Home / رمضان سپیشل / معمولاتِ رمضان

معمولاتِ رمضان

رمضان نفس کی تربیت کا بہترین مہینہ ہے۔ اس میں چونکہ شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے اس لیے انسانی فطرت نیکی کی طرف جلد راغب ہوتی ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں ہم حضورصلی اللہ علیہ وآلہ ٖ وسلم کی پیروی کر کے خود اپنی ذات کی تعمیر زیادہ سے زیادہ کر سکتے ہیں۔حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ  ” حضور صلی اللہ علیہ و آلٰہ وسلم کا رمضان میں معمول تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلٰہ وسلم کثرت سےنوافل و تسبیح اور ذکرِ الٰہی کرنے کے بعد سونے کے لیے چلے جاتےاور رات  کے کسی پہر اٹھ کر تہجد   ادا کرتے۔ خصوصاََ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کی آخری راتوں  میں عبادت و ریاضت میں بہت زیادہ منہمک ہو جاتے تھے، خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی بیدار رکھتے”۔(صحیح البخاری کتاب33: باب5)

اس ماہ کی فضیلت کا احساس کرتے ہوئے صحابہ و صحابیات بھی دنیاوی تجارت و مقاصد کو کم کر کے عبادات   کی طرف متوجہ ہو جاتے، صدقہ و خیرات میں اضافہ کر دیتے، ہمسایوں کا خیال کرتے ، غریب و مساکین کی دل جوئی کرتے اور خود اپنی ذات کی تربیت میں لگ جاتے نیز ایک دوسرے کو بھلائی کی بات کہتے۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  اور صحابہ و صحابیات کی زندگیوں سے ہمیں رمضان گزارنے کے چند راہنما اصول ملتے ہیں جن پر عمل کر کے ہم بھی رمضان کی اصل روح کو پا سکتے ہیں۔سب سے پہلا کرنے کا کام یہ ہے کہ رمضان کا چاند دیکھتے ہی اس ماہ  میں صحت و عافیت سے رہنے کی دعا کریں تا کہ عبادات  کی جا سکیں۔

٭  چاند دیکھتے ہی اپنی ذات کا احتساب کیجئے ۔ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوں اور عہد کر لیں کہ اس ماہ میں ہم نے اپنے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنا ہے اور ایسی تربیت کرنی ہے کہ آئندہ پورا سال اس ماہ کی تربیت ہماری زندگی پہ حاوی رہے۔اس کے علاوہ سب کو معاف کر دیں۔

٭  رمضان میں زہد کو اپنا لینے  کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اپنا حال پراگندہ کر لیں بلکہ کوشش کریں روزانہ نہائیں اور صاف ستھرے کپڑے پہنیں،مسواک کریں، سرمہ لگائیں، کنگھی کریں۔  رمضان کا چاند نظر آتے ہی نہا کر تیار ہو جائیں اور اسے اپنا معمول بنا لیں۔

٭   رمضان کی چاند رات سے ہی تراویح کا اہتمام کیجئے ۔ بعض علماء کے نزدیک دیکھ کر قرآن پاک پڑھا جا سکتا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں اور تراویح میں تلاوتِ قرآن کریں۔

 ٭ تہجد کے علاوہ  چاشت و اوابین کا خیال بھی رکھیں۔اس کے علاوہ دیگر نوافل پڑھتے ہوئے یہ خیال رکھیں کہ نوافل اتنی مقدار میں پڑھیں جتنے آپ آسانی سے پڑھ سکیں ورنہ دوسری صورت میں پہلے ہی عشرہ میں آپ کی توانائی ختم ہو جائے گی۔

٭ ہمسایوں  اور محلہ کے لوگوں کی خبر گیری کرتے رہیں غریب اور مستحق لوگوں کو افطار کی چیزیں بھجوا دیں یا استطاعت کے مطابق رقم  پہنچا  دیجئے تا کہ وہ بھی طاقت و قوت کے ساتھ روزے رکھ سکیں۔صدقہ و خیرات  زیادہ کر دیں۔ صدقہ و خیرات صرف پیسوں سے نہیں بلکہ کسی کو اچھی بات بتانا اور کسی کی سخت بات کو درگزر کرنا بھی اسی میں شامل ہے ۔ استعمال کے کپڑے، جوتے  یہاں تک کے کھانا وغیرہ بھی صدقہ کیا جا سکتا ہے۔

٭ کوشش کریں کہ جن کی افطاری کروانی ہے پہلے عشرہ میں کروا لیں تا کہ آخری عشرے میں عبادت زیادہ کی جا سکے۔اگر ممکن ہو تو اعتکاف بھی بیٹھیں۔ طاق راتوں میں شبِ قدر کی تلاش کریں اور خوب دلجمعی سے عبادت کیجئے ایسے جیسے رمضان کی آخری راتیں شاید ہماری زندگی کے رمضان کی آخری راتیں ہوں۔

خاتونِ خانہ

٭ خاتونِ خانہ چونکہ سحری کا اہتمام کرنا ہوتا ہے اس لیے ان کے لیے بہتر ہے  کہ  تہجد کی ادائیگی کے بعددرسِ قرآن یا تفسیرِ قرآن پر منبی لیکچرز  موبائل میں رمضان سے پہلے ہی جمع کر لیں اور  تہجد کے بعد  سحری کے اہتمام کے ساتھ ساتھ یہ لیکچر بھی سنتی رہیں۔ چونکہ یہ وقت خاموشی اور سکون کا ہوتا ہے اس لیے یہ لیکچرز  اس وقت آسانی سے سمجھ آ سکتے ہیں۔لیکچر کے علاوہ  سحری کی تیاری کے دوران اذکار و تسبیحات کی جا سکتی  ہیں۔

٭  ہر نماز کو اول وقت میں ادا کرنے کی عادت بنائیں  اکثر خاتونِ خانہ کاموں میں مصروفیت کے باعث نماز کو بعد کے لیے ٹال دیتیں ہیں مگر اس رمضان میں عادت بنانی ہے کہ نماز کو اؤل وقت میں ادا کریں۔

٭   نماز ِ فجر کے بعد تلاوتِ قرآن کریں  یہاں تک کہ  پوری طرح  دن چڑھ جائے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دن چڑھنے تک تلاوت کیا کرتیں تھیں) ۔ خواتین کو کوشش کرنی چاہیے کہ روزانہ ڈیڑھ سے دو سپارے مکمل کریں تا کہ رمضان میں کم از کم ایک بار قرآن مجید مکمل کیا جا سکے۔ (اگر ایک نشست میں اتنا قرآن پاک نہیں پڑھ سکتیں تو دن کے مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا کر کے پڑھ لیں )۔اس کے بعد چاشت کا معمول بنائیں۔

٭    دن چڑھنے کے بعدخواتین گھر کے کام اور بچوں کی طرف توجہ دیں۔ کاموں سے فراغت کے بعد تھوڑی دیر کے لیے سو جائیں تا کہ رات کی عبادت کے لیے توانائی جمع ہو سکے۔

٭ ظہر سے کچھ دیر پہلے تلاوت کا معمول بنا لیں یہاں تک کہ ظہر کی اذان ہو جائے کیوں کہ عموماً رمضان میں یہ وقت خواتین کے لیے فرصت کا ہوتا ہے۔ ظہر کے بعد اگر وقت ہو تو قیلولہ کر لیں یا گھر کے کام کاج اور افطاری وغیرہ کے انتظام میں لگ جائیں۔افطاری کی تیاری کے اوقات ایسے رکھیے کہ افطاری سے آدھا گھنٹہ پہلے تک سب کچھ تیار ہو  تا کہ یہ آدھا گھنٹہ آرام سے یکسوئی سے بیٹھ کر دعا میں گزارا جا سکے۔

٭مغرب کے بعد برتن دھو کر رکھ لیں تا کہ سحری کے وقت مشکل نہ ہو۔اگلے دن کے لیے کپڑے استری کر لیں اس طرح کے چھوٹے موٹے کام نپٹاتیں جائیں۔ عشاء و تروایح کے بعد  تھوڑی دیر گھر والوں کے ساتھ باتیں کریں ۔پھر نوافل کی ادائیگی، تلاوتِ قرآن  اور  اس کے بعد ذکر و تسبیحات پڑھتے پڑھتے سو جائیں۔

٭  عشاء سے تھوڑی دیر پہلے واک کا بھی معمول بنائیں ۔یہ واک آپ کو نہ صرف تازہ کرے گی بلکہ کھانے کو ایڈجسٹ ہونے میں بھی مدد دے گی جس سے نمازِعشاء کی ادائیگی آسان ہو جائے گی۔اس کے علاوہ  اس چھوٹی سی واک سے سستی و غنودگی بھی دور ہو جائے گی اور آپ مکمل توجہ کہ ساتھ نمازِ عشاء اور تراویح ادا کر سکیں گے۔

٭ خاتونِ خانہ کو ناشکری، غیبت، برائی یا اکتا کر کسی کے خلاف بات کرنے سے بچیں۔بچوں اور بزرگوں سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں انہیں سخت سست سنانے سے پرہیز کریں۔

دفتری  خواتین

٭ نوکری والی خواتین  فجر کے بعد برتنوں کی دھلائی سے فارغ ہو کر تلاوت کریں اور اس کے بعد تھوڑی سی نیند لے لیں تا کہ آفس میں کام کے لیے فریش ہو جائیں۔آفس کے راستے میں تسبیحات یا مختلف دعائیں پڑھتیں رہیں۔آفس میں افسران و کولیگز کی بدخوئی کرنے سے بچیں اور اس بات  کا خیال رکھیں کہ آفس میں جب بھی وقت ملے اذکار   اور دعائیں پڑھتے رہیں۔اگر قرآن پاک کا انتظام ہو سکے تو فارغ اوقات یا بریک میں تلاوت بھی کی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس فارغ وقت کو اپنے کولیگز کے ساتھ اچھی باتیں سیکھنے اور سکھانے میں بھی صَرف کیا جا سکتا ہے۔   آفس سے آتے ہی اگر وقت ہے تو تھوڑا سا سستا لیں ۔ اس کے بعد وقت کے حساب سے تلاوت، لیکچرز یا کھانا بنانے کی طرف متوجہ ہوں۔ (باقی معمول خاتونِ خانہ  کی ہیڈنگ کے تحت آنے والے پوائنٹس جیسا ہی ہو گا۔)

٭ آفس میں خصوصی خیال رکھیں کہ مرد کولیگز کے ساتھ بات کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ خلوت مہیا نہ کریں۔ زبان یا اشاروکنایوں میں بھی ایسی بات نہ کریں جس میں لذت کا عنصر موجود ہو۔ لغویات سے بچیں ، پردہ کا اہتمام کریں۔

دفتر ی مرد حضرات

٭ نمازِ فجر کے بعد تلاوت ِ قرآن کا معمول بنائیں۔ وقت کے حساب سے تلاوت کریں، چاشت ادا کریں  اور آفس کے راستے میں تسبیحات یا مختلف دعائیں پڑھتیں رہیں۔آفس میں افسران کی بدخوئی کرنے سے بچیں اور اس بات  کا خیال رکھیں کہ آفس میں جب بھی وقت ملے اذکار   اور دعائیں پڑھتے رہیں۔اگر قرآن پاک کا انتظام ہو سکے تو فارغ اوقات یا بریک میں تلاوت بھی کی جا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ اس فارغ وقت کو اپنے کولیگز کے ساتھ اچھی باتیں سیکھنے اور سکھانے میں بھی صَرف کیا جا سکتا ہے۔ ظہرکی نماز باجماعت پڑھنے کا معمول بنائیں ہو سکے تو دفتر کے افراد مل کر جماعت کا انتظام کر لیں۔

٭ آفس میں خصوصی خیال رکھیں کہ خواتین کولیگز کے ساتھ بات کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ خلوت مہیا نہ کریں۔ زبان یا اشاروکنایوں میں بھی ایسی بات نہ کریں جس میں لذت کا عنصر موجود ہو۔ لغویات سے بچیں ، نگاہ  کی حفاظت کریں اور بِلا ضرورت خواتین کو مخاطب نہ کریں۔

٭  آفس سے آتے ہی اگر وقت ہے تو تھوڑا سا سستا لیں ۔ اس کے بعد وقت کے حساب سے تلاوت،تسبیحات ، یا نوافل ادا کر لیں۔ خاتونِ خانہ کو کوسنے اور بار بار اپنی تھکاؤٹ کے ذکر کی بجائے زبان پر اللہ کی حمد و ثنا رکھیں اور  گھر والوں کے ساتھ مل کر کام کروانے کا معمول بنائیں۔ افطار سے پہلے بچوں کو ساتھ بٹھا لیں اور ان کے ساتھ مل کر دعا کریں۔مغرب کے بعد اوابین و تلاوت کی طرف متوجہ ہوں۔ پھر تراویح کی تیاری کر یں اور تراویح  کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ تراویح کے بعد بچوں اور والدین کے ساتھ بیٹھ کر اسلامی قصے یا انبیاء کے قصوں وغیرہ کی باتیں کریں۔ سوال جواب جیسا سیشن رکھیں جس میں بچوں کو اُکسائیں کہ وہ سوال کریں اور والدین و بزرگ  ان کا جواب دیں۔ دفتری مرد حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ اپنے دفتر کا کام گھر نہ لائیں بلکہ دفتر میں ہی ختم کر کے آئیں تا کہ گھر والوں کے  لیے آسانی سے وقت نکال سکیں۔

کاروباری  مالکان

٭  کاروباری مالکان کو چاہیے کہ اپنے ماتحتوں کے اوقات میں سہولت کے مطابق کمی کر دیں۔ایسے سخت کام جو ضروری نہیں انہیں رمضان کے بعد کے لیے ٹال دیں۔ اس کے علاوہ  ماتحتوں کو بونس وغیرہ دیں تا کہ وہ بھی افطاری و سحری کرکے طاقت کے ساتھ روزے رکھ سکیں۔ ماتحتوں کے ساتھ ایک افطار ضرور کریں اس سے محبت و اخوت پیدا ہو تی ہے  جو کہ اسلام کی اصل روح ہے۔

دکان پر کام کرنے والے

٭  دکان پر کام کرنے والوں کو چاہیے کہ رمضان میں اپنی اشیاء کے دام ایک دم نہ بڑھائیں نہ ہی ناجائز نفع کمائیں۔ ان لوگوں کو نگاہوں اور زبان پہ زیادہ فوکس کرنے کی ضرورت ہے۔ نگاہیں نیچی رکھیں اور اشیاء بیچتے ہوئے رغبت زدہ لہجے کا استعمال نہ کریں۔

٭ دکان پر ہی تلاوت اور ذکر و دعاؤں کامعمول بنائیں۔ نماز کی ادائیگی کو یقینی بنائیں اور بِلا عذر نماز کو لیٹ نہ کریں۔  رمضان میں کوشش کریں کہ عشاء سے پہلے پہلے دکان بند کر دیں تا کہ تھوڑے سے آرام کے بعد تراویح  پڑھ سکیں۔ تراویح کے بعد گھر والوں کے ساتھ کچھ وقت گزاریں اور دو یا تین گھنٹے کی نیند لیں ۔رات کے پچھلے پہر اٹھ کر تلاوت کریں ، نوافل ادا کریں اور تہجد کے بعد تھوڑا سحری تک سو لیں۔ تا کہ اگلے دن کے معمولات کے لیے توانائی برقرار ہو سکے۔

اسکول و کالج کے طلبا و طالبات

٭  اسکول کے بچوں کو چاہیے کہ سحری کے بعد تلاوت اور پھر چھوٹی سی نیند  لیں ۔ اس کے بعد اسکول میں لڑائی جھگڑے سے اجتناب کریں۔  روز کی ایک آیت یا دعا صبح دوہرا لیں یا کاپی پہ نوٹ کر لیں تا کہ سارا دن وقتا فوقتا  پڑھتے رہیں۔ اس طرح گھر آنے تک وہ دعا یا آیت زبانی یاد ہو جائے گی۔ اسکول سے آتے ہی  ظہر ادا کر کے قیلولہ کر لیں۔ اس کے بعد اٹھ کر اسکول سے ملنےوالا کام کریں۔ افطاری کے وقت ماں باپ اور بہن بھائیوں کاہاتھ بٹائیں۔ برتن سیٹ کر کے رکھ دیں، شربت یا چٹنی بنا دیں ۔ اس طرح کے چھوٹے موٹے کام کر لیں۔ مغرب کے بعد کپڑے استری کر یں۔ اگر اسکول کا کوئی کام رہتا ہو تو اسے کر لیں۔پھر عشاء کی نماز اور تراویح کے بعد تھوڑی تلاوت کر یں۔ یہ تلاوت کوشش کریں کہ ترجمہ کے ساتھ کریں۔ اس کے بعد سو جائیں۔ اسکول کے بچوں کو بھی تہجد کے وقت اٹھ کر نماز کی عادت اپنانی چاہیے تا کہ یہ آئندہ زندگی کے لیے پختہ ہو جائے۔

٭ کالج و یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کی ٹائمنگ چونکہ زیادہ ہوتی ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ اپنی نمازیں  اپنے ادارے میں ہی ادا کریں اور اس میں کوئی جھجھک یا شرمندگی محسوس نہ کریں۔  صبح سحری ، نماز و تلاوت کے بعد  چونکہ عموما کالج یونیورسٹی کے لیے نکلا جاتا ہے اس لیے راستہ میں دعائیں اور اذکار وغیرہ کرتے رہیں۔ راستے میں فضول گفتگو، گانے وغیرہ سننے  سے بچیں۔  آنکھ، زبان اور ہاتھ کو شہوت سے بچائیں اور ان کا خاص خیال رکھیں۔گھر واپسی پر تھوڑی دیر سو لیں گھر والوں کے ساتھ افطاری  کی تیاری میں مد د کریں۔ افطار سے پہلے دعا میں شریک ہوں۔ مغرب کے بعد کپڑے وغیرہ استری کریں۔ عشاء ، تراویح اور تلاوت کے سوتے وقت اذکار و دعائیں پڑھیں اور تہجد کے وقت اٹھنے کی نیت کریں۔ تہجد کے بعد کالج و یونیورسٹی کی اسائنمنٹس کر لیں اور سحری کی تیاری میں ہاتھ بٹائیں۔

گھر کے بزرگ

٭ گھرکے بزرگ گھر کے سب سے اہم افراد ہوتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ وقت تلاوت میں گزاریں۔ بچوں کو اچھے کام کرنے کی ترغیب دیں ۔راتوں کو عبادت کریں۔ دن کو عبادت کے ساتھ آرام بھی کریں۔بزرگوں کو اپنے چڑچڑے پن اور گالیوں وغیرہ پر کنٹرول کرنے کی تربیت آنی چاہیے۔اس کے علاوہ  گاہے بگاہے جوانوں اور بچوں کو خیرات و صدقات کی تلقین کرتے رہیں۔

افطار

٭ افطار چاہے گھر میں ہو، دفتر میں یا دکان پر ہر جگہ کوشش  کریں کہ افطار سے آدھ گھنٹہ یا بیس منٹ پہلے سب کام روک کر دعا کے لیے مخصوص کر لیں۔ دفتر و دکان میں افطار کے وقت اپنے کولیگز ، ماتحت اور ساتھ والی دکان کے لوگوں کو بھی ساتھ ملا لیں ۔ گھر میں افطار کے وقت کوشش کیجئے کہ ہمسائیوں کے حالات سے باخبر رہیں اور انہیں افطار کے لیے اپنی کھانے میں سے کچھ اشیاء بھیج دیں۔ اس کے علاوہ محلے میں بھی لوگوں کے حالات سے باخبر رہیں اور معمول بنا لیں کہ کم از کم ایک غریب کے گھر افطاری بجھوا سکیں (یہ افطاری کھانے پینے کی اشیاء بھی ہو سکتیں ہیں اور رقم بھی)۔

یہاں کچھ باتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہر پیشہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو رمضان میں دھیان  رکھنا اور آئندہ سال کے لیے تربیت کرنی ہے

٭ صدقہ و خیرات  کریں۔

٭ اپنے ہاتھ اور زبان کے شر سے دوسروں کو محفوظ رکھیں۔گالیوں ، بے ہودہ مذاق اور لغویات سے بچیں۔

٭ اپنے اعضاء، ہاتھ ، کان ، زبان اور آنکھ کو زنا سے بچائیں۔جھوٹ ، بدگوئی، غیبت ، زنا سے بچیں۔

٭ بِلا ضرورت نامحرم سے خلوت کرنے سے بچیں۔

٭ شریکِ حیات کی ناشکری سے بچیں۔

٭  سخت زبانی سے  بچیں، نرم گوئی اختیار کریں ۔

About عدیلہ کوکب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *