Home / شمارہ جون 2018 / ماں کا عالمی دن

ماں کا عالمی دن

تحریر:ڈاکٹر محمد عقیل

مئی کے دوسرے اتوار کو دنیا بھر میں مدرز ڈے یعنی ماں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن ساری دنیا بالخصوص مغربی دنیا کے افراد اپنی اپنی ماوؤں کو خراج تحسین پیش کرتے ، ان کی خدمات کو سراہتے، ان کے احسانات پر ممنونیت کا اظہار کرتے اور انکے ساتھ بتائے ہوئے لمحات سے کو بیان کرکے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔

ماں کی ہستی اتنی بلند ہے کہ اگر سال کے ۳۶۵ دن بھی اس کر دئیے جائیں تو اس کے احسانات کا شمار ممکن نہیں۔ اسی اہمیت کی بنا پر ماں کے احسانات کو ہر کوئی جانتا، سمجھتا اور اسے بیان کرتا ہے۔ خواہ وہ کوئی پڑھا لکھا افسر ہو یا کوئی انگوٹھا چھاپ دہقان۔

لیکن ماں کی ہستی سے بھی بلند ایک اور ہستی ہے جو ماں سے زیادہ مہربان، شفیق،رحیم اورکریم ہے۔ یہ ہستی ماں سے بڑھ کر انسان کی ضروریات کا خیال رکھتی اور ہر سرد و گرم میں اس کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ ہستی ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں انسان کے بے جان وجود کو زندگی بخشتی،اسے رزق فراہم کرتی، اس کا تنفس بحال رکھتی ، اسے بیرونی ٹھیس سے بچا کر رکھتی اور ایک مخصوص مدت تک اس تاریک ماحول میں زندگی کو ممکن بناتی ہے۔

جب یہ محروم و مجبور انسانی وجود اس دنیا میں آنکھیں کھولتا ہے تو پہلے ہی لمحے ماں کی شفیق گود اس کا گہورا بن جاتی، اسکی چھاتیاں اسے غذا فراہم کرتیں اور باپ کا وجود اس کے لئے مادی آسائیشیں مہیا کرنے میں جت جاتا ہے۔یہ سب کچھ اس ہستی کے حکم سے ہوتا ہے جس کا نام اللہ ہے۔

اللہ کے احسانات ان گنت ہیں ۔ اس کے احسانات محض بچپن تک محدود نہیں بلکہ یہ لڑکپن ،جوانی، ادھیڑ عمر اور بڑھاپے غرض عمر کے ہر حصے میں جاری رہتے ہیں۔ پھر اس کے یہ احسانات محض مادی سطح ہی کا احاطہ نہیں کرتے بلکہ انسان کی نفسیاتی، روحانی اور دیگر احتیاجات کو بھی پورا کرتے ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ آج لوگ ماں کے احسانات کو مان کر اس کی یاد کے لئے ایک دن مقرر کئے ہوئے ہیں لیکن جس نے ماں کی ممتا کو تخلیق کیا ، جس نے اسے یہ احسانات کرنے کی توفیق دی، جس نے اس کی فطرت میں یہ شفقت ودیعت کی، اس ہستی کی یاد کے لئے کوئی دن نہیں، کوئی رات نہیں، کوئی صبح نہیں ، کوئی شام نہیں۔

آج ماں کا عالمی دن اس لئے منایا جاتا ہے کہ ماں کی شفقت کھلی آنکھوں سے نظر آجاتی ہے لیکن خدا کی مہربانیاں اسباب کے پردوں میں چھپی ہوئی ہیں۔ ایک سعادت مند بیٹا اپنی ماں کی خدمات کو پہچان کر احسان مندی کا رویہ اختیار کرتا ہے ۔اگر وہ ایسا نہ کرے تو دنیا اسے نالائق فرزند سمجھ کر لعنت ملامت کرتی ہے۔ اسی طرح ایک نیک بندہ اپنے رب کی نعمتوں کو پاکر شکر گذاری کا رویہ اپناتا ہےاور اگر وہ ایسا نہ کرے تو خدا کی نظر میں ایک ناشکرا انسان بن جاتا ہے۔ایک نالائق فرزند دنیا میں رسوائی کا شکار ہوتا ہے تو ایک ناشکرا انسان دنیا و آخرت دونوں میں رسوا ہے۔

آئیے، اپنے رب کو ہر لمحے یاد رکھیں، اسکی باتوں کے نور سے اپنے سینے کو منور رکھیں، اسکی نعمتوں کو چرچا کریں، اس کی بڑائی بیان کریں، اس کاموں کے گن گائیں اور ہر ہستی سے بڑھ کر اس کے شکر گذار اور احسان مند بنیں۔

About ڈاکٹر محمد عقیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *