Home / شمارہ دسمبر 2017 / محبت کا اظہار

محبت کا اظہار

محبت کا اظہار انسان کی مسلسل ضرورت ہے۔اکثر رشتوں کی بنیاد میں محبت ہوتی ہے مگر عموما اس کے اظہار کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ یہ نظریہ اپنی جگہ درست ہے کہ سچے جذبے اپنی پہچان آپ ہوتے ہیں تاہم ایسا بھی اس لیے ہوتا ہے کہ انسان زبان سے اظہار نہ بھی کرے تو اس کا عمل تو اظہار کر ہی دیتا ہے۔وہ اس طرح کہ جس سے محبت ہو انسان اس کی عزت کرتا ہے،اس کی ہر چھوٹی بڑی خوشی،ضرورت اور آرام و سہولت کا خیال رکھتا ہے۔

محبت میں زبانی و عملی اظہار کی اپنی اہمیت ہے جیسے پودے کی نشوونما کے لیے آبیاری ناگزیر ہے۔جہاں اظہار،محبت کے پودے کو مرجھانے نہیں دیتا،وہیں یہ محبت میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔اظہار کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ نبی ﷺنے مسلمانوں کو تحفہ دینے کی رغبت دلائی کہ یہ محبت کے اظہار اور محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔آپ ﷺنے ہی ایک شخص کو تلقین کی تھی کہ اپنے ( مسلمان) بھائی کو بتا دو کہ تمہیں اس سے محبت ہے۔اسلام ہمیں یہ ہدایت دیتا ہے کہ جذبہ محبت کو اپنے قول اور عمل سے ظاہر کریں۔

نبی کریم ﷺنے فرمایا:

”جب کسی شخص کو اپنے (دینی) بھائی سے محبت ہو تو وہ اسے بتا دے کہ مجھے تم سے محبت ہے۔”(سنن ابی داؤد،حدیث:5124)

ایک بچے کو اگر والدین تمام سہولیات مہیا کریں،اس کی ہر مادی ضرورت کو پورا کریں مگر محبت کے اظہار میں کنجوسی سے کام لیں۔اس کی کامیابیوں پر حوصلہ افزائی نہ کریں،شاباش نہ دیں۔اس کی خوبیوں کا اعتراف نہ کریں۔اسے کئی کئی دن تک محبت سے گلے نہ لگائیں۔اس کے ساتھ وقت نہ گزاریں تو اعلی تعلیم اور بہترین معیار زندگی کے ہوتے ہوئے بھی بچے کی شخصیت تشنہ رہ جاتی ہے۔کیونکہ محبت اور توجہ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ویسے بھی کہا جاتا ہے جن بچوں کو والدین گرمجوشی سے پیار کرتے ہیں، گلے لگاتے ہیں،وہ زیادہ پراعتماد ہوتے ہیں۔

محبت کے اظہار کو ضروری تصور نہ کرنا شوہر اور بیوی کے رشتے میں بھی کئی تلخیوں کو جنم دیتا ہے۔نبی ﷺ اپنی ازواج سے محبت کا اظہار فرماتے ، بلکہ ایک موقع پر تو نبی ﷺ نے حضرت فاطمہؓ  کو بھی تلقین کی کہ جس (حضرت عائشہ ؓ) سے میں محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو۔”یہ محبت کا اظہار دونوں کے درمیان اعتماد کو بڑھاتا ہے۔

خامیوں کو نظرانداز کرکے خوبیوں کا اعتراف کیا جائے۔تعریف،حوصلہ افزائی اور شاباش مرد و عورت دونوں کی ہی نفسیاتی غذا ہے اور پھر سے اپنی ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے انجام دینے کے لیے جس توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اس کے لیے ٹانک کا کام کرتی ہے۔دن کی مصروفیت کے دوران،مناسب وقت پر فون یا ٹیکسٹ کےذریعے اپنی محبت کا احساس دلا دینا بھی اظہار کا ایک اچھا طریقہ ہے۔تحائف کا باہم تبادلہ کرنا،جو کہ ضروری نہیں کہ مہنگا ہو۔مگر وہ آپ کے ساتھی کے لیے اہم ہو،اسے “خاص” ہونے کا احساس دلائے مثلا پھول،اچھی سی کتاب یا کوئی چاکلیٹ ہو سکتی ہے،غرض جو بھی آپ سہولت سے اپنے ساتھی کو خوش کرنے کے لیے کرسکیں،ضرور کریں ۔ہر معاملے میں ایک دوسرے کی مدد کرنا،دوسرے کے کمفرٹ کا خیال رکھنا۔

بس وقتا فوقتا اپنے ساتھی کو اپنی زندگی میں سب سے “خاص” ہونے کا احساس دلاتے رہیں۔والدین کی قربانیوں کا زبان سے بھی اعتراف کریں اور عمل سے بھی۔جو کچھ انہوں نے ہمارے لیے کیا،گاہے بگاہے اس کے لیے ان کا شکریہ بھی ادا کریں۔تحائف دیں۔زبان سے محبت کا اظہار کریں کہ ” کیا میرے لیے آپ دونوں سے بڑھ کر بھی کچھ اہم ہو سکتا ہے” اس طرح کا کوئی بھی جملہ ہو۔ کیونکہ صریح الفاظ میں محبت کا اظہار کرنا ہر رشتے میں ہی ضروری ہے۔

والدین اولاد،شوہر اور بیوی،بہن بھائی،استاد شاگرد اور دوست غرض ہر رشتے میں محبت کا اظہار بہت اہمیت کا حامل ہے۔
نبئ رحمت ﷺاپنے ساتھیوں سے مختلف انداز میں محبت کا اظہار فرماتے۔ کسی کو پیار کا بہترین نام دیتے۔کبھی تعریف کرتے،حتی کے کئی دفعہ آپ ﷺان میں سے کسی کے لیے اپنی چادر مبارک اتار کر بچھا دیا کرتے تھے اور اسے اس پر بٹھاتے تھے۔
اظہار کے مختلف طریقے انسان کی ضرورت ہیں جو بہترین ریمائنڈر کا کام دیتے ہیں۔جو نہ صرف ہم سے وابستہ لوگوں کو،بلکہ ہمیں بھی ایک نیا خوشگوار احساس دلاتے ہیں، “اپنوں کے احسانات کا احساس”،” شکرگزاری کا احساس” اور “خاص” ہونے کا احساس۔

یہ احساسات انسان کو پھر سے تازگی بخشتےہیں۔اسی ضرورت کے پیش نظر امجد اسلام امجد نے کہا ہے:

محبت کی طبیعت میں

یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے

کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے

اِسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے!

یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو

ہزاروں طرح کے دلکش حسیں ہالے بناتی ہو

اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے۔

 

 

About حِنا تحسین طالب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *