Home / خواتین اسپیشل / مشرق و مغرب  کاخاندانی نظام: دو انتہائیں، درمیانی راستہ کیوں نہیں؟

مشرق و مغرب  کاخاندانی نظام: دو انتہائیں، درمیانی راستہ کیوں نہیں؟

ربط و تعلق اور معاشرتی سطح پر تعامل نہ ہونے کہ وجہ سے اکثر و بیشتر دوسروں کے بارے میں خوش فہمیوں، ناکافی معلومات اور محض قیاس آرائیوں پر مبنی تجزیات  اور خیالات  کا اظہار ہمارے ہاں ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ کئی مسائل اور معاملات کی طرح مغرب و مشرق کے “نامعلوم” تہذیبی کشمکش کے تناظر میں دونوں جگہ رائج خاندانی نظاموں میں موجود خوبیاں اور خامیاں اکثر و بیشتر اپنے احساسِ برتری اور دوسروں کے تہذیبی پستی کے ثبوت کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ اگر(ہمارے خیال میں)  مغرب نے انفرادیت اور فرد کی آزادی کے نام پر خاندانی نظام کی پائیداری اور استحکام کی ذمہ داری سے پیچھا چھڑا لیا ہے تو مشرقی خاندانی نظام بیجا اور غیر ضروری طور پر اپنے خاندانی روایات کے ساتھ ایک عجیب قسم کے رومانویت  کا شکار نظر آتا ہے۔ وہ خاندانی نظام جو شاید زرعی دور کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق قابلِ عمل تھا جہاں فرد کی آزادی اور اس کی مرضی و منشاء خاندانی روایات اور بزرگوں کے قول و قرار کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھیں۔ ہمارا خاندانی نظام اتنا پیچیدہ اور غیر معقول  بنیادوں پر استوار ہے جس سے فرد کی انفرادیت کی کلی نفی لازم ٹہرتی ہے۔ مغرب نے اگر انفرادیت میں افراط اور مبالغہ کیا ہے تو مشرقی معاشرے نے اجتماعیت میں فرد کی انفرادیت  کی تفریط کی ہے۔ حقیقت اور معقولیت درمیان میں کہیں موجود ہیں جو تلاش اوردریافت کے متقاضی ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مغربی دانشور ہمیشہ اپنی غلطیوں کا اعتراف اور اس کا مناسب لائحہ عمل طے کرنے میں دیر نہیں کرتا کیونکہ وہاں معاشرہ ہر دم متحرک رہتا ہے ۔ اسی تحرک اور معاشرتی معاملات کو میکانیکی تناظر میں دیکھنے کے رجحان نے  وہاں مسائل بھی پیدا کئے ہیں جس کا سامنا وہ کر رہے ہیں۔ سرِ دست معاصر مشرقی خاندانی نظام کا مطالعہ اور رائج خاندانی روایات کا تجزیہ مطلوب ہے۔ یہ سوال اہم ہے کہ  کیا ہم مغرب و مشرق کے معاصر خاندانی نظام  کی خامیوں اور خوبیوں سے کوئی سبق حاصل کر سکتے ہیں جس کی روشنی میں ایک معقول، مناسب اور قابلِ عمل خاندانی نظام تشکیل دینے کی کوئی سبیل نکالی جائے  نیز مروجہ خاندانی نظام کو فرد کی انفرادیت کے نام پر  بیجا آزادی اور خاندانی روایات اور آباء و اجداد کی اندھی تقلید  میں فرد کی انفرادیت کا گلہ گھونٹنے  جیسے رجحانات سے چھٹکارا پائیں اور موجودہ خاندانی نظام کو زیادہ پائیدار اور نتائج کے اعتبار سے مثبت بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

مشرقی معاشرے میں خاندانی نظام کے ساتھ رومانویت کا حال یہ ہے کہ خاندان میں وراثتی تقسیم یا  بٹوارہ ہمیشہ خون خرابے یا پھر تعلقات کے ابدی خاتمے پر منتج ہوتا ہے۔ خاندان کے بچاؤکی خاطر فرد کی جان جائے تو جائے لیکن خاندان، اس کی روایات اور مریادہ پر آنچ نہ آنے پائے۔ کیا یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر اس تمام بندوبست میں فرد کا کیا مقام ہے۔ آخر انسانوں کی بنائی ہوئی فرسودہ روایات  کے غیر ضروری تحفظ اور انا پرستی کی تسکین کے لئے کیا فرد کی بَلی چڑھانا ضروری ہے؟  اگر فرد ہی خاندان کی بنیادی اکائی ہے تو پھر اس کا خاندانی نظام میں کردار کیا ہے؟ “فرد ، خاندان کی بنیادی اکائی ہے” کیا یہ تصوربنیادی طور پر مشرقی ہے یا مغربی؟ اگر مشرقی ہے ، جیسا کہ ہمیں پڑھایا جاتا ہے، تو کیا فرد کے بارے میں بنیادی اکائی ہونے کا تصور محض تصور نہیں؟ کیا عملاً اس کے برعکس عمل نہیں ہو رہا؟

مشترکہ خاندانی نظام ،جو سراسر زرعی دور اور قبائیلی معاشروں کے ہاں رائج نظام ہے، کوبعض اہلِ مذہب کی طرف سے  الہامی سند عطا کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے نیز بعض ایسے بھی جو مشرکہ خاندانی نظام کی پیچیدگیوں کا فہم وادراک رکھتے ہیں ، وہ اکائی خاندان کو الہامی دلائل کی بنیاد پر سندِ جواز پیش کرتے ہیں۔ فرد کی انفرادیت یہاں بھی افراط و تفریط کا شکار نظر  آتی ہے۔ کہیں  بیجا آزادی اور کہیں جبر کا راج۔۔۔ آخر انسان انتہاؤں کا عادی کیوں بنتا جا رہا ہے؟ درمیانی راستہ اور اعتدال پر مبنی رجحانات ناپید کیوں ہورہے ہیں؟

معاصر پشتون معاشرہ بھی اسی افراط و تفریط کا شکار نظر آتا ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام اگر ایک طرف معاشی ضروریات کی تکمیل میں معاون ثابت ہوتا ہے کیونکہ ایک فرد کماتا ہے اور 8-10 کھاتے ہیں، تو دوسری طرف فرد کی انفرادیت بھی غیر اہم سمجھی جاتی ہے۔ نیز خواتین ، جو اصلاً صنفِ نازک سمجھی جاتی ہے، کا استحصال بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک طرف شادی بیاہ جیسے سنجیدہ نوعیت کے معاملات میں خواتین کی رائے معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی تو دوسری طرف شادی ہوجانے کے بعد شوہر کے ساتھ ساتھ ساس، سسر اور دیوروں کی چودھراہٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔نیز اسی نظام میں خاتون اپنے شوہر کے علاوہ دوسروں کی مارپیٹ کا بھی شکار ہوتی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ دوسروں کو ایسا کرنے سے روکنے والا کوئی نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایک نارمل چیز سمجھی جاتی ہے کہ دیور اپنی بھابی پر ضرورت کے وقت ہاتھ اٹھا کر اپنی مردانگی کا ثبوت دے۔ مشترکہ خاندانی نظام کی ساخت ہی ایسی ہے جہاں فرد کی پرائیویسی کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی بغاوت ہوتی ہے تو نتائج نہایت بھیانک ہوتے ہیں۔ اگر ایک طرف مادیت پر مبنی سوچ نے مشترکہ خاندانی نظام کی بنیادیں کمزور کرنی شروع کردی ہے تو دوسری طرف اسی خاندانی نظام کے استحصال پر مبنی روایات کے خلاف ابھرنے والی اوراس کو چیلنج کرنے والی ذہنیت بھی تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے۔  ایک مشاہدہ یہ بھی ہے کہ جہاں بھی فرد معاشی لحاظ سے آزاد اور خودمختار ہوتا جا رہا ہے وہاں مشترکہ خاندانی نظام  کے ساتھ وابستگی مزید کمزور ہوتی جارہی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پرکھوں کی بنائی ہوئی روایات اور تعامل کو حرفِ آخر سمجھنے اور قبائلی و زرعی دور کے طرزِ زندگی کو جدید دور میں اسی طرز پر لاگو کرنے پر زور دینے کی بجائے اس میں چند ترامیم اور تبدیلیاں کی جائیں۔ مثلاً خاندانی روایات کے ساتھ وابستگی کے ساتھ ساتھ فرد کی انفرادیت تسلیم کرنی چاہیے، فرد کی پرائیویسی اور پرسنل سپیس کو اہمیت دینی چاہیے، خواتین کو صنفِ نازک سمجھنے کی فرسودہ سوچ کا خاتمہ کرنا چاہیے کیونکہ خواتین کے مجموعی کردار نے اس کی نفی کی ہے جو تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔  کیونکہ اگر خاندان کی تشکیل کا مقصد فرد کی انفرادی صلاحیتوں کی بہتر نشوونما اور معاشرتی تحفظ ہے تو فرد کے انفرادی تشخص کو معقول اور مناسب حد تک اہمیت دینی ہوگی ورنہ نہ صرف یہ کہ موجودہ خاندانی نظام کی شکست و ریخت کا سفر مزید تیزی اختیار کرے گا بلکہ فرد غیر ضروری طور پر ایک نامطلوب کشمکش اور ٹکراؤ میں اپنی صلاحیتیں ضائع کرے گا۔۔۔

(فداء الرحمن، وزیٹنگ فیکلٹی ممبر، انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور)

About فدا ءالرحمن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *