Home / شمارہ اگست 2018 / ماں اور بیٹی

ماں اور بیٹی

تحریر:راحیلہ ساجد

 

بيٹی خدا کی رحمت ہوتی ہے ۔ بيٹی کے پيدا ہوتے ہی ماں باپ کو اس کے مستقبل کی فکر لگ جاتی ہے ۔ اچھی مائيں بيٹی کی تربيت کے ساتھ ساتھ اس کے ليے جہيز بھی اکٹھا کرنا شروع کر ديتی ہيں تاکہ جب اس کے ہاتھ  پيلے کرنے کا وقت آئے تو بہت زيادہ بوجھ نہ پڑے کيونکہ فی زمانہ جہيز بچی کی ضرورت کم اور معاشرے ميں دکھاوے اور عزت قائم رکھنے کے ليے ديا جاتا ہے ۔ خير سے وہ دن بھی آن پہنچتا ہے جب بچی اپنے مياں کے ساتھ وداع ہو کر نئے گھر ميں قدم رکھتی ہے ۔ يہاں اسے کئی چيلنجز کا سامنا ہوتا ہے ۔ اگر تو عليحدہ گھر ہو تو ان چيلنجز کی نوعيت جوائنٹ فيملی سسٹم سے کافی مختلف ہوتی ہے ۔ ليکن ان چيلنجز سے نمٹنے کے ليے ايک لڑکی کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جن ميں ايک بہت بڑا مسئلہ کسی بھی نئی شادی شدہ لڑکی کے ليے اس کی ساس ہوتی ہے ۔ ليکن کبھی کبھی يہ مسئلہ لڑکی کی ماں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے ۔

ہم ہميشہ سنتے اور پڑھتے آئے ہيں کہ ساس ايسی ہوتی ہے ، ويسی ہوتی ہے ۔ بہو پر ظلم کرتی ہے ۔ بہو کو دبا کر رکھتی ہے اس کو اس کی مرضی سے جينے نہيں ديتی، بيٹے کا گھر بسنے نہيں ديتی ، دخل اندازی کرتی ہے اور اسی طرح کے بيسيوں الزامات ۔

ليکن کيا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ اکثر اوقات کسی لڑکی کا گھر خراب کرنے ميں اس کی اپنی ماں کا بھی ہاتھ ہوسکتا ہے ؟ جی جی ، آپ نے ٹھيک پڑھا، لڑکی کی ماں کا ہاتھ ۔ يہ بالکل بھی حيرانی والی بات نہيں ۔ بہت سی مائيں جانے انجانے ميں خود ہی اپنی بيٹی کا گھر خراب کر ديتی ہيں اور جب تک انہيں سمجھ آتی ہے تب تک پلوں کے اوپر سے پانی گزر چکا ہوتا ہے ۔

آپ نے بيٹی کی شادی کی ، اسے کسی کی حفاظت ميں دے ديا اب بے فکر ہو جايے ۔ ليکن بسا اوقات کچھ مائيں بےفکر ہونے کے بجاۓ کريد ميں لگ جاتی ہيں کہ آيا بيٹی سسرال ميں خوش ہے ؟ ساس، سسر، نند ، ديور کيسے ہيں ؟ مياں کا رويہ کيسا ہے ؟ يہاں تک تو ٹھيک ہے کہ يہ سب کچھ جاننا آپ کا حق ہے ليکن بات جب ان چند سوالات سے آگے بڑھتی ہے تب بيٹی کو ہلکے پھلکے مشورے دينے شروع ہوتے ہيں ۔

‘سب کا ذمہ اٹھانے کی ضرورت نہيں ‘

‘کمرے سے آرام سے نکلنا ، صبح سويرے کچن ميں  نہ پہنچ جايا کرنا’

‘نند کو کام کرايا کرو ‘

‘ديور کو سر پر چڑھانے کی ضرورت نہيں ۔ ‘

‘بڑی نند آئے تو زيادہ منہ لگانے کی ضرورت نہيں ‘

‘ساس کی ہر بات ميں جی حضوری اور سسر کی خدمت کرنا تمہارا فرض نہيں ۔’

‘مياں کی تنخواہ پر تمہارا حق ہے۔’

‘اپنا اور اپنے مياں کا خيال رکھا کرو سب کی فکر ميں ہلکان ہونے کی ضرورت نہيں ۔ ‘

‘مياں سے کہو کام والی کا بندوبست کرے ۔ ‘

‘ساس اور نند کی باتيں مياں کو ضرور بتايا کرو۔’

اور اس طرح کے متعدد ” بےضرر”مشورے جو بيٹی رانی کو وقتی تو بہت اچھے لگتے ہيں ليکن وہ ان کے اثرات سے بےخبر ہوتی ہے ۔

آہستہ آہستہ لڑکی ماں کو گھر کی ہر بات بتانا شروع کر ديتی ہے اور ماں بھی ہر بات ميں مفت مشورے دینا شروع  کر ديتی ہے ۔ اس کا نتيجہ کيا نکلتا ہے کہ لڑکی اب اپنے ذہن سے نہيں سوچتی بلکہ ماں کے ذہن سے سوچتی ہے ۔ اور اس بات کا اثر سب سے پہلے ساس سسر ، نند ديور سے چپقلش کی صورت ميں نکلتا ہے۔ اب بٹيا رانی نے ماں کی نصيحت يا مشورہ جو ماننا ہے تو مسئلہ تو بنے گا ہی ۔ پھر آہستہ آہستہ مياں کے ساتھ بھی حالات خراب ہونا شروع ہو جاتے ہيں ۔ اورآخر ميں جس کا نتيجہ يا تو اس جوڑے کی والدين سے عليحدگی يا پھر ان کی اپنی عليحدگی کی صورت ميں بھی نکل سکتا ہے ۔

اگر بيٹی ناراض ہو کر ميکے آتی ہے تو ماں اس کی بےجا حمايت کرتی ہے ۔  باپ چاہتا ہے کہ بيٹی گھر جائےمگر ماں آڑے آتی ہے ۔ قسمت سے اگروہ واپس جانا چاہے تو ماں کئی “گرکی باتيں ” پلے باندھ ديتی ہے کہ  بيٹی کہيں غلطی  سے ہی کوئی سيدھا  کام  نہ کر لے ۔

يہ باتيں بہت عام ہيں اکثرگھروں ميں ہوتی ہيں ليکن ہم ان کو زيادہ سيريس نہيں ليتے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جب بيٹی بياہ دی جاۓ تو اسے اپنے سسرال اور مياں کے ساتھ جينے ديا جائے ۔ اگر اس کی نيت ہو گی تو وہ ہر قسم کے حالات کے مطابق خود کو ايڈجسٹ کر لے گی اور پر سکون زندگی گزارے گی ۔ اور اگروہ شروع سے ہی سسرال کو بوجھ سمجھتی ہے تو اس کی ماں کی دخل اندازی اس کے ليے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مترادف ہو گی ۔

سب سے بہتر حل يہ ہوتا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کے معاملات ميں کم سے کم دخل اندازی کی جاۓ ۔ ان کواپنے مسائل خود حل کرنے ديے جائيں ۔ اگر وہ آپ کو شامل کريں تو ٹھيک ليکن خود ٹانگ اڑانے سے گريز کريں ۔ اس طرح سے ان کی زندگی بھی آسان گزرے گی اور آپ کی بھی ۔

اور بيٹيوں کو بھی چاہيے کہ وہ اپنے گھر کے معاملات کو ميکے ميں کم سے کم ڈسکس کريں ۔ کيونکہ والدين کا پريشان ہونا ايک فطری بات ہے اور وہ جانے انجانے ميں اپنی طرف سے اچھائی کی کوشش کرتے کرتے بيٹی کے ليے حالات خراب بھی کر سکتے ہيں ۔ لڑکياں اپنے گھر اور مياں کی طبيعت کو بہت اچھی طرح جانتی ہيں اس ليے انہيں چاہيے کہ اپنے مسائل اپنے حالات کے مطابق حل کرنے کی کوشش کريں۔ اور دوسروں کو کم سے کم دخل اندازی کا موقع ديں تو آپ کی زندگی ميں سکون اور اطمينان رہے گا ۔

ان شاء اللہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About راحیلہ ساجد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *