Home / رمضان سپیشل / ماہ رمضان کو قیمتی بنانے کی تجاویز

ماہ رمضان کو قیمتی بنانے کی تجاویز

لیجیے جناب! اپنے بیٹے کے عید گفٹس لیکر، چپکے چپکے انکی پیکنگ کر کے رکھ لیا ہے۔ اپنی فرینڈ کے بچوں کے عید کے تحائف بھی بالکل تیار ہیں۔ کپڑے بھی لے کر ہینگر پر لٹکا دیے ہیں۔ اپنے عید کے کپڑے میں پاکستان سے لیتی آئی تھی اسلئے وہ جھنجھٹ بھی پار لگ چکا۔ یہ سب اسلئے کہ پورے سال کے بعد رمضان آنے والا ہے، وہ یہ سوچنے میں کہ کیسے کپڑے بنواؤں، ساتھ کیسا دوپٹہ، کیسے جوتے میچ کروں، بچے کے لئے کیا کیا لینا ہے، باقیوں کو کیا تحفے تحائف دینے ہیں۔۔ اس چکر میں بابرکت مہینہ بازاروں میں خوار ہونے میں نہ ضائع ہو جائے۔ پورے سال کے گناہ بخشوانے ہیں، وقت کہاں ہو گا ضائع کرنے کے لئے؟

رمضان سے پہلے آخری تفصیلی grocery کے ساتھ کھجوریں لے آؤں گی، جنہیں دھو کر، خشک کر کے، گٹھلی نکال کر واپس باکس میں سجا کر مسجد میں چھوڑ‌ کر آؤں گی۔ ساتھ میں‌ جس چیز کی بھی توفیق ہو سکی، وہ بھی ان شاء اللہ مسجد میں روزہ افطار کرنے والوں کے لئے رکھ دوں گی۔ یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ترغیب دینا ہے کہ دوسرے کو روزہ افطار کروانے کا ثواب لینے کے لئے ضروری نہیں کہ بڑی بڑی افطار “پارٹیز” کی جائیں۔ پارٹیز کے لئے پورا سال کم نہیں۔ ایک افطار پارٹی کے لئے رنگا رنگ افطاری اور ڈنر بنانے میں پورا دن کوکنگ میں لگ جائے، بعد کا سارا ٹائم برتن دھونے اور کچن سنبھا لنے میں ضائع ہو، اور کھانے والے اوور ایٹنگ کر کے عبادات نہ کر سکیں تو یہ کہاں کا فائدہ ہے۔ اگر افطار پر بلانا بھی ہو تو کھجور، پھل (چلیں، بہت ہی جی چاہے تو فروٹ چاٹ بنا لیں) اور اسکے بعد ون-ڈش ڈنر کر لیں۔ عین افطاری کے وقت روزہ کھولتے ہی باہر چیک کریں، جو بھی ابھی گھر نہیں پہنچا اسکو کھجور اور دودھ/شربت/پانی دیں اور روزہ دار کا روزہ کھلوانے کا ثواب بھی لیں، پیاسے کو پانی پلانے کا بھی، مسافر کی مدد کا بھی۔ اسی طرح‌ اگر ممکن ہو تو اپنے پڑوسی، رشتہ داروں کو بھی پہلے سے کھجوریں ہدیہ کر دیں اور پیار سے تاکید بھی کر دیں کہ روزہ ان سے کھولنا تا کہ تمہارے ساتھ ساتھ اللہ تعالی مجھے بھی ثواب دیں۔

پاکستان میں بجلی جاتی ہے اسلئے شاید ممکن نہ ہو لیکن باہر رہنے والے میری طرح کافی سارا آٹا پہلے سے گوندھ کر رکھ سکتے ہیں۔ گندحے ہوئے آٹے کو ball کی شکل میں کر کے، cling wrap میں یا بڑے ziplock بیگز میں ڈال لیں تا کہ فریزر برن نہ ہو۔ جس دن استعمال کرنا ہو، پچھلے دن فریزر سے نکال کر فریج میں رکھ لیں۔ بالکل تازہ گندھے آٹے جیسا ہو گا۔ اس سے بھی وقت کی کافی بچت ہو گی۔

صفائی ستھرائی تو خیر سب پہلے سے کر ہی لیتے ہیں۔ رمضان میں ہاتھ ہولا ہی رکھیں تا کہ وقت کی بچت ہو سکے۔ اگر صفائی کے لئے گھر میں کوئی ہیلپر ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ بھی روزے سے ہو گی۔ اس بات کا خصوصی خیال رکھیں اورکھاتے پیتے رشتہ داروں کی افطار پارٹیز کرنے کی بجائے اس کو افطاری کے لئے کچھ زائد رقم دے دیجئے۔

کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جیسے جب کوئی بہت خاص، من پسند بندہ ہمارے گھر چلا آئے تو ہم اسکے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں، اسے ڈرایئنگ روم میں بٹھا کر خود سونے نہیں چلے جاتے، جگ راتے کر کے گپیں لگاتے ہیں، اسکو گھر چھوڑ کر باہر گھومنے اور شاپنگ کرنے نہیں چلے جاتے، بالکل اسی طرح رمضان کو بھی بہت خاص مہمان کی طرح ٹریٹ‌ کریں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، اسے کھانے پینے، سونے، غیر ضروری کاموں میں ضائع نہ کریں۔ اتنے انتظار کے بعد تو آتا ہے، اور اتنی جلدی چلا جاتا ہے، خیال تو رکھنا چاہئے ناں؟

About نیر تاباں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *