Home / شمارہ اگست 2018 / شمارہ جولائی 2018 / مذہب کے نام پر جنسی اور جذباتی استحصال

مذہب کے نام پر جنسی اور جذباتی استحصال

تحریر: محمد شمیم مرتضیٰ

علامہ ابن جوزی اپنی مشہور کتاب “تلبیس ابلیس” میں بڑی صراحت کے ساتھ ابلیس کے ان تمام ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہیں جو وہ حضرت انسان کو بھٹکانے اور ورغلانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر ہم غور کریں تو اس کے اہداف میں سے کچھ اہم اہداف تعلیمی و مذہبی طبقہ کو راہِ راست سے ہٹانا شامل ہے۔ اور یہی طبقہ اس کا سب سے کمزور مخالف ثابت ہوتا ہے۔ مذہبی طبقہ کو تکبر ِ پرہیزگاری اور عبادات میں مبتلا کرنا اس کے لیے بڑا آسان ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح اساتذہ کو تکبر ِعلم  میں مبتلا کرنا یا اس بات پر مائل کرنا کہ جب تک تمام علم مکمل نہیں ہوجاتا عمل سے گریز کرتےر ہیں۔

عموماً مرد اساتذہ، خواہ وہ مذہبی تعلیم دیں یا دنیاوی، جب پڑھاتے ہیں تو اس بات کاخیال نہیں رکھتے کہ ان کا کوئی بھی عمل خواتین کو ان کی طرف راغب کرسکتا ہے۔ خصوصا ان کا حد سے زیادہ گھل مل کر پڑھانا یا کسی کو ضرورت سے زیادہ توجہ دینا۔  یہ عمل عموماً نادانستگی میں وقوع پذیر ہوتا ہے، لیکن ان تمام معاملات میں سب سے زیادہ خطرناک اور قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ استاد جان بوجھ کر ایسے حالات و واقعات پیدا کرے جو خواتین کو ان کی طرف مائل کریں۔ یہ معاملات عموماً چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہوتے ہیں۔ مثلاً کچھ طالبات کو دوسروں سے زیادہ توجہ دینا، ان سے زومعنی باتیں کرنا، ان کو علیحدہ بلا کر کچھ سمجھانا، ان کی سالگرہ پر مبارکباد دینا یا کوئی تحفہ دینا۔ اپنی ذاتی چیزیں ان سے شیئر کرنا،کسی طرح سے ان کا جذبہ ترحم ابھارنا، چونکہ  دورِ حاضر سوشل میڈیا کا دور ہےتو اب یہ سب کچھ بہت آسان ہوگیا ہے۔ کسی کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرنا یا میسنجر اور واٹس ایپ پر کسی کے علم میں لائے بغیر ایک دوسرے سے روابط رکھنااب کوئی مشکل معاملہ نہیں رہا۔ عموماً خواتین کو جب خصوصی توجہ ملتی ہے تو وہ نادانستگی میں ان تمام  معاملات کو محبت کا نام دے بیٹھتی ہیں اور ایک چالاک اور موقع پرست استاد ان تمام باتوں سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ بیک وقت کئی کئی خواتین کو محبت اور شادی کا جھانسا یا کسی اور قسم کا جنسی استحصال اس طرح کے لوگوں کا خاص وطیرہ ہے۔

About محمد شمیم مرتضیٰ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *