راہ نما

راہ نما

تحریر: راحیلہ صادق

جب کوئی ساتھ نہیں دیتا، جب کوئی راستہ نظر نہیں آتاکچھ نہین بچتا۔۔۔ تو امید کا دیا ہلکے ہلکے جلنا شروع  ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ اُس کی روشنی تیز ہوتی چلی جاتی ہےاور پھر اتنی تیز ہوجاتی  ہے کہ ہم شعور کی آنکھ سے اپنی منزل کا راستہ بھی دیکھ لیتے ہیں اور جہاں کچھ نہیں بچتا  وہیں سے  “کُن فیکون”  کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

جیسا کہ سوره  يٰـسٓ آیت نمبر 82 میں ہے:

إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ

اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہو جا، سو وہ ہو جاتی ہے۔

اور یوں  اُسے راہنما بھی مل جاتا ہے

؏    عدم سے کیا اُس نے تخلیق سب کچھ

جب کچھ نہیں تھا تو اللہ نے یہ دنیا بنائی تھی تو پھر وہ اپنے بندوں کو مصائب میں تنہا کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ وہی را ہ نما جو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے!

؏    خدا ہے ازل سے ابد تک

    باقی  جو ہے  و ہ عدم  ہے!!

About راحیلہ صادق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *