Home / علمی و تحقیقی مضامین / معرکہ حق و باطل ابلیس کی وجہ سے برپا نہیں ہوا

معرکہ حق و باطل ابلیس کی وجہ سے برپا نہیں ہوا

 اللہ تعالی نے ابلیس کے انکار سے پہلے اپنا منصوبہ بتا دیا تھا کہ وہ زمین میں خلیفہ بھیج رہا ہے۔ فرشتوں نے ابلیس کے انکار سے پہلے کہا کہ انسان زمین میں فساد مچائے گا۔ کیونکہ اختیار ملنے کا ایک نتیجہ اس کا غلط استعمال ہے۔

نیز جنات کے بارے میں تجربہ ہو چکا تھا کہ انہوں نے زمین میں فساد برپا کر رکھا اور اب انسان اسی آزاد ارادے اور اختیار کے ساتھ زمین پر جا رہا تھا۔ اس لیے فساد کا امکان بدیہی تھا۔ نیکی اور بدی کرنے کی صلاحیت انسان کی فطرت میں پہلے سے ڈال دی گئی تھی

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (91:8)

پھر اُس کی بدی اور نیکی اُسے سجھا دی۔

حق و باطل کا اصل معرکہ انسان کے اسی نفس نے اسی اختیار کے ساتھ برپا کرنا تھا۔ ابلیس تو بیچ میں کود پڑا اور اس معرکے میں باطل کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ استدلال یہ ہے کہ انسان کا نفس جو نیکی بدی کا منبع ہے وہی حق و باطل کا معرکہ برپا کرتا ہے۔ ابلیس خارجی عامل ہے گواضافی عامل ہے

آدم کو باغ (جنت) میں عارضی قیام کے لیے رکھا گیا تھا۔ اب ظاہر ہے کہ جب بھیجنا زمین پر تھا تو اس باغ کا قیام لازمی طور پر عارضی ہی بنتا ہے۔ اس پر ابلیس کے بیانات بھی دلالت کرتے ہیں، آدم کے بہکانے کے لیے اس نے جنت کے عارضی قیام کو مستقل قیام میں بدلنے کا جھانسا ہی تو دیا تھا

فَوَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ (20:120)

لیکن شیطان نے اُس کو ورغلایا۔ اُس نے کہا: آدم، میں تم کو وہ درخت بتاؤں جس میں ہمیشہ کی زندگی ہے اور اُس بادشاہی کا پتا دوں جس پر کبھی زوال نہ آئے گا؟

وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ (7:20)

اُس نے اُن سے کہا: تمھارے رب نے تمھیں اِس درخت سے صرف اِس وجہ سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تمھیں ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔

خدا نے کچھ مدت بعد انسان کو زمین پر بھیجنا تھا لیکن مگر ابلیس بیچ میں آ گیا اور وقت سے پہلے انسان کو جنت سے نکلوا دیا۔ رخصتی عزت سے ہونی تھی، مگر اس نے ذلیل کروا کر نکلوا دیا۔

پھر یہ دیکھیے کہ آدم نے خدا سے معافی مانگی، خد انے معاف کر دیا، لیکن واپس اس باغ میں نہیں بھیجا۔ بلکہ زمین پر ہی بھیجا کیونکہ وقت آ گیا تھا کہ وہ جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اسے پورا کرنے زمین پر چلا جائے۔

یہ سمجھنا کہ انسان شیطان کے بہکاوے کی وجہ سے زمین پر بھیجا گیا، یہ تاثر دیتا ہے کہ زمین پر اس کا آنا ایک سزا ہے۔ معافی کے بعد بھی سزا خدا کے عدل کے خلاف ہے، نیز، یہ وہ نظریہ ہے جو مسیحیت میں گناہ اصلی کے تصور کے ساتھ پیدا ہوا اور یہ غلط ہے۔

یہ سوچنا کہ خدا کی آزمایش کی اسکیم کے لیے ابلیس کو استعمال کیا گیا خدا کے عدل کے سراسر خلاف ہے۔ ابلیس اپنی آزاد مرضی سے منکر ہوا اور اس معرکہ حق و باطل میں اس نے باطل کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ جس سے بس یہ ہوا کہ انسان کا امتحان مزید سخت ہو گیا جس کے لیے خدا کی طرف سے ہدایت کا اہتمام اور رحمت میں وسعت کر دی گئی۔

About ڈاکٹر عرفان شہزاد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *