لت

تحریر:ریاض علی خٹک

 

لت جسے addiction کہتے ہیں وہ کیفیت ہوتی ہے جب انسان اپنی ذات سے سراپا جنگ ہوتا ہے. لفظ لت آتا ہی تب ہے جب آپ سمجھتے ہوں کہ میں یہ جو کچھ کررہا ہوں یہ سراسر غلط ہے. لیکن عادت سے مجبور کرتے چلے جاتے ہیں. مثال کے طور سگریٹ نوشی ہے. نکوٹین کی عادت دماغ اپناتی ہے. جسم قیمت ادا کرتا ہے. دماغ کے نکوٹین کے عادی ہارمونز کے علاوہ سارا دماغ بھی کہہ رہا ہوتا ہے غلط ہے. مشقت کرتا جسم بھی رو رہا ہوتا ہے کہ غلط ہے. لیکن نکوٹین کا عادی حصہ منوا رہا ہوتا ہے کہ بھلے غلط ہے. لیکن اب یہ طلب ہے. آپ سگریٹ نوشی چھوڑتے ہیں تو یہی نکوٹین کا عادی دماغ طلب کیلئے خواہش بناتا ہے. قسم قسم کے بہانے تراشتا ہے. باقی دماغ کو قائل کرنے کیلئے جسم میں سے جگہ جگہ سے درد کے بے چینی کے سگنلز پروڈیوس کرتا ہے. یہ سب دماغی ڈرامے ہوتے ہیں. کیونکہ یہ فرصت اور کم مصروفیات میں اپنی طلب کی کمپیئن چلاتا ہے. جہاں مصروفیات شدید ہوئیں باہر زندگی کی رفتار تیز ہوئی. دماغ کا وہاں موجودہ ہونا لازم ہوا وہاں یہ سب لمحوں میں ختم ہوجاتا ہے.۔نہ درد نہ طلب نہ بے چینی۔

اگر کچھ دیر کیلئے ہم اس نکوٹین زدہ دماغی حصہ کو نفس سمجھ لیں. تو یہی کیفیت دین اور دنیا میں یکساں ہو جاتی ہے. ہم لت یعنی addiction سے مزاحمت پر ہوتے ہیں. چاہے یہ گناہوں کی ہو عادات کی ہو سوچ و نظریات کی ہو. ہمیں اپنے نفس سے جیتنا ہوتا ہے. یہی زندگی کا امتحان ہے. یہی کامیابی ہے. یہی نفس ہمارے حصے کا شیطان ہے. اور لت یعنی addiction اس کی کامیابی ہے. کیونکہ کسی عادت بد کو لت بنوا کر پھر وہ بس دیکھ رہا ہوتا ہے. اس کے حصے کا کام ہم خود کر رہے ہوتے ہیں. لت سے مزاحمت بندگی ہے. عادات بد سے بچنا تقوی ہے. اور مزاحمت سے ہار مان لینا مایوسی ہے. مایوسی بندگی میں کفر ہے۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About ریاض علی خٹک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *