہے بہو پر نہیں، تو کیا بیوی اپنے شوہر اور بچوں کو چھوڑ کر چلی جائے اور جاکر اپنے ماں باپ کی خدمت کرے؟

ظاہر ہے یہ بھی ممکن نہیں۔

تو اس کا قانونی پہلو یہ ہے کہ چونکہ بہو اپنے میاں کی مالی استطاعت کم ہونے یا کسی اور مجبوری کی بنا پر ساس سسر کے ساتھ رہ رہی ہے تو شوہر اگر اسے حکم دے کہ وہ ساس سسر کی خدمت کرے تو اس حکم کے تحت وہ جائز حدود میں ان کی خدمت کرنے کی پابند ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کی بھی کچھ حدود ہونی چاہئیں وہ کیا ہیں؟ ظاہر ہے عورت بھی تو انسان ہے اپنے بچے سنبھالنا ، گھریلو امور کو مینج کرنا اور بعض اوقات کسی بیماری وغیرہ سے دوچار ہونا تو  ایسی  صورتحال اگر درپیش ہو تو حل کیا ہو؟ایسے میں  مرد پربھی کچھ  ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ احساس کرے اور تعاون کرے  تا کہ بیوی کو بھی کچھ حد تک ریلیکس ملے اور خود صرف معاش کا بہانہ کر کے دن رات بیوی پر ہی نہ چھوڑ دے ۔ یہ عام مشاہدہ ہےہمارے  معاشرے میں،ہمارے گھروں میں کہ مرد حضرات اس حوالے سے بہت لا پروا ہیں۔ اورتو اورسسرال والے  بھی اگر کسی کام میں بہو سے کوئی کوتاہی ہو جائےتو اسی کے سر سارا وبال ڈالتے ہیں۔حتی کہ کئی جگہوں پر تو ان باتوں پر عورت کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جبکہ اسلام کی تاریخ میں اصحاب یا صالحین کے عمل پر اگر نظردوڑائی جائے تو وہ اپنے ہاتھ سے بھی اپنے ماں باپ کی خدمت اور ان کا کام کیا کرتے تھے ۔ زیادہ تر اسی کا تذکرہ ملتا  ہے۔ہمارے یہاں عمومی طور پر بہو کی ان خدمات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اس کے مسائل کا خیال نہیں کیا جاتا ۔ اس کی برائیوں کو تو اچھالا جاتا ہے جبکہ اس کے اچھائیوں کا تذکرہ کرنا اپنی توہین سمجھی جاتی ہے کیونکہ ان سب کا حقدار صرف اپنی ہی اولاد کو سمجھا جاتا ہے ۔ اس رحجان کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ساس کی سمجھداری اس میں ہے کہ بہو کو بیٹی کا درجہ دے۔ اسی طرح بہو کی سمجھداری اس میں ہے کہ ساس سسر کو سگے ماں باپ کا درجہ دے کر ان کا ادب کرے۔

سماجی پہلو

ساس اور بہو کا  کوئی خونی رشتہ نہیں  بلکہ ایک بڑا حساس اور نازک  ترین  رشتہ ہے ۔  اسے نبھانے کے لیے  اس تمام اخلاقیات کی ضرورت ہے جو کسی مذہب کی تعلیم  نہیں بلکہ فطرت نے ہر انسان میں ودیعت کر دیئے ہیں ۔ ساس،سر ، بہو اور داماد میں   جہاں ان  بنیادی اخلاقیات کی کمی پائی جائے وہیں بگاڑ  پیدا ہوتا ہے۔  اوپر سے جوائنٹ فیملی سسٹم نے اسے مزید نازک بنا دیا۔ یہ رشتے حقوق سے زیادہ فرائض کا تقاضہ کرتے ہیں ۔

 یہ اخلاقیات  ہی ہے کہ:

 سمجھدارساس آنے والی بہو کو نئی دنیا میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے اسے وقت دے،  مواقع دے، چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرے،  اپنے گھر کا نظام بتائے نہیں بلکہ دکھائے،  نئے مزاجوں اور طبیعتوں کو سمجھنے میں اس کی مدد کرے،  بیٹے کو اپنی بیوی سے محبت کرتے اور اسے وقت دیتے  دیکھ کریہ محسوس نہیں کرےکہ اس کا بیٹا ہاتھ سے جا رہا ہے۔

 سمجھدار سسر بہو پر نگاہ رکھنے کی بجائے اپنی بیوی (ساس) پر نگاہ رکھتا ہے کیونکہ نئے منظر میں ساس کے اندر حاکمیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے نہ کہ بہو میں ۔  اس  نئے منظر میں سسر اس مقام پر ہوتا ہے جہاں سے وہ اپنی بیوی کو سمجھا سکتا ہے کہ بہو کو وقت دو وہ ایڈجسٹ ہو جائے گی۔

 سمجھدار بیٹے کو  اب بیٹے کے ساتھ ساتھ  داماد  کا رشتہ بھی نبھانا ہے۔  یہاں بیٹے کے والدین کو سمجھنا چاہیے کہ ایک لڑکی ان کی بہو بن کر ان کی خدمت کرنے میں لگی ہے تو ان کا بیٹا بھی کسی کا داماد بنا ہے۔ بیٹے کو بھی کچھ اخلاقیات کا مظاہرہ  اپنے ساس سسر کے ساتھ کرنا ہے ۔  کسی کی بیٹی اس کے والدین کی خدمت سارا دن اور روزانہ  کر رہی ہے تو ہفتے دو ہفتے بعد اگر وہ بیوی کے والدین سے ملنے چلا جائے تو دیکھے  بیوی کا اپنے ساس سسر کو دینے والے وقت کا کتنا فیصد وقت اس بیٹے نے اپنے ساس سسر کو دیا۔ یہ تھوڑا  سا وقت وہ اپنے ساس سسر کو دے لے تو بیٹے کے والدین کو اس پر برا نہیں منانا چاہیے، پھر اس پر بیوی کتنا خوش  ہو کر اپنے ساس سسر کی خدمت کرے گی۔

 عقلمند بہو  اپنے فرائض اور ساس کے حقوق شریعت سے نہیں  پوچھتی بلکہ فطرت   سے سیکھتی ہے کہ یہ میرے شوہرکے والد اور والدہ جیسے عظیم رشتے ہیں ، میں نے ان کی ناقدری کی تو شوہر نے میری ناقدری کرتے دیر نہیں لگانی!

 اور بات محض یہ نہیں کہ عرب معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم کا رواج نہیں تھا تو اسلام نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، بلکہ ہمارے معاشرے میں رواج پا جانے والے جوائنٹ فیملی سسٹم نے بھی  بہت سارا بگاڑ پیدا کیا ہے۔ معاشرے کی  غربت اور خدا  پر ایمان سے دوری نے اس سسٹم کو اپنانے پر لوگوں کو مجبور کیا ہوا ہے۔   ایک بڑے طویل دورانیئے کی اخلاقی تحریک ہی اس جوائنٹ فیملی سسٹم کو توڑنے کا سبب بن سکتی ہے۔ ورنہ اخلاقی گراوٹ کا یہ معاشرہ اس جوائنٹ فیملی سسٹم کے نتائج مزید بد سے بدتر ہی دیکھے گا۔

عظمیٰ عنبرین

About عظمیٰ عنبرین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *