Home / تعمیر افکار / معالج کا ہمدرد رویہ

معالج کا ہمدرد رویہ

تحریر:ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ایک سوال:

ڈاکٹر صاحبہ آبزرویشن میں یہ آیا ہے اور میرا تجربہ بھی یہی کہتا ہے کہ بھاری بھرکم فیس لے کر بھی ڈاکٹر سے بس دو تین منٹ ملتے ہیں  جس میں ڈاکٹر پوری بات بھی نہیں سنتے، یہ عام چلن ہے۔ کیاایسا ہونا چاہیے؟

جواب:ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ آپ کے مرض کو دھیان سے سنے ۔ تجربہ اور مشاہدہ ڈاکٹر کو اتنا ٹرینڈ کر دیتے ہیں کہ وہ مریض کے آفس میں داخلے سے معائنہ کے لیے اسٹول پر بیٹھنے تک اس کی علامت جج کر چکا ہوتا ہے اور محض چند سوالات میں تشخیص لکھ کر دوا تجویز کر دیتا ہے ۔ عموما مریض اس سب کے ساتھ ساتھ اپنے جذبات اور خوف ، گھر خاندان اور معاشرے کے رویے یا کچھ اضافی گفتگو کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں ۔ عموما اس سب کا لاشعوری مقصد ایک ہمدرد سامع کی خواہش ہوتی ہے جو مریض کی طرف کی کہانی سنے اور اسے غلط نہ ٹھہرائے یا کم از کم ایک اچھا مخلص مشورہ دے ۔ جبکہ اسی دوران باہر باری کے انتظار میں موجود دیگر مریض اتنے لمبے انتظار کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ پس اس لیے ڈاکٹر ٹو دا پوائنٹ بات سنتے اور کرتے ہیں ۔ہاں اگر ڈاکٹر نرم گفتار ،ہمدرد سامع ہو تو مریض کا آدھا مرض صرف دل کا بوجھ ہلکا کرنے سے ہی کٹ جاتا ہے ۔ سو میرے کولیگز کے لیے یہ ٹپ ہے کہ اگر آپ ایمرجنسی میں نہیں تو اپنے مریض کے دل کی بات ضرور سنیں ۔ معالج کا ہمدرد رویہ معجزاتی نتائج کا حامل ہوتا ہے یہ طبیب کو مریض کا فیملی ممبر بنا دیتا ہے ۔ ایسا کیا جانا چاہیے۔ میرے کولیگز کے رویے سے اپ کی دل آزاری ہوئی اس کے لیے میں آپ سے معذرت طلب کرتی ہوں ۔ سلامت رہیے۔

About ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *