Home / شمارہ نومبر 2017 / مطالعہ و تفہیم مذاہب میں ایک بنیادی غلطی

مطالعہ و تفہیم مذاہب میں ایک بنیادی غلطی

تفہیم مذاہب کے حوالے سے مسلم طلبا و محققین   کے ہاں ایک بنیادی نوعیت کی غلطی   بہت عام ہے کہ  مذہب کے آفاقی تصور کواسلامی’’ شریعت‘‘ کی حدود میں قید کرکے  سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے نتائج میں بہت سی غلطیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ہم جانتے اور مانتے ہیں  کہ شریعتِ اسلامی اُن اصولوں پر مبنی ہے جو آئندہ قیامت تک کے  زمانے کے لیے سامانِ ہدایت ہے جبکہ سابقہ مذاہب ماضی کے مخصوص زمان و مکان کے لیے تھے اور اب وہ شرائع محرف ہونے علاوہ outdated بھی ہیں۔

اس لحاظ سے سابقہ مذاہب کر تحقیق کرتے ہوئے یہ ذہن میں رہنا چاہیے عصری تناظر میں ان پر تنقید بجا ہوسکتی ہے ،مگر ان مذاہب اور ان تصورات کوموجودہ شریعت کے پیراڈائم میں رکھ کر دیکھنا غلط نتائج پیدا کرتا ہے  ۔لہٰذا جب کبھی مذہب کی بات بحیثیت مجموعی کی جائے گی، جب کبھی یہ موضوع سماجی ادارے کے طور پر  زیر بحث آئے  تو یہ ذہن نشین کرلیں کہ  تاریخ میں مذہب  محض مشرق وسطیٰ کے ابراہیمی مذہب کا نام نہیں بلکہ   یہ ایک آفاقی حقیقت  کا نام ہے جو سیدنا آدم کے زمانے میں سے ہی اپنی ابتدائی   صورت میں موجود رہی ہے۔

اگر یہ اصول مان لیا جائے ، بلکہ ظاہر ہے کہ قرآن کے تصورِ مذہب کی روشنی میں اسے مسلمہ قرار  دے دیا جائے تو تاریخِ مذہب سے متعلق بہت سے فکری مسائل حل کیے جاسکتے  ہیں۔ مثلاً  مسلم اہل علم مانتے ہیں کہ انسان کی مذہبی  تاریخ کا سب سے پہلا تصور توحید رہا ہے  مگر اس تصور کے اثبات کے لیے جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ محض فلسفیانہ موشگافیاں   ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اب تک اہل علم اس مفروضے کو  کسی واضح ثبوت کی بنیاد پر ثابت کرنے سے تاحال قاصر ہیں۔ ارتقائے مذاہب کا یہ مسئلہ حالانکہ اس قدر سنگین نہیں کہ کسی حل سے محروم ہو، لیکن اس  محرومی کی وجہ یہی  ہے کہ ہم  مذہب کی حقیقت کو ایک مخصوص ابراہیمی مذاہب کے پیراڈائم میں رکھ کر حل کرنے کی لاحاصل  کوشش کررہے ہیں۔ جب کہ مسئلہ مذکورہ اس سے ہزاروں برس پہلے کے دور سے تعلق رکھتا ہے۔اسے وہی رکھ کر ہی حل کیا جاسکتا ہے۔

 لہٰذا  مذہب پر تحقیق  کرتے  ہوئے اس بنیادی اصول کو ذہن میں رکھیں کہ ہم جب کبھی دوسرے مذہب پر تحقیق اور غور و فکر کریں تو لیے لازم ہے کہ یہ فہم اس مذہب کی تاریخ کے تناظر میں اسی سماجی پس منظر میں ہو جہاں وہ نشونما پایا ہے۔

About حافظ محمد شارق

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *