Home / خواتین اسپیشل / قلبی تعلق

قلبی تعلق

گہرے قلبی تعلق کا اظہار دو صورتوں میں ہوتا ہے ، ایک شدید محبت اور دوسرے شدید خوف ۔ مشاہدہ کیجیے تو شدید خوف درحقیقت شدید محبت  ہی کا نتیجہ ہے ۔ یہ دونوں جذبات ایک دوسرےسے  جڑے ہوئے(interlinked) ہیں ۔ کسی سے گہری محبت ہر وقت محبوب کی رضا کے حصول کی جستجو میں مگن رکھتی ہے  ، نتیجتاً  اس کی ناراضگی کا شدید خوف   بھی دامن گیر رہتا ہے  ۔ چنانچہ عمل اسی شدید محبت و خوف  کی بنا پر ترتیب پاتا ہے۔

دیکھا جائے تو دنیا کے عمومی نقطہِ نظر سے اسی قلبی وابستگی کے درست نا ہونے کی بنا پر  عورت کو نفسانی طور پر کمزور تصور کر لیا  جاتا ہے۔ حالانکہ  اسی درست  قلبی وابستگی کی بِنا پر  صنفِ نازک کی فہرست میں  بھی،  ایسے کردار منظرِ عام پر آتے ہیں  جنہیں تاریخ کے اوراق میں رہتی دنیا تک  یاد کیا جاتا ہے ۔ اگر یہی قلبی وابستگی  اپنے رب سے قائم ہو جائے ،  جو اپنی شدید نوعیت میں  صرف اور صرف خدا ہی کا حق ہے اور   جسے  حقِ معبودیت سے تعبیر کیا جاتا ہے ، تو     صنفِ نازک بھی حیاتِ مستعار کے خم و پیچ میں توکل، صبر و استقامت، شکر گزاری ،  تسلیم و رضا اور حالات کی رو میں بہہ جانے کی بجائےبرداشت اور عملِ صالح جیسی صفات سے مزین  نظر آتی ہے ،  چنانچہ  اس کے ذریعے سے  وہ ایک مثالی   اور پختہ کردار کی حامِل شخصیت  بن جاتی ہے۔

سیدہ ہاجرہ علیہ السلام کا واقعہ  خواتین کے لیے اللہ تعالیٰ  سے گہرے قلبی تعلق کی اعلیٰ اور نفیس ترین مثال پیش کرتا ہے ۔ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام انہیں مکہ کی ویران وادی میں گود کے چھوٹے سے بچے  کے ہمراہ تن تنہا چھوڑ کر جا رہے تھے تو سیدہ ہاجرہ نے مکمل خود اعتمادی اور کامِل اطمینان سے یہ استفسار کیا ، ” اے ابراہیم ، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ” سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے  فرمایا ، ” جی ہاں ”  تو سیدہ ہاجرہ کا  محبوب کی منشا پر رضا و تسلیم سے معمور جواب کچھ یوں تھا ” تب وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا” ۔ بلا شبہ یہ ایک بڑا ہی کٹھن اور سخت ترین معاملہ تھا  اور اس پر ردِ عمل کا تعلق درحقیقت اسی گہری دِلی وابستگی سے تھا جو سیدہ ہاجرہ کی اپنے رب سے قائم تھی   ۔ اسی نے سیدہ ہاجرہ کے نفس کو بھر پور طاقتور اور توانا رکھا  اور ان کے احساسات و جذبات  کو ایک امید سے لبریز کر دیا ورنہ تو آپ اس خوفناک مرحلے کو برداشت کرنے کی ہمت نا کر پاتیں اور ابتدائے معاملہ میں ہی حالات کی رو میں بہہ جاتی ۔ چنانچہ  دِلی وابستگی کی بِنا پر ہی آپ کا یہ مثالی کردار وجود میں آیا  جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ بیت اللہ کا حج و عمرہ کرنے والے دن رات کی گھڑیوں میں اس کردار کی یاد تازہ کرتے رہیں گے ۔

ربِ تعالیٰ سے بھر پور دِلی وابستگی ہی ایک عورت کو  ضمیر کی بیداری اور ظاہر  و باطن میں دیانت داری کی صفات عطا کرتی ہے  اور اس کی جلوت و خلوت کو پاکیزہ بناتی ہے ۔  امام ابن الجوزی نے اپنی کتاب “احکام و النساء ” میں ایک واقعہ نقل کیا ہے ۔ کہتے ہیں : عبد اللہ بن اسلم اپنے باپ اور دادا سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھا جبکہ وہ مدینہ منورہ میں رات کو گشت کر رہے تھے ۔آپ تھک کر ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے کہ اچانک آواز آنے لگی ، کوئی خاتون اپنی بیٹی سے کہہ رہی ہے :” ارے بیٹی اس دودھ کے پاس جا کر اس میں پانی مِلادے” ۔ وہ جواب میں بولی،  “ماں ، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المومینین نے کتنی سختی سے منادی کروائی ہے کہ کوئی شخص بھی دودھ میں پانی نا ملائے” ۔ ماں کہنے لگی ، “اری بیٹی ، کھڑی ہو اور جا کر پانی ملا دے، کونسا عمر تجھے دیکھ رہے ہیں” ۔ تب بیٹی نے اپنی ماں سے کہا : ” میں ایسی نہیں ہوں کہ جلوت میں تو اطاعت گزاری کروں اور خلوت میں نا فرمانی کرنے لگوں” ۔ ادھر سیدنا عمر یہ ساری گفتگو سن رہے تھے اور انہوں نے اسلم سے کہا کہ اس بچی کی تفصیلات معلوم کرو ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک کنواری لڑکی ہے اور دوسری اس کی ماں ہے اور ان کے پاس کوئی مرد نہیں ہے ۔ چنانچہ سیدنا عمر نے اپنے تمام لڑکوں کو بلایا اور پوچھا ، تم میں سے کس کے پاس بیوی نہیں ہے؟  میں اس کی شادی کر دوں۔ ان کے بیٹے عاصم بولے، میرے پاس بیوی نہیں ہے ، لہذا میری شادی کر دیجیے۔ سیدنا عمر نے اپنے صاجزادے عاصم سے اس  مثالی کردار کی حامِل دوشیزہ کی شادی کر دی جن کی اولاد سے ہی  عمر بن عبد العزیز جیسی اعلیٰ اور مثالی شخصیات  نے جنم لیا۔ بلا شبہ  اپنے رب سے یہی وہ قلبی وابستگی  ہے جس کی بِنا پر  اس کے حاضر و ناظر ہونے کا احساس ان  خاتون کے دِل  میں جا گزیں ہوا اور اسی بِنا پر وہ پرہیز گار، اپنے ظاہر و باطن اور اپنی جلوت و خلوت میں اپنے کردار کی پکی  رہیں۔

چنانچہ مثالی کردار و صفات کی حامِل خواتین میں جو چیز مشترک دکھائی دیتی ہے وہ اسی دلی وابستگی کا رب سے قائم ہونا ہے اور اگر یہ دِلی وابستگی اپنی شدید نوعیت میں غیر خدا سے قائم ہو جائے، خواہ وہ کسی محرم یا نا محرم رشتے سے ہو ، دنیاوی مال و متاع ، نمود و نمائش، یا  زمانے کے ساتھ چلنے  کی آرزو سے ہو  جائے تو  زندگی کے معاملات میں عمل بھی اسی کے مطابق ترتیب پا جاتا ہے اور  اسی صنفِ نازک کو واقعتا کمزور مخلوق سے تعبیر کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ محض قلبی تعلق کی کمزوری ہے ۔  اور اگر یہ تعلق رب سے منسلک ہو تو صنفِ نازک بھی کسی طور پر کمزور نفسانی کردار کی حامِل نہیں رہتی بلکہ ایک اعلیٰ ترین کردار کی حیثیت سے تاریخ رقم کرتی ہے ۔

امِ مریم

About امِ مریم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *