Home / شمارہ دسمبر 2017 / متکبرانہ اسٹائل

متکبرانہ اسٹائل

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی عرب معاشرت میں اسبال ازار ایک فیشن تھا۔ متکبر لوگ بالعموم اپنے تہہ بند کو زمین پر لٹکتا چھوڑ دیتے تھے اور اکڑ کر چلتے تھے جس سے یہ کپڑا گھسٹتا ہوا پیچھے چلتا تھا۔ اس ہیئت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ناپسند فرمایااور اس سے بچنے کا حکم دیا۔

ہر قسم کے متکبرانہ سٹائل سے بچنا دین کا اہم حکم ہے۔چونکہ ہم لوگ دین کے معاملے میں تساہل کا شکار ہو گئے ہیں اس لئے ہمیں یہ تو نظر آتا ہے کہ شلوار ٹخنوں سے کتنے انچ اوپر ہے لیکن حدیث میں دیے گئے حکم کے پیچھے جو مقصد اور روح کار فرما ہے اس پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا۔ لباس پہننے، لوگوں سے ملنے، مصافحہ کرنے، گاڑی میں سیٹ پر بیٹھنے، ملازموں اور ماتحتوں سے گفتگو کرنے اور تقریبات میں شرکت کرنے کے معاملات میں بہت سے ایسے اسٹائلز ہماری معاشرت میں موجود ہیں جن میں واضح طور پر تکبر کی جھلک موجود ہوتی ہے لیکن ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی جبکہ ان سے بچنا ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے۔

 جو لوگ اپنے علم، دولت یا عہدے میں دوسروں سے ممتاز ہوتے ہیں وہ بالعموم  دوسروں کے ساتھ حقارت سے پیش آتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر جو چیز تکبر کا باعث بنتی ہے وہ دین داری ہے۔ دین پر عمل کرنا بذات خود ایک نہایت ہی اعلیٰ چیز ہے لیکن بعض لوگ اپنی دین داری کے زعم میں خود کو اللہ کا پہنچا ہوا بندہ سمجھنے لگتے ہیں اور دوسروں کو گناہ گار قرار دے کر ہر وقت ان کی عیب جوئی میں مبتلا رہتے ہیں۔ خود کو نیک  اور دوسروں کو گناہ گار سمجھنا تکبر کی بدترین شکل ہے ۔ دین کا حکم ہے کہ تکبر کے ہر سٹائل سے اجتناب کیا جائے۔


 

About محمد مبشر نذیر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *