Home / شمارہ ستمبر 2017 / قرآن مجید کے ذریعے تعمیر شخصیت

قرآن مجید کے ذریعے تعمیر شخصیت

اللہ تعالی نے اپنے کلام  کو ایسا نازل فرمایا ہے کہ جس کا موضوع ہی ہماری شخصیت ہے۔ یہ  ایسی شخصیت ہونی چاہیے جس کا اللہ تعالی نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے:

وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَىٰ مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ أُولَٰئِكَ جَزَاؤُهُمْ مَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَجَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ

’’دوڑ کر چلو اس راہ کی طرف جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے۔ یہ وہ ان انفاق کرنے والے لوگوں کے لیے یہ جنت مہیا کر دی گئی ہے جو: ۔۔۔ ہر حال میں (مشکلات والے افراد کی ضرورت کے لیے) خرچ کرتے ہیں خواہ وہ خود بدحال ہوں یا خوشحال۔ ۔۔۔ جو غصے کو پی جاتے ہیں۔ ۔۔۔ دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جائے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے اپنے آپ پر ظلم کر لے تو فوراً اسے اللہ تعالی یاد آ جاتا ہے۔ وہ اپنے قصور کی معافی مانگتے ہیں۔ اللہ تعالی کے سوا کون ہے جو گناہ معاف فرما دے۔ ۔۔۔ یہ لوگ دیدہ و دانستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کے پاس ہے جو انہیں معاف فرما دے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل فرما دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں پر ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے۔‘‘ (سورۃ آل عمران 133-136)

 ہمیں چاہیے کہ ہم خود اپنا تجزیہ کر لیں کہ کیا میری شخصیت ایسی ہی ہے جیسا کہ ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔

About محمد مبشر نذیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *