Home / خواتین اسپیشل / قوت فیصلہ

قوت فیصلہ

کاشف تم نے الگ گھر لے کر اپنی عاقبت خراب کر لی ہے۔ یار ! نہیں دیکھا جاتا مجھ سے اپی کا یہ دکھ۔میں کہہ رہا ہوں تمہیں واپس جانا ہی ہوگا ۔اپی بیمار ہیں یار ! تم کیسے بیٹے ہو۔ کیسے دیندار ہو شرم نہیں آتی۔ اتنا گھناؤنا جرم کر کےاللہ کے سامنے نماز میں کھڑے ہوتے ؟ تمھاری خاطر کیسی کیسی قربانی نہیں دی اس دکھیا نے ؟ کیا اسی لیے پال پوس کر بڑا کیا تھا میری بہن نے  کہ جب تم قابل ہو جاؤ تو اس بڑھاپے میں اسے بے سہارا چھوڑ جاؤ ؟ اتنے تم دینی بنے پھرتے ہو، یہ سکھاتا ہے دین تمہارا “۔

 زین نے اس وقت خاص اسی بات کے لیے ،کاشف کو بلایا تھا،اور کچھ دیر نرمی سے سمجھانے پر بھی جب قابو نہ آیا تو وہ اپنے بھائی ہونے کا فرض اور ماموں ہونے کا حق بھر پور طریقے سے نبھانے پر مجبور ہوگیا تھا۔ گو کہ اب اعصاب تھک چکے تھے ،مگر پچھلے ماہ سے ماں ،بہن بہنوئی ،خالہ نانی وغیرہ کی طرف سے جو کچھ بھی ہو رہا تھا کاشف اس سے کہیں زیادہ کے لیے بھی ذہنی طور پر با لکل تیار تھا۔

 کاشف ویسے تو اور سبھی خاندان والوں کی طرح پڑھا لکھا لڑکا تھا ۔لیکن ایک تو کم عمر ، دوسرا دینی رجحان کا حامل انسان تھا ،اسی لیے سب سے زیادہ سوال اس حرکت پر اس کی دینداری پر ہی اٹھایا جا رہا تھاکہ والدین سے ہی حسن سلوک نہ کیا تو پھر باقی نیکیاں قبول کیونکر ہونگی۔ کا شف شروع میں اور لوگوں کی بات تو کبھی ہنس کر ٹالتا رہا کبھی خاموشی ہی کو بہترین جواب جانا۔لیکن زین اور اسکی بیگم پر اس کا بھروسہ ان سے عقیدت، محبت ،اور تقریبا ہم عمر ہی ہونے کی سبب دوستی کا گہرا رشتہ سبھی کچھ باقی سب ہی سے مختلف تھا۔ اور اب غالبا وہی وقت آچکا تھا کہ وہ زین سے وہ سب کہہ دے جو نہ جانے پچھلے کتنے ہی سالوں سے اسکے دل میں سلگ رہا تھا۔لیکن بات پھر گول کر گیا۔ کیا یار ماموں ! بی پی بڑھ جائےگا آپ کا،  اتنا غصہ کس بات کا ہے؟ میں مما کی اکلوتی اولاد بھی نہیں،اور جتناگھر خرچ ،یا وقت میں پہلے ان کو دیتا تھا ،وہ سب بھی دے تو رہا ہوں نا۔

 زین کی نگاہوں میں اپنی بہن کی پریشان حال تصویر گھوم گئی ،جو کاشف کے یوں گھر چھوڑ جانے پر رو رو کر ہلکان ہو چکی تھیں ۔ کانوں میں وہ فریادیں گونجنے لگیں اور دھائیا ں جو آجکل ہر ملاقات پر سننے کو ملتی تھیں ۔زین کی آنکھیں طیش میں سرخ ہو چکی تھیں ۔ اس سے پہلے کہ وہ پھٹ پڑتا ،شاکرہ نے شوہر کو پانی کا گلاس تھما کر کاشف سے دھیمے لہجے میں کہا ؛” کاشف کیا تمہیں والدین سے سلوک ….کاشف نے ممانی کی بات کاٹ کر پوری آیت ہی پڑھ ڈالی ۔ اور زین کی سمت فیصلہ کن نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ؛”ماموں والدین کے ساتھ احسان صرف یہ نہیں کہ ان کی خدمت پر مامور ہو جاؤ، بلکہ انہیں برے کاموں کے برے انجام سے بچانا ، مشرک ہیں تو ایمان کی دعوت دینا ،اور مسلمان ہو کر مکروہات سے لے کے کروفر میں مبتلا، تو انہیں جس طرح سے بھی سمجھایا جا سکتا ہو سمجھانا بھی ان کے ساتھ احسان کا رویہ ۔۔۔۔۔ ایک منٹ ماموں ! آپ سب نے بہت بول لیا اب میری باری ہے۔  کاشف کی بات سن کر زین کی بات منہ میں ہی رہ گئی ۔کاشف نے پھر بولنا شروع کیا۔

 ماموں آپ تو کبھی انیمل پلینٹ پر کسی جانور کا شکار تک نہیں دیکھ پاتے ۔ایسا نرم دل ہے آپ کا۔ حالانکہ یہ تو قدرت کا اصول ہے ، اور جنگل کا قانون ہے۔ مگر خود اپنی بیگم کو سالوں سے آپ نے نانی کے رحم و کرم پر ڈالا ہوا ہے ،جن کے پاس کم از کم ان کے لیے تو رحم کا لفظ موجود ہی نہیں۔ میرا آپ سے سوال ہے کہ نانی اور خالہ جو کچھ بھی مامی کے ساتھ کرتی رہیں ،اسکے بعد بھی وہ جنت کی حقدار ہونگی ؟ آپ نے فرمانبردار بیٹے کا تمغہ خود کو دے کر جتنی غفلت بیوی بچوں کے حق میں برتی ،اسکا کوئی جواب ؟

ک ک کیا مطلب ! یہ ..یہ…. بات کو گھما کر کدھر لے جارہا ہے بھائی ؟ زین حیران ہوکر ہکلاتےہوئے بولا، تو کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا،”وہ کہہ رہا ہوں ماموں جو مجھے بہت پہلے کہنا چاہیے تھا ،اور آپ کو بہت پہلے کر لینا چاہے تھا۔یہ کہاں کاانصاف ہے کہ والدین غلط تربیت سے لڑکیوں کو بگاڑ دیں ،لڑکیاں کچھ ہی روز میں اپنا آشیانہ اجاڑ دیں اور واپس انہی تمام عادات کے ساتھ جن سے ان کا شوہر نباہ نہ کر سکا ،آپکی بیوی تاحیات نباہ کرتی رہے ؟ ۔۔۔  ماموں پلیز ! اب بات نکالی ہے تو دل کڑا کر کے سن بھی لیں نا۔  زین نے ہتھیار ڈالنے کے انداز میں خالی گلاس ایک طرف رکھ دیااور سوالیہ نگاہوں سے کاشف کو دیکھنے لگا۔ جس نے گہری سانس لے کر شرمندگی سے کہا ؛”ابھی تو بڑی ممانی سے بھی معافی مانگنی ہےان سب چغلیوں کی جو ہم بہن بھائی جانے انجانے ان کے خلاف لگاتے رہے۔ “کیا سوچ اور کیا سسٹم ہےمیرے گھر کی بزرگ خواتین کا ، نماز روزہ ،حج ،زکوۃ  ہر بات پر دوسروں کو اللہ کی یاد دلاتی حکمران خواتین …یار حد ہی ہوگئی ہے! واقعی سچ بتا رہا ہوں کہ اگر اللہ نہ سنبھال لیتا تو ،میرا ایمان تو گیا تھا۔نانی اور چھوٹی خالہ ہمیں بچہ سمجھ کر کرید کرید کر دوسرے سب کی باتیں پوچھتیں ، ذرا ذرا سی لالچ میں ہم چھوٹے بہن بھائی میں نہ جانے کب جاسوسی ،جھوٹ ،رشوت ،نفرت ،بلیک میلنگ سبھی کچھ آن دھمکا تھا ،ہم اپنے ہی “اللہ والے ” بزرگوں کے ہاتھوں شیطان بننے لگ گئے  تھے، اور ساتھ یہ عقیدہ خراب ہونے لگا کہ ایسے کردار ہوتے ہیں اللہ اللہ کرنے والوں کے تو کیا فائدہ ،نماز روزے اور ایمان کا ؟ ….یہ میرا کل تھا ماموں ….اور آپ کے بچوں کا آج۔۔۔

 کچھ دیر عجیب سی خاموشی چھائی رہی ،بچے گو کہ دوسرے کمرے میں تھے لیکن ان کے کان تو اسی کمرے میں موجود تھے ۔ وہ بھی حیرت سے سُن ہوئے  جا رہے تھے۔ شاکرہ جو کل تک کسی طرح اپنی ساس اور نند کی زیادتیوں کو صبر سے جھیل رہی تھی ،آج اس کی سب سے بڑی پریشانی،سب سے زیادہ خوف، آنے والا کل بنی ہوئی تھی کہ جو کچھ اس کے بچے آج دیکھ اور سیکھ رہے تھے ،جس جس طرح بچوں کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کیا جارہا تھا وہ ناقابل برداشت اور کسی حد تک مایوس کن ہو چلا تھا ۔بہرحال جو کچھ وہ کر سکتی تھی ،دعا ،عبادت ،تربیت وہ کر ہی رہی تھی ۔ مگر یوں اچانک ! ایسی غیبی امداد تو اس کے وہم و گمان میں نہ تھی۔

 کاشف ہی دوبارہ گویا ہوا ” شا ید ابا جی کی دعائیں تھیں کہ میں چاند بھائی کی طرح ہر ایک کو دھمکانے والا بیٹا نہ بن بیٹھا ، ورنہ مما نے تو مجھے اپنا اسی ٹائپ کا گارڈ بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔ اللہ کا احسان ہے کہ پتہ نہیں کب میرا ضمیر جاگا اور خود ہی خود کریکٹر بلڈنگ کی عادت بنتی گئی۔ زین جو واپس اپنے دھیمے انداز پر لوٹ چکے تھے ،بولے ؛ ” گھر چھوڑنے کا ارادہ کب کیا تھا “؟  کاشف اتنے دنوں سے اپنوں کے نرم لہجوں کو ترس چکا تھا ،اس سوال پر رو ہی دیا ……پھر کچھ سنبھل کر بولا ؛” بارہ سال کی عمر میں “۔۔۔”ہیں !” زین نے غیر یقینی انداز میں اسے دیکھا تو کاشف نے کہا ؛  “ہم بچے لوگ چھپن چھپائی کھیل رہے تھے۔میں سٹور میں چھپا تھا ،بہت دیر کسی کو نہیں ملا ،نانی ،اور خالہ کو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں ان کے پیچھے سٹور میں چھپا ہوا ہوں۔ اس دن میں نے بڑی ممانی اور بڑے ماموں کے خلاف ان کا اصل چہرہ دیکھ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ میں بڑا ہوکر کیا کروں گا۔ ماموں ! جہاد صرف میدان میں زور آزمائی کر کے شہید ہوجانا تو نہیں ہے نا، بیوی مرد کی ملکیت نہیں ہوتی ،اس کی رعیت ہوتی ہے ،اس کے بچے ،اس کے بہن بھائی ،ماں باپ اس کا رب کس کس کو اس کے ساتھ ناانصافی کا جواب دے سکتا ہے کوئی مرد ؟ والدین سے اونچا بولنا ،اف تک کہنا منع ہے ،مگر درست طریقے سے درست بات ،جس سے ان کی عاقبت خراب نہ ہو یہ تو عین ثواب ہے۔ بیمار والدین کے آپریشن کے وقت کون بندہ ہے جو ڈاکٹر کا گریبان پکڑ لے؟ الٹا پیر پکڑ کر اسے مناتے ہیں کہ بھائی تم یہ تکلیف ان کو کاٹ کاٹ کر جدا کر دو۔۔۔۔اور میں نے بھی کوئی ڈائرکٹ ہی آپریشن نہیں کر ڈالا ہے آپ کی اپی کا۔ جب دیکھا دوا سے کام نہیں چلنے والا تو اس سے پہلے کہ ان کی گھریلو سیاست کا زہر میری بیوی کی صحت اور رویے میں پھیل کر میری ،اس کی اور ہمارے بچوں کی شخصیت کو برباد کرتا مجھے فیصلہ کرنا ہی پڑا ۔ اور بھائی ! لوگ تو دور دراز ملکوں میں مستقبل بنانے چلے جاتے ہیں ،میں اگر جنت بنانے ذرا سا دور چلا گیا تو کیا غضب ہو گیا ؟ لوگ مجھے پچھلے بیس دنوں میں بیسیوں بار والدین سے حسن سلوک سکھا چکے ہیں ، میری بات کوئی سنتا ہی نہیں ،کسی نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ ظالم کا بھی ساتھ دو ،اسے ظلم سے روک کر ، میں اور کس طرح روکتا انہیں ،خود پر اور باقی سب پر ظلم و زیادتی سے ؟ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا۔ ماں باپ کے ساتھ ہی رشتہ دار بھی تو ہیں نا؟ کیا میرے بیوی بچے میرے رشتہ دار نہیں ؟ اور اس ماحول میں ان کے بگڑتے رویے کسی اور رشتہ دار ، مسکین ،یتیم سے حسن سلوک ،اچھے بول کے قابل رہنے دیتے ؟ بولیں ؟ کیا آپ اپنی والدہ یا اپنی بہنوں کو بچپن سے جانتے نہیں ؟ زین کا جکڑا ہوا ذہن نہ جانے کب آزاد و خود مختار ہو کرکس سمت سوچنے لگا تھا۔ اس نے بے ساختہ پوچھا “تم میں اتنی ہمت کیسے آگئی ؟ میرا مطلب ہے …مطلب ..ارادے تو کئی بار کئی لوگ کرتے ہیں مگر۔۔۔” قوت فیصلہ ”  کاشف نے فوری جواب دیا ؛ “ارادہ بہت بڑا وصف ہے انسان کا ۔ لوگوں کے برے ارادوں کے خاتمے کے لیے آپ کے اچھے ارادوں کا مضبوط ہونا فقط ضروری ہی نہیں ،لازمی ہوتا ہے ۔ اور مقصد واضح ہو نا تو ہمت، لگن ،اور استقامت سب باہم مقناطیس کا کام کرتے ہیں ۔پھر کوئی جذبہ ،رشتہ، مجبوری، کمزوری ،منزل کی کشش کے بیچ حائل نہیں ہو سکتی۔

فرح رضوان

About فرح رضوان

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *