Home / رمضان سپیشل / لیلتہ القدر کی پہچان

لیلتہ القدر کی پہچان

لیلۃ القدر کا تذکرہ قرآن مجید کی دو سورتوں میں ملتا ہے؛ ایک سورہ الدخان اور دوسری سورہ قدر ہے۔ ان آیات کا مطالعہ کرلیجئے۔

اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ  اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا اِنَّا كُنَّا مُرْسِلِيْنَ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ اِنَّهُ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ

کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے۔تیرے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔  (الدخان44:3-6)

اِنَّا اَنزَلْنٰهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ  وَمَا اَدْرٰىكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ  لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلٰئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ  سَلٰمٌ هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ

ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک۔   (القدر97:1-5)

ان آیات سے مندرجہ ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

قرآن مجید کا نزول:

فرمایا کہ (اِنَّا اَنزَلْنٰهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ  ) اور ( اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِي لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ)۔ انہی آیات کے پیشِ نظر اکثر اہل علم کی رائے ہے کہ لیلۃ القدر میں قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور اس کے بعد تئیس سال کے عرصہ میں وقتا فوقتا آپ ﷺ پر  اسے نازل کیا جاتا رہا۔ جبکہ کچھ اہلِ علم کے نزدیک ان آیات کا مطلب ہے کہ لیلۃ القدر میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تھا۔بہرحال مراد جو بھی اس رات کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ دنیا کی رہنمائی کے لیے آخری آسمانی کتاب  اسی رات نازل ہوئی۔ اسی مناسبت سے اس رات قرآن مجید کی تلاوت اور افہام وتفہیم کی مجالس بھی خیر و برکت کا باعث ہوں گی۔ یوں بھی قرآن مجید کی تلاوت افضل الذکر ہے۔

نبی ﷺ کی بعثت کا فیصلہ:

سورہ الدخان کی مندرجہ آیت کا مطالعہ کیاجائے تو یہ بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ نبی ﷺ کی بعثت کا فیصلہ بھی اسی مبارک رات میں طے پایا۔ فرمایا کہ

” یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ ہمارے حکم سے صادر کیا جاتا ہے ہم ایک رسول بھیجنے والے تھے۔تیرے رب کی رحمت کے طور پر یقیناً وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔”(الدخان44: -6)

اسی مناسبت سے اس رات نبی ﷺ پر درود و سلام کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

بابرکت رات(لَيْلَة مُّبٰرَكَة):

اس رات کے بابرکت ہونے کے لیے یہی دو باتیں کافی ہیں کہ قرآن مجید کا نزول اسی رات ہوا اور نبی ﷺ کی بعثت کا فیصلہ بھی اسی رات کیا گیا۔ اس مناسبت سے اللہ تعالی سے دنیا و آخرت میں برکت کی دعا کیجئے۔

اس رات نظام عالم کے بارے میں اہم فیصلے کیے جاتے ہیں:

اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ  ہر اہم پُرحکمت معاملہ کا فیصلہ اس رات کیا جاتا ہے(فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيْمٍ اَمْرًا مِّنْ عِنْدِنَا ) اور (تَنَزَّلُ الْمَلٰئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِّنْ كُلِّ اَمْرٍ )۔ جیسا کہ  دو اہم فیصلوں کا حوالہ اوپر  بھی گزر چکا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ رمضان کا آخری عشرہ داخل ہوتا تو نبی ﷺ اس رات کی تلاش کے لیے کمر کَس لیتے اور اپنے اہل وعیال کو بھی اس کی ترغیب دلاتے۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ العَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ، وَأَحْيَا لَيْلَهُ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ»

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےفرماتی ہیں کہ جب آخری عشرہ داخل ہوتا تو آپ ﷺ اپنا ایزار مضبوطی سے کس لیتے۔ اور خود بھی راتوں کو جاگتے اور اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے۔ (صحیح البخاری،فضل لیلۃ القدر ،باب العمل فی العشر الاواخر من رمضان ، حدیث نمبر 2024)

گویا نبی ﷺ اس رات دعا و عبادت کا خصوصی اہتمام فرماتے۔ تاکہ اپنے زندگی کے اہم معاملات پر اللہ تعالی سے سرگوشیاں کرلی جائیں اور اپنی التجائیں اس ذات کے سامنے رکھی جائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب اس رات کی فضیلت کا علم ہوا تو انھوں نے بھی نبی ﷺ سے وہی سوال پوچھا جو ہمارے یہاں عام طور پر پوچھا جاتا ہے۔

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ مَا أَدْعُو؟ قَالَ: ” تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي “

عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! اگر میں لیلہ القدر کو پالوں تو رب تعالی سے کیا مانگوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ مانگیے کہ اے اللہ!آپ خوب درگزر کرنے والے ہیں، آپس میں درگزر کو پسند فرماتے ہیں سو مجھے بھی معاف کردیجئے۔(سنن ابن ماجہ، الدعاء، باب الدعاء بالعفو والعافیۃ ، حدیث نمبر 3850)

اگر ہمیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو انسانی زندگی کا مقصد پورا ہوجاتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ہمارے یہاں جو دعا پڑھنے کا رویہ ہے وہ زیادہ مناسب نہیں ہے،دعا پڑھنے کی بجائے مانگیے۔  یہ بات بھی مد ِنظر رہے کہ ضروری نہیں ہے کہ انسان اس رات دعا ہی مانگتا رہے بلکہ نماز کی صورت میں بھی اللہ تعالی سے تعلق قائم کیا جاسکتا ہے۔ جو شخص احتساب کی نیت سے اس رات رب تعالی کے حضور قیام کرتا ہے تو اللہ تعالی گذشتہ تمام گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيلَةَ القَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ»

ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہےوہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان کا روزہ ایمان اور تزکیہ نفس کی نیت سےرکھا تو اس کے گذشتہ تمام گناہ معاف ہوجائیں گے اور جو لیلہ القدر کو ایمان اور تزکیہ نفس کی نیت سے قیام کرتا ہے اس کے بھی گذشتہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ (صحیح البخاری،فضل لیلۃ القدر ،باب فضل لیلۃ القدر ، حدیث نمبر 2014)

گویا جن گناہوں کا ہمیں علم بھی نہیں ہے اللہ تعالی انھیں اپنی رحمت سے مٹا دیتے ہیں بشرطیکہ ہم آئندہ گناہوں سے بچنے کا عزم کرتے ہیں اور اپنے سابقہ گناہوں پر شرمندہ ہوں۔

انسانیت کی بھلائی میں کوئی بھی اہم منصوبہ ہم شروع کررہے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں تو یہ آیات بتاتی ہیں کہ ہم اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعائیں مانگیں اور اس کام کی کامیابی اور برکت طلب کریں۔

یہ رات ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے:

اس لیے اس رات خصوصی دعائیں اور عبادت کی جائے۔

فرشتوں کے نزول کی رات:

اس رات فرشتے اور بالخصوص جبرئیل علیہ السلام دنیا میں آتے ہیں۔ اس بات سے یوں لگ رہا ہے کہ رمضان کی وجہ سے جہاں بڑے شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے وہاں اس رات دیگر شیاطین پر مزید سختی کی جاتی ہے۔ گویا کہا جاسکتا ہے کہ اس رات کی جانے والی عبادت میں طمانیت اور چاشنی بھی اس کی علامات میں سے ایک ہے۔ یوں فرشتوں کی موجودگی بجائے خود روحانی کیفیت پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

پھر اس رات کو ”لیلۃ القدر” کا نام دیا گیا ہے، عربی لغت کے ماہرین جانتے ہیں کہ قدر کا لغوی معنی تنگی کا ہے ۔ تو اسی مناسبت سے ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام لیلۃ القدر  اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس رات زمین پر اس قدر فرشتے اترتے ہیں کہ زمین تنگ پڑ جاتی ہے۔ گویا اس رات شیاطین آسمان کی خبریں چوری نہیں کرپاتےاور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انہیں شہاب بھی نہیں مارا جاتا۔ یعنی اس رات کی علامات میں سے یہ بھی ہے کہ شہاب نہیں چمکتا۔

سلامتی کی رات:

قرآن مجید نے اس رات کو طلوع فجر تک سکون وسلامتی کی رات قرار دیا ہے (هِيَ حَتّٰى مَطْلَعِ الْفَجْرِ)۔  شاید اللہ تعالی کے اسی فرمان کی تشریح میں روایات میں ہے کہ اس رات نور اور طمانیت ہوتی ہے۔ مومن عبادت میں زیادہ لگن محسوس کرتا ہے۔ آندھی نہیں چلتی بلکہ ہوا پرسکون ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اپنے بعض بندوں کو خواب میں بھی مطلع کردیتے ہیں۔ اس رات سردی کی شدت ہوتی ہے نہ گرمی کی۔اس رات کے بعد سورج کی طلوع ہوتے وقت شعائیں نہیں ہوتیں وہ سرخ اور کمزور ہوتا ہے۔ جس طرح چودھویں رات کا چاند ہوتا ہے۔

About مفتی شکیل عاصم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *