Home / شمارہ اگست 2016 / لفظ لفظ موتی

لفظ لفظ موتی

مادی خواہشات جس قدر انسان کے اندر بڑهتی جائیں گی انسانیت اسی قدر کم ہوتی جائے گی۔اپنےنصیب پہ راضی ہونا اور اسی کو مکمل جان کر زندگی کو اور سدهار دینا ہی تو انسان اور حیوان میں اصل فرق ہے۔دل اسی قدر روشن رہے گا جس قدر دنیاوی لالچ اور تهوڑا اور کی تکرار کم ہو گی۔اللہ کی رضا میں خوش رہنے والے ولی نہ بهی بنیں تب بهی اللہ کے بہترین بندے بن جاتے ہیں اور انسان کے لئے یہی بہترین شرف ہے ۔بنتِ فاطمہ (سرگودھا)

ہم سب اسیر ہوتے جاتے  ہیں کبھی اپنی انا کے کبھی تکبر کے کبھی وسوسوں کے کبھی خواہشات کے۔ ان سب کے اسیر ہوئے ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟

ہماری تخلیق کا مقصد صرف اتنا ہے کہ ہم اللہ کی محبت کے اسیر ہو جائیں ۔۔

ابراہیم علیہ السلام  کے قصے میں سب سے اہم سیکھنے کی بات ہے اسماعیل سے ان کا دستبردار ہونا۔ اسماعیل یعنی اپنی عزیز ترین چیز سے دستبردار ہو جانا۔ اگر آج ہم بھی اپنے اندر موجود اسماعیل کو پہچان کر اللہ کی خاطر پہلے دل اور پھر عمل سے اس سے دستبردار ہو جائیں تو آج بھی حضرت ابراہیم جیسی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ایسی کامیابی جس کے چھن جانے کا کوئی خوف نہ ہو۔

About iisramagadmin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *