Home / خواتین اسپیشل / محبت کے جھانسے سے کیسے بچا اور بچایا جائے

محبت کے جھانسے سے کیسے بچا اور بچایا جائے

محبت ایک جذبہ اور احساس ہے جو مطلوب اور غیر مطلوب ہوسکتا ہے ،ناکہ صرف وہ مطلوب اور غیر مطلوب ہو بلکہ اس کے اظہار کا طریقہ بھی صحیح اور غلط ہوسکتا ہے۔محبت مطلوبہ ضروری ہے بلکہ بعض صورتوں میں فرض ہوتی ہے جیسے اللہ سے ،رسول اللہ ﷺ سے ، اصحاب رسول ﷺ سے، اولیاء اللہ سے ، والدین سے ،اہل خانہ سے اور اس سے بڑھ کربحیثیت انسان دوسرے انسانوں سے۔

دوسری محبت غیرمطلوب ہے بلکہ بعض صورتوں میں مغضوب بھی ہے۔ جیسے آج کل اسکولوں،کالجوں اور آفس میں ہورہا ہے۔آج ہم اسی محبت غیرمطلوبہ پر بات کریں گے۔

محبت کی اس مذموم صورت کی وجہ سے آج جو آفت پوری دنیا میں برپا ہوئی ہے اس سے ہر کوئی  واقف ہے نہ جانے کتنے گھر اس آفت کا شکار ہوئے ۔نہ جانے کتنی خودکشیاں کی گئیں ،اور کتنے قتل صرف محبت کے نام پر ہوئے۔کئی لڑکیاں اپنی تعلیم بھی اسی چکر میں چھوڑ بیٹھتی ہیں یا چھڑوا دی جاتی ہے۔بلکہ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں جب کبھی کوئی مسلمان لڑکا کسی غیر مسلم لڑکی سے محبت کر بیٹھتا ہے تواس کی سزا پوری قوم کو دی جاتی ہے اور فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

محبت کی یہ شکل نوعمری میں شروع ہوتی ہے ۔اکثر اسکولز یا کوچنگ کلاسسزمیں یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے ۔اور محبت کے نام پر جنسی خواہشات پوری کی جاتی ہے ۔پہلے تو یہ مرض صرف کنواروں اور نوعمروں میں اپنا اثر رکھتا تھا لیکن افسوس سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اب یہ مرض پختہ عمر بلکہ شادی شدہ حضرات میں بھی پایا جانے لگا ہے؛ بلکہ اب تو شادی شدہ حضرات کی محفل میں یہ موضوع تو زبان زد ہوچکا ہے ۔

اگر ہم اس مرض کے اسباب پر غور کریں تو کئی ایک وجوہات ہمارے سامنے آتیں ہیں ۔

1: فلمیں:۔ سب سے بڑی  وجہ فلمیں ہیں ۔فلمیں خواہ  ہالی ووڈ کی ہوں یا  بالی ووڈ کی پوری مووی  محبت وعشق کے گرد گھومتی  نظر آتی ہے۔فلموں کے دلکش مناظر ،دل موہ لینے والے نغمیں ،ہیرو کا بےباک اور سوپرمین والا کردار ،ہیروئین کی انتہا کو پہنچتی ہوئی خوبصورتی۔ایک ۱۵۔۱۶ سالہ لڑکے لڑکی کو اتنا متاثر کردیتی ہے کہ لڑکے خود کو ہیرو سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں بھی خود کو ہیروئین سے کم تصور کرنے تیار نہیں ہوتی۔ظاہر سی بات ہے کہ ہر ہیرو بنا ہیروئین کے اور ہیروئین بنا ہیرو کے کیسی ہوسکتی ہے۔اب یہ نوعمر نیم پختہ ذہن کے لڑکے لڑکیاں اپنے ہیرو اور ہیروئین کی تلاش میں پریشان رہتے ہیں۔اور جو کوئی بھی ان سے ذرا ہمدردی سے بات کرلیتاہے یا محبت کا اظہار کر بیٹھے یہ فوراً اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

2: احساس کمتری کا شکار بچے :۔ جو بچے گھر میں توجہ سے محروم ہوتے ہیں۔ایسے احساس کمتری میں مبتلا بچے محبت کی تلاش میں کسی کے بھی ہاتھوں کا کھلونا بن جاتے ہیں۔اور اپنی عزت اور بعض حالات میں جان دونوں گنوا بیٹھتے ہیں۔

3: حد سے زیادہ لاڈ پیار سے پلے بچے:۔ ایسے بچے چونکہ ہر وقت توجہ کا مرکز رہتے ہیں ،انہیں لگتا ہےایسا کیسا ہوسکتا ہے کہ مجھے کوئی لڑکا یا لڑکی پیار نہ کرے اور اپنی نفس کی انا کی تسکین کے لیے وہ اس کنوئیں  میں گرجاتے ہیں۔

4: ماں باپ کا اپنے بچوں کے بارے میں تعریف کا غلط انداز:۔اکثر ماں باپ اپنے بچوں کی تعریف کرتے وقت لاشعوری طور پر ایسے جملے ادا کرجاتے ہیں جن کے اثرات کا احساس بھی ان لوگوں کو نہیں ہوپاتا۔جیسے بیٹے یا بیٹی کی خوبصورتی کی تعریف کرتے وقت انھیں فلمی اداکاروں سے تشبیہ دینا۔اپنے بیٹے کو کہنا کے تم تو بالکل شاہ روخ خان دیکھتے ہو یا بیٹی کے لیے بھی اس طرح کے جملے کہنا ۔ اب جب آپ اپنے بچوں میں ایسے کردار ڈھونڈیں گے تو ہونا وہی ہے جس کا بعد میں شکوہ کرتے ہیں اور روتے ہیں۔

5: بچوں کے سامنے اپنے ماضی کے قصہ بیان کرنا:۔ کئی ماں باپ اپنے بچوں کے سامنے اپنے ماضی کے گناہوں کو بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں ۔اپنے عاشقی کے قصے یوں بیان کرتے ہیں جیسے کوئی نیکی ہو۔ جس کا بیان کرنا ان پر فرض ہو۔

6: بری صحبت :۔ بری صحبت کی وجہ سے بھی کئی بچے بچیاں بگڑ جاتے ہیں۔جب وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے دوستوں کی تو گرل فرینڈز ہیں اور ان کی  نہیں تو انہیں بھی یہ شوق ہوتا ہے اور رہی سہی کثر دوست پوری کردیتے ہیں ۔

7: رومانوی ناولوں کا مطالعہ:۔خواہ  انگلش ناولز ہو ں یا اردو ۔اکثریت ان ناولوں کی رومانوی ادب کو فروغ دیتی ہے ۔اور اردو ادب میں تو یہ ظلم ہوا کہ ہمارے دینی ناول بھی اسی کا حصہ ہوگئے نسیم حجازی ہو یا عنایت اللہ التماش سب کی ناولز میں تھوڑا بہت لیکن رومانس کا تڑکا ضرور لگایا۔حتی کہ یوسف اور زلیخا کے قصے ہمارے یہاں ثواب کی نیت سے پڑھے گئے۔ایسے ناولز کی وجہ سے اچھے خاصے صالح ذہن کے لوگ بھی ان چکروں میں پڑ گئے۔

8:سوشل میڈیا:۔ دور جدید میں اس سے جتنے شر برآمد ہوئے ہیں وہ اس کے خیر سے بہت زیادہ ہیں ۔فیس بک ہو ،واٹس اپ ہو یا کوئی اور سوشل نیٹ ورک انسان شروع نیک نیتی سے کرتا ہے لیکن آگے جاکر وہ انہی چیزوں میں ملوث ہوجاتا ہے ۔جن کے خلاف وہ ایک زمانے تک بولتا اور لکھتا رہا ہو۔سوشل میڈیا نے تو ایسی محفوظ پناہ گاہ میسر کی ہے کہ اب یہ معاملات جلدکھلتے  ہی نہیں،اور اگر کھل  بھی گئے ،تو بڑی تاخیر سے جب سب کچھ لٹ  چکا ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا وجوہات کے علاوہ بھی کئی باتیں ہوسکتی ہیں۔لیکن مذکورہ باتیں ہی اس فساد اور بیماری کی اصل جڑیں ہیں۔

اللہ نے جس طرح ہر مرض کا علاج اور ہر فساد کا سدباب رکھا ہے ،اسی طرح اس فساد کے سدباب کے لیے کئی ایک گائیڈ لائن بھی ہمیں بتائی ہیں۔

1:ٹی وی کا کم سے کم استعمال :۔ اگر ہمیں اپنی نسلوں کو اس فتنہ سے بچانا ہے تو اپنے گھروں میں ٹی وی کے استعمال کو محدود کرنا ہوگا اور اگر ممکن ہوسکے تو ٹی وی کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے ۔بعض لوگوں کو یہ کہتے سنا گیا ہے کہ ہم ٹی وی صرف نیوز کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ایک فریب سے کم نہیں ۔ نیوز کو جاننے کے لیے آج بھی سب سے بہترین اور معتمد ذریعہ اخبارات ہیں۔اخبارات کا ایک فائدہ یہ بھی ھے کہ بچوں میں مطالعہ کا شوق بڑھتا ہے۔

2:فلموں اور رومانوی ڈراموں سے بچوں کو دور رکھا جائے اور ان کی قباحتوں کو بچوں کو بتایا جائے۔جب تک ہم ان فلموں اور ڈراموں کے بارے میں اپنے بچوں کو نہیں بتائیں گے وہ اس کے سحر میں مبتلاء رہیں گے۔ متبادل کے طور پر انکے لیے اچھی ڈوکیمینٹری فلمیں اور اسلامی ڈراموں کو پیش کیا جائے  تاکہ انھیں صالح تفریح میسر آسکے ۔

3:موبائل اور سوشل میڈیا:۔والدین اپنے بچوں کے موبائل ،لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر پر نظر رکھیں ۔انھیں اسکے نقصانات  سے آگاہ کریں ۔انکی فرینڈز لسٹ پر نظر رکھیں ۔بچوں کو تنہائی  میں ان چیزوں کے استعمال سے روکے ۔

4:بچوں کی صحیح تربیت:۔ بچوں کو نا احساس کمتری میں مبتلاء کریں اور ناہی انھیں متکبر بنائیں ،بلکہ جہاں ان سے  محبت اور پیار کریں وہیں ان کی غلطیوں پر ان کی سرزنش بھی کی جائے۔ اس توازن کو برقرار رکھنا بہت ضروری ہے ۔ان کی  تعریف کرتے وقت الفاظ کا محتاط استعمال کیا جائے۔اسی طرح تنقید کرتے وقت بھی زبان پر مکمل قابو رکھا جائے۔

5:سیر اور تفریح :۔ بچوں کو والدین خود سیر اور تفریح پر لے جایا کریں۔سیر اور تفریح سے بچے خوش ہوتے ہیں اور ان کا ذہن خرافات کی جانب سے ہٹ جاتاہے۔والدین کو بھی اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل جاتا ہے جو اس مشینی دور میں غنیمت ہے۔سیر اور تفریح کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو اللہ کی نشانیوں میں تدبر اور تفکر کی دعوت دے سکتے ہیں اور ان کے ذہن کو نیکی کے کاموں میں مصروف کراسکتے ہیں۔جب انھیں اپنے والدین اور بھائی بہنوں کے ساتھ ہی پکنک کا ماحول میسرآئے گا تو ان کا پارٹیز اور آوٹینگ کی طرف ذہن نہیں جاپائیگا۔

6:مسجد سے نسبت:۔ مسجد پورے روئے زمین پر سب سے محفوظ اور مامون جگہ ہے،جہاں سب سے بہتر طریقہ سے کسی کی

تربیت جاسکتی ہے۔امریکہ اور یورپ میں کئی مساجد کے بارے میں یہ پڑھا کہ وہاں سنڈے کلاسز اور اسی طرح دوسرے دنوں میں بھی خصوصاً نوجوانوں کے لیے اسلامک گیدرینگ منعقد کی جاتی ہے۔ ایسی محفلوں سے بچوں کو اچھے اور صالح دوست میسر آتے ہیں۔افسوس کہ ہمارے یہاں ناکہ لڑکیوں کے لیے بلکہ لڑکوں کے لیے بھی اس قسم کا کوئی انتظام مسجدوں میں نظر نہیں آتا۔اگر ہمیں اپنی نسلوں کو کلبز اور سنیما گھروں سے بچانا ہے تو ہمیں اپنے بچوں کو مسجدوں سے مانوس کرانا ہوگا۔

7:صالح لٹریچر:۔ رومانوی لٹریچر کے برخلاف ہمیں ایک صالح لٹریچر اپنے بچوں کو دینا ہوگا۔الحمد اللہ اب اردو میں ایسا لٹریچر کافی تعداد میں میسر ہے ۔وقت کی ضرورت ہے کہ انگریزی میں بھی ہم ایسا لٹریچر فراہم کریں۔ایک اسے لٹریچر کی ضرورت ہے جس سے ایک صالح معاشرہ وجودمیں آئے۔ اوران میں سب سے اہم قرآن سے اپنے بچوں کا تعلق کاجوڑنا ہے ۔انھیں قرآنی

حلقوں میں لےکر جائیں ،قرآنی تفاسیر پڑھنے کی رغبت دلائیں۔احادیث کے تراجم اپنے گھروں میں رکھیں  اور وقتاً فوقتاً ان سےریفرنس مانگتے رہیں۔

8: مفتی اور دوست بننے کی کوشش نہ کریں:۔ اکثر والدین یا تو مفتی ہوتے ہیں یا پھر دوست۔مفتی والدین ہمیشہ بچوں کو فتوؤں کی زد میں رکھتے ہیں ۔مسلسل تنقیدی  جملوں اور فتوؤں سے بچے بیزار ہوجاتے ہیں ۔دوسری طرف کچھ ماں باپ اپنے بچوں کے دوست بننے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ نظریہ بھی ہم نے مغرب سے مستعار لیا ہے۔اس نظریہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہےکہ اولاد اپنے والدین کی عزت نہیں کرتی بلکہ بڑی سے بڑی بیہودگی بھی کرجاتی ہے اورجواز یہ دیا جاتا ہے کہ  ہم تو دوستوں کی طرح رہتے ہیں۔اسلام والدین کو مربی کی صورت دیکھنا چاہتا ہے ۔انبیاء کی ساری زندگی اس پر دلیل ہے۔ایک مربی جس طرح اپنے ماتحت کی تربیت اور رہنمائی کرتا ہےاسی طرح ماں باپ کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کریں۔ انذار اور تبشیر کے مابین انداز تربیت کو رکھیں۔اسی لیے ہمارے یہاں یہ قول مشہور ہے کہ ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ ہے ۔مدرس مربی ہی تو ہوتاہے ۔ہر ماں کو اپنے بچے کے لیے مدرس و مربی ہونا چاہیے نہ کہ دوست یا ناقد۔

ان چند گزارشات کے ساتھ میں اپنی تحریر کو یہیں سمیٹتا ہوں۔امید ہے اہل علم میری غلطیوں پر میری اصلاح فرمائیں  گے۔آخر میں دعا ھے کہ اللہ مجھے بھی بہتر والد بننے کی توفیق دے اور مجھے اور میری اولاد کو بھی صالح بنا (آمین)

ابوزنیرہ شیخ

About ابو زنیرہ شیخ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *