Home / خواتین اسپیشل / معاشرے کی ترقی میں عورتوں کا کردار

معاشرے کی ترقی میں عورتوں کا کردار

 کسی بھی معاشرے کی ترقی میں عورتوں کا کردار بہت ہی اہم ہوتا ہے۔بہترین مثالی معاشرہ وہ ہوتا ہے جس میں مرد کمائے اور عورت گھر کو سنبھالے اور بچوں کی تربیت کرے۔ مگر اس مثالی معاشرے میں بھی تمام کام مرد ہی سرانجام نہیں دے سکتے۔ بہت سے شعبہ ہائے زندگی ایسے ہیں جوعورتوں کے لیے ہی مناسب ہیں، خاص طور رپر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں۔

موجودہ دور میں ہر شعبے کی ترقی میں عورتوں کا کردار مثالی ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر عورتوں کی تعداد 50 فیصد سے زیادہ ہے، تعلیم سمیت ہر شعبے میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں یا کر سکتی ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ تمام خواتین بھی اپنی تعلیم اور صلاحیت سے معاشرے کو فائدہ پہنچائیں۔بہت سے شعبہ ہائے زندگی ایسے ہیں جو صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہیں ۔ اس کے علاوہ بوقت ضرورت خواتین ہرشعبے میں کام کر سکتی ہیں۔ڈاکٹری کے شعبے میں عورتوں کی سخت ضرورت ہے۔بہت سے لوگ عورتوں کی تعلیم کے مخالف ہیں مگرجب اپنی عورتوں کا علاج کرانا ہو تو کسی خاتون ڈاکٹر کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔ اللہ کے بندو! اگر بچیوں کو تعلیم نہیں دلاؤ گے، اُن کی تعلیم کی مخالفت کرو گے ، اُن کو ڈاکٹر نہیں بناؤ گے تو پھر پردہ دار عورتوں کا علاج کیسے کراؤ گے؟ خواتین کے امراض کے علاج کےلیے خواتین ڈاکٹروں ہونا بہت ضروری ہے۔عورتوں کے کپڑوں کی سلائی، چوڑی مہندی، بیوٹیشن کے شعبے بھی عورتوں کےہی ہیں۔عورت مرد کی نسبت اچھی ٹیچر ہوتی ہیں۔

 عورتوں کے کام کرنے کے حوالے سے، ملازمت کے حوالے سے قرآن کریم میں کہیں بھی ممانعت نہیں۔ قرآن کریم میں خاص

طور پر نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات اور عام طور پر امت کی خواتین کے متعلق حکم نازل ہوا ہے کہ گھروں میں رہو اور زکوۃ

دیتی رہو۔

 وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ ۖ وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (٣٣:٣٣)

ترجمہ :اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہلِ بیتِ نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔

اس آیت میں اگرچہ زکوٰۃ دینے کا ذکر عمومی طور پر اسی طرح کیا گیا ہے جیسے کہ نمازکی ہر آیت میں نماز کے ساتھ آیا ہے ، اس کے

باوجود اس سے پتہ چلتا ہے کہ نما ز کی طرح زکوٰۃ بھی ہر کسی پر فرض ہے۔ اب زکوٰۃ تو وہی دے گا جو کچھ کماتا ہو۔چاہے کمائی کاروبار کی ہو یا زمینوں کی۔

 کام کرنے کے ماحول کے حوالے سے دیکھا جائے تو اگر معاشرہ اسلامی ہو تو حکومت کو خود ہی ایسے اقدامات کرنے چاہیے جس سے خواتین کو کام کرنے کے لیے ایسا ماحول میسر آئے جہاں وہ آزادی اور حجاب کے ساتھ کام کر سکیں۔ عورتوں کو کام کرتے ہوئے پردے کا خیال رکھنا چاہے۔ کام کے دوران چہرے کے پردے کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال کے مطابق کام کے دوران چہرے کا پردہ ضروری نہیں جبکہ کچھ کے نزدیک پردہ ضروری ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مصر سے مدین پہنچے تو ان کی ملاقات چند لڑکیوں سے ہوئی جو اپنے باپ کے بڑھاپے کی مجبوری کے سبب سے گلہ بانی کا کام خود کرتی تھیں۔ معاشرے کی خراب حالت کے باعث انہیں گلہ بانی میں دشواری کا سامنا تھا۔ موقع ملتے ہی انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملازم رکھ لیا۔ اس سے پہلے جب ایک لڑکی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے کے لیے گئی تو بہت شرماتی ہوئی گئیں۔ اُن کی یہ شرماہٹ اللہ تعالیٰ کو اتنی بھائی کہ اب قرآن کریم میں تاقیامت اس کا ذکر ہوتا رہے گا۔

 فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاءٍ قَالَتْ إِنَّ أَبِي يَدْعُوكَ لِيَجْزِيَكَ أَجْرَ مَا سَقَيْتَ لَنَا ۚ فَلَمَّا جَاءَهُ وَقَصَّ عَلَيْهِ الْقَصَصَ قَالَ لَا تَخَفْ ۖ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ (٢٨:٢٥ )

ترجمہ :(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ) ان دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا سے چلتی ہوئی اس کے پاس آئی اور کہنے لگی

“میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں” موسیٰؑ جب اس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اسے سُنایا تو اس نے کہا “کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالموں سے بچ نکلے ہو۔”

یعنی مجبوری میں مخلوط ماحول میں کام کرنا پڑ جائے تو ایسے کریں جیسے حضرت موسیٰ کی بیوی اور اُن کی بہنیں شادی سے پہلے کرتی

تھیں۔وہ معاشرہ خواتین کے کام کرنے لیے بالکل بھی موضوع نہیں تھا۔ اچھے معاشرے میں عورتوں کو انصاف کے ساتھ برابری کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔

محمد امین اکبر

About محمد امین اکبر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *