قفس

وہ شہر کا پوش علاقہ تھا۔ شام کے وقت سورج اپنی کرنیں سمیٹ کر سمندر میں چھپ رہا تھا اور آسمان سے بوندیں برس رہی تھیں جو کبھی ہولے تو کبھی تیز ہوجاتی۔سفید دوپٹہ بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اس کے جسم سے چپکا ہوا تھا جس کی وجہ سے اس کے جسم کے نشیب و فراز بالکل عیاں ہورہے تھے اور کچھ نگاہیں بھی اس سے محظوظ ہو رہی تھیں مگر یہاں اسے اس بات کا احساس نسبتاً کم ہوا کیونکہ اس پوش علاقے کی گلیوں میں واک کرتی ہوئی دوسری خواتین کی حالت بھی اس سے قطعی مختلف نہ تھی۔وہ ان خواتین کو گھورتی ہوئی گھر کے دروازے تک آپہنچی۔

یہ دو منزلہ خوبصورت مکان تھا جس کے عین سامنے ایک مشہور رفاہی ادارے کی عظیم الشان عمارت قائم تھی۔اس نے دروازے کی بیل بجائی اور اگلے ہی لمحے میں دروزہ کھلا گویا یہاں شدت سے اس کی آمد کا انتظار ہورہا تھا ۔

مکان میں مدھم سی روشنی تھی اور وہ خوف و ہراس کے سائے کے ہمراہ اوپر کمرے کی جانب بڑھنے لگی۔سیڑھیوں کے بالکل سامنے کھڑکی کی تھی جس سے سامنے کی عمارت نظر آرہی تھی۔ ایک لمحہ رُک کر اُس نے حسرت بھری نگاہوں سےایک نگاہ اس پُرشان عمارت پر ڈالی جس پر خیرات و صدقات کی اپیلوں پر مبنی بڑے بڑے اشتہاری بینر آویزاں تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اب کمرے میں آچکی تھی اور سیدھا لیٹ کر پنکھے کی رفتار دیکھنے لگی۔اس پنکھے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن میں بہت سے خیالات بھی گردش کررہے تھے۔بہت سارے سوالات کا عکس ابھرنے لگا تھا۔ایک لمحے میں وہ سالوں کا سفر طے کرکے اپنے ماضی میں پہنچ چکی تھی۔

وہ اس دن کو نہیں بھولی تھی جب اس کی ماں کا انتقال ہوگیا تھا۔ اس کی ماں کی موت ہی اصل میں اس کے لیے بہت بڑا سانحہ تھی کیونکہ اب وہ اپنے نشے کے عادی ماموں کے رحم و کرم پر تھی جس نے اس کی زندگی محبت و شفقت کے بجائے اندھیرے اور گناہوں کے کیچڑ سے بھردی۔ وہ اس رات کو بھی نہیں بھولی تھی جس کے بعد ہی اس کی پاک زندگی کا ہمیشہ کے لیے غروب ہوچکا تھا۔وہ بہت روئی تھی گرگڑائی، مگر اس کے سامنے موجود حیوان کا دل نہیں پتھر تھا جس کے ٹوٹنے سے بھی کنکروں کے سوا کوئی امید نہیں کی جاسکتی ۔ اسے ایک اچھی عزت کی زندگی گزارنی تھی، مگر عزت کی زندگی کیا؛ ابھی تو اس کی زندگی بھی شروع نہ ہوئی تھی کہ حالات ؛ درحقیقت اس کے ماموں نے اسے مجبوری کے گڑھے میں پھینک دیا تھا ۔اس کے بعد وہ زندہ تو رہی مگر اس انوکھی لاش کی طرح جس کی قبر ہو شب بدل جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اچانک اسے کسی کے ہونے کا احساس ہوا مگر ایک بار پھر وہ ہمیشہ کی طرح کسی دوسرے وجود سے بے خبر ہونے کی کوشش کرتے ہوئے خیالات میں مگن رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہر لڑکی کی طرح ، اسے بھی کسی اچھے مرد سے شادی کرکے اپنا گھر بسانے کی خواہش تھی۔ کوئی آبرومندانہ کام کرکے زندگی گزارنے کی متمنی تھی ،اس نے کئی باراس قفس سے نکلنے کا ارادہ کیا مگر ہر بار ہی وہ خود کو اپاہج محسوس کرتی تھی۔اس نے معاشرے کے ‘‘مخیر حضرات’’ سے التجا ء بھی کی مگر اسے ہر جگہ دھتکار دیا گیا۔ عالیشان مساجد،مذہبی ادارے، این جی اوز، ائیر کنڈیشنڈ ہسپتال اور سیاسی و مذہبی اجتماع کے لیے ہر شخص نام نہاد معاشرے میں موجود تھا مگر ایک اجری ہوئی زندگی میں خوشیاں لانے اور اس کا کیچڑ صاف کرنے کو کوئی نہ تھا۔ وہ بھی برسوں سے طالب نظر تھی، مگر اہل نظر کو اپنے دامن ِتقویٰ گندہ ہونے کا خدشہ تھا۔

اسے یہ نہیں سکھاگیا تھا کہ خدا کی بارگاہ میں ماتھا کیسے ٹیکا جائے، مگر حالات نے اس قدر تربیت کردی کہ وہ آسمان کی جانب نگاہ اٹھا کر احساسِ دل سے کچھ کلمات کہہ سکے۔زندگی کی اس قدر تلخ سچائیوں کو مسکرا کر پینا آسان نہیں ہوتا، مگر وہ ہر بار خدا سے ایسی شب کی دعا کرتی تھی کہ جب اس پر عذاب کا کوئی شیطان مسلط نہ ہو۔ اس کی بھی آرزو کو تھی کہ اسے بھی ایک محبت ملے ، وہ بھی خاندان بنائے ، اس کے دل میں بھی یہ ارمان تھا کہ وہ کسی کی شہزادی ہو، جانِ جہان ہو۔مگر حالات نے یہ سارے نقوش محض خواب بنا کر رکھ دیے تھے جس کی تعبیر کا سامان اس کے پاس نہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے ادھورے خوابوں کا عکس ابھی ادھورا ہی تھا ، پنکھا اب بھی اسی رفتار سے چل رہا تھا، مگر اب وہ کسی اور کے پسینے سے شرابور ہوچکی تھی اور اس کا شیطان گاہک ہانپتا ہوا ایک طرف ہوچکا تھا۔۔۔

About ابو شریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *