Home / علمی و تحقیقی مضامین / مذہب اور سائنس کی قطعیت

مذہب اور سائنس کی قطعیت

فیتھ اینڈ ریزن (Faith and Reason)مانچسٹر کالج آکسفورڈ کا تحقیقی جرنل ہے جس کے شمارہ نمبر 134(1992) میں ڈاکٹر پال بیدھم کا ایک مقالہ شایع ہوا۔پروفیسر بیدھم مطالعاتِ مذاہب اور علم الٰہیات کے محقق ہیں۔ اپنے اس مقالے میں وہ لکھتے ہیں کہ ایک مذہبی فلاسفر کی حیثیت  سے میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ ایمان کو کبھی بھی سائنسی علم والی قطعیت کے درجے پر نہیں رکھا جاسکتا۔ان کے الفاظ یوں تھے:

As a philosopher of religion, I feel compelled to acknowledge that faith could never be placed on the same level of certainty as scientific knowledge.[1]

ڈاکٹر بیدھم کے یہ الفاظ دراصل مذہب کے متعلق آج کے جدید ذہن  میں پائے جانے والے  خیال کے بھرپور عکاس ہیں۔ ماضی میں تجرباتی سائنس کی حیرت انگیز ترقی کی بدولت  بعض لوگوں کو یہ خیال ہونے لگا کہ جس طرح سائنس ہمیں حقائق سے آگاہ کرتی ہے اور اپنے علم یعنی تصورات و نظریات کو تجربہ گاہ کے امتحان سے گزار کر حقیقت ثابت کرتی ہے مذہب  اپنے تصورات کو اس طرح ثابت نہیں کرتے اس لیے مذہب اوہام جبکہ سائنس حقائق کا مطالعہ پیش کرتی ہے۔ہم ایک بار پھر ڈاکٹر بیدھم کے الفاظ پر غور کریں تو ہمیں بنیادی طور پر دو   دعویٰ (Arguments)نظر آتے ہیں۔

1-سائنسی  علم قطعیت کے حامل ہوتے ہیں۔

2-مذہب کو سائنسی قطعیت کے درجے پر نہیں رکھا جاسکتا۔

یہاں سب سے پہلے ہمیں اس دعوے کو پرکھ لینا چاہیے کہ کیا واقعی سائنس سے حاصل شدہ نظریات اپنے اندر  قطعیت  رکھتے ہیں؟

ہم جانتے ہیں سائنس کی بنیاد مشاہدات اور تجربات سے حاصل کردہ معلومات پر ہوتی ہے جس میں بشری خامیوں اور کوتاہیوں کا امکان ہوتا ہے۔سائنس کا نکتۂ آغاز مفروضات (Hypothesis)پر ہے جو  مشاہدہ اور تجربہ کے مختلف مراحل سے گزر کر سائنسی اعتبار سے معقولیت(Scientifically Valid)  کے  زُمرے میں آتا ہے۔یہ معقولیت بھی قطعی ہونے کے بجائے درجۂ اِمکان (Degree of probability) کی حیثیت رکھتی ہے۔ سائنس  چونکہ اِنسانی اِستعداد سے تشکیل پانے والا علم(Human Acquired Wisdom) ہے اس لیے  اپنے میدان میں استنادی درجہ رکھنے کے باوجود  یہ درجہ ایقان کو نہیں پہنچتا۔ سائنس اپنے بیشتر معاملات میں قائم شدہ نظریات کو قول ِ فیصل تصور نہیں کرتی بلکہ یہ نظریات حتمی قطعیت  پر فائز ہونے کے بجائے ہر لحظہ مشکوک رہتے ہیں اور زمانے کے ساتھ اس کی غلطیاں بھی واضح ہوتی رہتی ہیں۔کائنات کی عمر، روشنی کی رفتار، بلیک ہول، بگ بینگ کی تفصیلات جیسے کئی بنیادی نظریات ہیں جو تاحال تشکیک  کے قفس میں  ہیں اور مختلف تحقیقات و تجربات انھیں مشکوک بنا رہے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ سائنس دان ہمیشہ اپنی تحقیقات  و استنباط کو قطعی  اور مطلق و جامد (Absolute or Unchangeable) کے بجائے اسی طرح پیش کرتے ہیں کہ موجودہ معلومات کی بنیاد پر یہ رائے یا توجیہہ زیادہ معقول ہے۔سائنسی تصورات میں عدم قطعیت کا اقرار خود سائنس دان بھی کرتے آئے ہیں بلکہ ان کے  نزدیک یہی عدم قطعیت دراصل سائنسی علوم کے ارتقاء کا باعث ہے۔فرانس کی Mediterranean یونیورسٹی میں فزکس کے محقق اور کئی کتابوں کے مصنف CarloRovelli سائنسی قطعیت کے بارے میں لکھتے ہیں:

Science is not about certainty. Science is about finding the most reliable way of thinking at the present level of knowledge. Science is extremely reliable; it’s not certain. In fact, not only is it not certain, but it’s the lack of certainty that grounds it. Scientific ideas are credible not because they are sure but because they’re the ones that have survived all the possible past critiques.[2]

سائنس کا تعلق قطعیت سے نہیں ہے بلکہ دستیاب معلومات کی بنیاد  پر  نظریات کے قابل اعتماد ہونے سے ہے۔ سائنس یقیناً  قابل اعتماد ہے لیکن قطعی نہیں ہے۔بلکہ قطعیت سے محرومی ہی اس کی بنیاد ہے۔سائنسی تصورات اس لیے قابل اعتماد نہیں ہیں کہ یہ یقینی و حتمی جواب دیتے ہیں بلکہ اس لیے قابلِ اعتماد ہیں کہ یہ تمام تر تنقیدوں کے باوجود عقلی اعتبار سے سلامت ہیں۔ یہی  بات مغرب کے مشہور فلسفی  کارل پاپر نے اپنی تصنیف ‘‘سائنسی دریافت کی منطق’’میں اس طرح بیان کی۔

ہمیں سائنس کو ایک‘‘مجموعۂ علم’’ کی بجائے ‘‘مفروضوں کے ایک نظام’’ کے طور پر دیکھنا چاہئے، یعنی اندازوں یا توقعات کا ایک نظام جو اصولی طور پر تو قابل دفاع نہیں مگر ہم اسے اس وقت تک استعمال کرتے رہیں گے جب تک کہ وہ تجربے کی کسوٹی پر پورا اترتا رہے اور اس بارے میں ہم کبھی یہ کہنے میں حق بجانب نہیں کہ ہمیں علم ہے کہ یہ ‘‘سچ’’یا ‘‘کم و بیش یقینی ’’یا پھر‘‘احتمالی’’ہے۔[3]

اس موقع پر ایک مشہور سائنسی اصطلاحScientifically Proven کی وضاحت بھی ضروری ہے جسے بالعموم حقیقت کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ سائنس کے ایک ادنیٰ طالب کو بھی اس بات سے واقف ہونا چاہیے کہ اس خاص اصطلاح سے مراد قطعیت کے بجائے کسی مفروضے کا سائنٹفک  میتھڈ سے گزر کر معقولیت تسلیم کرنا ہے۔ یہ تسلیم شدہ تصورات، اصول و ضوابط اور دستیاب معلومات کی رو سے تسلی بخش اور درست ہوسکتے ہیں مگر انھیں صداقت کہنا،بلا جواز منطقی قطعیت کے  درجے میں رکھ کر ‘‘حقیقت مطلق’’ ماننا  اور پھر مذہب سے اس کا تقابل کرنا ایک بڑی فنی غلطی ہے۔چنانچہ یہ بات سورج کی طرح واضح ہوجانی چاہیے کہ جس قطعیت کا مطالبہ مذہب سے کیا جاتا ہے خود سائنس بھی اپنے بے شمار نظریات میں اس قسم کی قطعیت سے محروم ہے۔

دوسری جانب مذہب (اسلام) کا موضوع انسان اور پوری کائنات  کا نصب العین ہے ۔اس لیے مذہب اپنے باب میں سائنس کی طرح مشکوک قطعیت پیش نہیں کرتا   بلکہ یقینی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔رہی یہ شرط کہ کسی چیز کو اُسی  وقت تک قطعی مانا چاہیے جب تک مشاہدات اور تجربات اس پر  معقول تنقید نہ کردے، تو یہی بات قرآن بھی کہتا ہے کہ قرآن کی قطعیت کا ہر اعتبار سے امتحان لے لیا جائے   اور اسے اطمینان کے بعد اسے قبول کیا جائے۔ انسانی تاریخ  شاہد ہے کہ نہ اس منبع علم یعنی قرآن کی قطعیت کبھی بھی چیلنج کی  جاسکی ہے اور نہ ہی اس پر کوئی ایسی تنقید ہوسکی ہے جو اسے باطل ٹھہرا دے۔

منبع علم ‘‘قرآن ’’کی قطعیت کیسے پرکھی جائے؟

‘‘مذہب اور جدید استدلال’’ کے تحت ہم یہ  بات کہہ آئے ہیں کہ  جس طرح دیگر امور کا عقلی تجزیہ (Rational analysis) کیا جاسکتا ہے اسی طرح مذہب کا بھی عقلی  تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔کسی سائنسی نظریے کی قرآن کی قطعیت کا حال بھی اس کے عقلی مطالعے کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ قرآن نے اس معاملے میں مطالعے کا ایک بہترین تنقیدی اصول خود قرآن نے مقرر کیا ہے۔

قرآن کی ایک آیت یہ ہے :

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآن وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْد غَيْر اللَّه لَوَجَدُوا فِيهِ اِخْتِلَافًا كَثِيرًا

یعنی اگر یہ (قرآن) اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے هوتا تو وه اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے (سورۃ النساء۔آیت: 82)

اس اصول کی روشنی میں ہمیں قرآن مجید کی صداقت اور اس کی قطعیت کو جانچنے کا بہترین معیار ملتا ہے۔ قرآن کے بیان کا ایک حصہ وه ہے جس میں وہ انسان سے مخاطب ہوکر اسے کائنات پر غور و فکر کی ترغیب دیتا ہے۔ اس ضمن میں زمین و آسمان، تخلیق ،انسانی جسم اور دیگر طبعی دنیا کے بارے میں بھی حقائق سے پردہ اٹھاتا ہے۔ یہ موضوع ، قرآن اور سائنس کے درمیان مشترک ہے۔اس مشترک بنیاد کو لے کر ایک ناقد کو چاہیے کہ وہ قرآن مجید میں بیان کردہ حقائق کا علمی مسلمات (facts) سے تقابل کر کے دیکھے۔ یہ ثابت ہوگا کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے علمی اعتبار سے قطعیت کی حامل ہے اور مسلمہ عقلی معیار پر ثابت ہو رہی ہے ۔

[1]بحوالہ: مولانا وحید الدین خان۔ فکرِ اسلامی۔ صفحہ 114۔

[2]www.newrepublic.com/article/118655/theoretical-phyisicist-explains-why-science-not-about-certainty+&cd=2&hl=en&ct=clnk&gl=pk

[3]Karl Popper, The Logic of Scientific Discovery, Routledge Classics, 2nd Edition, 2002

 

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *