Home / شمارہ اکتوبر 2017 / لفظ لفظ موتی

لفظ لفظ موتی

”خدا اگرچہ بظاہر دکھائی نہیں دیتا ،مگر وہ انسان سے اتنا قریب ہے کہ جب بھی آدمی اسے پکارتا ہے وہ اس کی پکار کو سنتا ہےاور اس کا جواب دیتا ہے ۔” (مولانا وحید الدین خان )

”آپ کی زندگی ایک خاموش سبق ہے جو شب و روز ایک خاموش پیغام پہنچا رہی ہےآپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کی ذات سے دنیا میں کیا پھیل رہا ہے ؟لوگ آپ سے کیا سیکھ رہے ہیں اچھائی یا برائی؟”  (محمد یوسف اصلاحی)

”ہمارے خیالات ہی ہماری زندگی کی تشکیل کرتے ہیں ۔ آپ کا کسی بات پر یقین ہی حقیقت کو جنم دیتا ہے ۔ ہم جیسا سوچتے ہیں ویسا ہی بن جاتے ہیں ۔ صرف آپ اپنے خیالات ہی تبدیل کرکے اپنی زندگی میں انقلاب لاسکتے ہیں۔“

(ماہر نفسیات پروفیسر ویلیم جیمز  Prof. William James)

”جب تم زندگی کے تمام اسرار معلوم کر چکو تو تمہیں موت کا شوق پیدا ہوگا ،کیونکہ موت بھی زندگی کے رازوں میں سے ایک ہے۔”   (خلیل جبران)

”ہماری عمر یا ہماری زندگی دراصل قدرت کی طرف سے ہمیں عطا کردہ وقت کا نام ہے ،ہم زندگی نہیں بلکہ وقت گزارتے ہیں۔”

(محمد اویس حیدر)

”شُکر گزاری کیلئے “مقامِ فخر” پر پہنچنے کا انتظار مت کریں بلکہ  نعمتوں میں گھِرے اپنے وجُود اور ماحول پہ نظر دوڑاتے ہوئے ہر لمحہ “مقامِ شُکر” جان کر  اپنے رب کی عطا و تقسیم پر دِل سے راضی ہو جائیں اور بےنیاز خالق کے سامنے نماز کے علاوہ بھی سجدہ شُکر بجا لانے کی عادت اپنائیں۔” ( سحر شاہ)

دنیا ایک بہت بڑی مشین کی مانند ہے اور ہم  سب اس کے پرزوں کی طرح ہیں۔ ہر پرزے کی ایک جگہ معّین ہوتی ہے وہ پرزہ اس جگہ کے علاوہ کہیں اور نہیں لگ سکتا۔ اسے اسی جگہ لگنا ہوتا ہے جہاں کے لیے وہ بنایا گیا ہے۔ مگر اس کے لیے ایک اور شرط بھی ہے یعنی پرزے کا کار آمد ہونا۔ (شمیم مرتضٰی)

”انسانی زندگی کا لائف سائکل بالکل نباتاتی اور حیوانی زندگی  کے لائف سائیکل  سے ملتا جلتا ہے،ایک پودا بھی انہی مراحل سے گذرتا ہے جس سے انسان،لیکن یہ تو مادی زندگی ہے جس نے فنا ہو جانا ہے ، تمہارا  انجام یا تو مادیت سے اوپر نہ اٹھنے کی بنا پر شدید عذاب ہے ، یادھوکے کی پرکشش  مادی  دنیا  سے بلند ہونے کی صورت میں اللہ کی مغفرت اور رضا تمہاری منتظر ہے۔”

(ڈاکٹر محمد عقیل)

”تعصب کی ایک نفسیاتی وجہ کسی بھی معاملے میں مزاحمت کو درست طریقے سے ہینڈل نا کرنے کی خصوصیت کا فقدان ہے۔”

(اُم مریم)

پانی اگر ایک جگہ پڑا رہے تو اس میں کائی جم جاتی ہے اوربدبو پیدا ہوجاتی ہے یہی حال سوچ  کا ہے، سوچ جہاں ٹھہر جائے، جم جائے، رک جائے وہاں ایک نیا  بُت تعمیر کرتی ہے اور اسی کی پوجا شروع کردیتی ہے۔  (بلال طاہر)

About ماہم یامین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *