کائنات

تحریر: ڈاکٹر فہد چوہدری 

زمین
زمین کی عمر کا اندازہ ہے ۵۴.۴ بلین سال یعنی زمین تقریبا  ۴ بلین سال قبل وجود میں آئی۔ سوچو ذرا زمین کیا ہو گی؟

ایک   دہکتی  ہوئی ،گول گول  گھومتی چٹان جو  اپنے گرد گھومتے گھومتے اپنے سیارے یعنی سورج کے گرد بھی گھومے جا رہی ہے لیکن سورج کے گرد  اس  کی گردش مکمل طور پر  گول تو ہرگز نہیں ہے۔

ذرا تصور کی آنکھ سے دیکھو! کیا تھی زمین؟ پگھلا ہوا آگ کا گولہ، اندر سے باہر تک دہکتا ہوا۔ لاکھوں سال لگے اس کی اوپری سطح کو ٹھنڈا ہونے میں۔ اس کی دہکتی سطح پر لاکھوں سال بارش برستی رہی جس نے اس کی چٹانوں کا جنم دیا اور یوں خشکی کی دنیا کا آغاز ہوا۔

خوشگوار ماحول نے نمی کو پانی میں تبدیل کر دیا جو برستا ہوا ندی ، نالوں، جھرنوں، جھیلوں، دریاوں اور پھر سمندروں کی صورت بپھرنے لگا۔ زمین پر پانی نے اپنا راستہ بنانا شروع کر دیا۔ اس راستے نے کٹاو کی صورت اختیار کی توکہیں پہاڑ ابھرے  تو کہیں وادیاں نکلیں۔ کچھ زلزلوں نے ایسی صورت میں مدد کی اور زمین پر ایک بڑا سا خشکی کا قطعہ نظر آنے لگا۔

اگر زمین پر گزرے وقت کو اس میں ہوتی جغرافیائی تبدیلیوں  کے لحاظ سے تقسیم  کیا جائے تو اسے چار ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

Hadean

Archean

Proterozoic

Phanerozoic

ان ادوار کی مزید ذیلی تقسیم بھی کی گئی ہے جن کی تفصیل مرحلہ وار پیش کی جائے گی۔ اس میں سے ہر ایک دور میں  کچھ ایسے واقعات

رونما ہوئے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتے ہیں۔   ہر مشہور یا  اثرانداز واقعہ کو اس کے دور میں بیان کیا جائے تو بہتر ہے لیکن پھر بھی

ایک جنرل فہم کے لیے کچھ واقعات کی ان کے وقت کے لحاظ سے ترتیب یہاں دی جارہی ہے۔

Simple Cells (3.6 Billion Years Ago)

Complex Cells (2 Billion Years Ago)

Sexual Reproduction (1.2 Billion Years Ago)

Multicellular Cells (1 Billion Years Ago)

Simple Animals (600 million Years Ago)

Fish (500 Million Years Ago)

Land Plants (475 Million Years Ago)

Insects (400 Million Years Ago)

Amphibians (360 Million Years Ago)

Reptiles (300 Million Years Ago)

Mammals (200 Million Year Ago)

Birds (150 Million Years Ago)

Flowers (130 Million Years Ago)

Primates (60 Million Years Ago)

Great Ape (20 Million Years Ago)

Homo Genus (2.5 Million Years Ago)

Modern Human (250000 Years Ago)

ادوار کی مزید تفصیل انشااللہ اگلی اقساط میں پیش کی جائیں گی۔

About ڈاکٹر فہد چوہدری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *