Home / شمارہ اگست 2018 / معاف کرنے کی عادت ڈالیے

معاف کرنے کی عادت ڈالیے

تحریر:محمد ندیم پشاوری

 

عام طور پر معاشرے میں تمام انسانوں کے درمیان طبیعتوں، دلچسپیوں، مشاغل  اور ذوق کا کھلا تضاد پایا جاتا ہے اور یہ تضاد و اختلاف انسان کی فطرتی بناوٹ اور قدرتی ساخت کا تقاضا ہے۔ گھر میں جتنے بھی افراد ہوتے ہیں چاہے وہ سگے بھائی ہوں یا چچا زاد بھائی تقریباً  ہر ایک کی طبیعت  اور مزاج دوسرے سے قدرے  مختلف ہوتی ہے کچھ سنجیدہ مزاج ہوتے ہیں اور  کچھ ہنسی مذاق کو ہی اپنی شناخت بنا لیتے ہیں، کچھ کم سخن ہوتے ہیں اور کچھ باتونی، کچھ سلیقہ مند اور مہذب ہوتے ہیں اور کچھ کو گھر کی نظم و ترتیب  سے الرجی ہوتی ہے۔ ہر وہ جگہ جہاں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں چاہے وہ خاندانی ادارہ ہو، تعلیمی ادارہ ہو ، کوئی دفتر ہو، کارخانہ ہو، کمپنی ہو یا پھر مسجد و مدرسہ ہو طبیعتوں اور مزاجوں کے اختلاف کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ بعض اوقات  کسی بات یا کام کو لے کر بحث و مباحثے اور لڑائی جھگڑے تک بات پہنچ جاتی ہے۔ ابتدائی طور پر ایسے حالات کا پیش آنا پریشان کن نہیں لیکن ایک دوسرے کو معاف نہ کرنے کی وجہ سے رنجشیں اور دوریاں بڑھتی جانا یقیناً اپنی ذات کے لیے عموماً  اور معاشرے کے لیے خصوصاً پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ معاف نہ کرنے سے دل میں ایک دوسرے کے لیے بد گمانیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہی بد گمانیاں  ایک دوسرے سے دوبارہ الجھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف منفی جذبات ابھرتے ہیں، انتقام کی آگ بھڑکنے لگتی ہے جاہلیت کی غیرت بیدار ہوتی ہے اور جلتی پر تیل چھڑکنے کی ڈیوٹی  میں ہمارے دیرینہ ’’ہمدم‘‘ جو قسمیں کھا کھا کر ہمیں اپنا ہمدرد باور کرانے کی کوشش کرتا ہے  کبھی ناغہ نہیں کرتے۔نتیجتاً خاندانی دشمنیاں جنم لیتی ہیں، قتل و غارت گری کا بازار گرم ہوجاتا ہے ، خاندان کے رجال یا تو ساری زندگی اپنے آپ کو قفس میں بند رکھنے پر سمجھوتہ کر لیتے ہیں  اور یا تو  خود کی زندگی سمیت علاقے محلّے کے لوگوں کی زندگی کو داؤ پر لگا دی جاتی ہے اور تمام معاشرے کو بلا کسی وجہ  سزا بھگتنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ہم ایسے کئی خاندانوں سے واقف ہیں جو انتہائی نامعقول بات پر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ایک مرتبہ سبق پڑھنے کے بعد مسجد سے واپسی پر دو بچے ایک دوسرے کی ٹوپیاں اچھال رہے تھے یہاں تک کہ آپس میں لڑنے لگے دونوں بچوں کی طرف  سے اُن کے خاندان والے ایک دوسرے پر فائر کرنے لگے نتیجتاًکئی افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔’’ارے پیارے  غلطی ہو گئی معاف کرنا‘‘ یہ ایک انتہائی مختصر  سا جملہ ہے  جس کے تلفظ سے ہم شرماتے ہیں، ہماری جھوٹی  اَنا ہمیں دوسروں سے معافی مانگنے سے روکتی ہے، ہمارے ضمیر کو کوسنے کی کوشش کرتی ہے کہ’’اگر معافی مانگ لی تو معاشرے میں تمہاری کیا عزت ر ہ جائے گی تم ذلیل ہو جاؤ گے ، منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گے، لوگ تمہیں بزدل کا طعنہ دیں گے‘‘۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ معاف کرنے سے انسان اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتا ہے ، شخصیت میں نکھار پیدا ہوتی ہے اور بہت سے جان لیوا تنازعات کا سد باب ہو جاتا ہے۔ جاپان کی حیرت انگیز ترقی کے پیچھے یہی صفت کار فرما ہے۔ ایک صاحب اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جاپان جانے کا اتفاق ہوا کہ اچانک سڑک پر دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئی۔ دونوں شہری اپنی گاڑی سے اترے اور ایک دوسرے کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہو گئے ۔ ایک نے کہا کہ غلطی میری ہے دوسرے نے کہا نہیں غلطی میری ہے، مجھے معاف کر دو۔ اسی کا  نام مزاج کی تعمیر ہے اور یہی مزاج قوموں کی ترقی  کا ضامن ہے۔

            اسی مزاج کی بدولت مکہ کے یتیم ریاست مدینہ کے بانی ٹھہرے اگر مکہ ہی میں آپ کفار و مشرکین کے ساتھ الجھ پڑتے تو ریاست مدینہ کبھی وجود میں نہ آتی۔ہم بحیثیت مسلمان اپنے آئیڈیل ’’رحمت للعالمین‘‘ کے واقعات تو ضرورپڑھتے ہیں لیکن کبھی اُن کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش نہیں کرتے۔ طائف کا واقعہ ہو ، اُس بڑھیا کا واقعہ ہو جو روز جو آپﷺ پر گندگی کے ڈھیر پینکھا کرتی تھیں اور ناغہ کرنے پر آپﷺ اُس کی تیماری داری کرنے چلے گئے یا پھر  اُس حبشی کا  واقعہ ہو جس نے آپﷺ کے چچا سید الشہداء حضرت امیر حمزہؓ کو قتل کیا تھا یہ  تمام واقعات  ہر خاص و عام کی زبان زد عام ہے لیکن عمل کرے تو کون! معاف کرے تو کون!۔ ہمارے ارد گرد روزانہ  جتنے مسائل جنم لیتے ہیں اکثر  ہماری بد مزاجی اور غلط رویے ہی کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اگر ایمان کی حلاوت محسوس کرنا چاہتے ہیں، بڑی خوشی حاصل کرنا چاہتے ہیں، معاشرے میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں، لوگوں کے درمیان مقبول ہونا چاہتے ہیں الغرض اگر مؤمن بننا چاہتے ہیں اور اپنے نیکیوں کے پلڑے کونیچے ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تو معاف کرنے کی عادت ڈالیے کیونکہ قرآن پاک میں ارشاد ہے ’’واذا ما غضبوا ھم یغفرون‘‘ ترجمہ: ’’جب اُن کو غصہ آتا ہے تو وہ معاف کرتے ہیں‘‘۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭

About محمد ندیم پشاوری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *