Home / تذکیری مضامین / موجودہ دور اور دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

موجودہ دور اور دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

میں بچپن سے محمد رسولﷲ صلیﷲعلیہ وسلم کے بارے میں یہ پڑھتی اور سنتی آرہی ہوں کہ آپ صلیﷲ علیہ وسلم کی یہ اور یہ سب من پسند غذائیں جو ہیں وہ اس لئے تھیں کہ اس میں بہت سے فوائد تھے ۔ دوسری طرف یہ کہ آپ صلیﷲ علیہ وسلم بہت  سادہ طبیعت اور کم خوراک تھے ، خوش خوراک نہ تھے کہ مرغن غذا ئیں  کھارہے ہوں۔ حتیٰ کہ آپ صلیﷲعلیہ وسلم پانی کے لئے مٹی کا گلاس یا پیالہ استعمال کرتے تھے۔ جیسے نبز تمر یعنی کھجور کو پانی میں بھگو کر مٹی کے پیالے میں رکھتے اور صبح اس کو مسل کر پی لیا کرتے تھے۔ اور یہی مسنون ناشتہ ہے۔ تو سارے اسٹوڈینٹس اسی کو تناول فرمایا کریں۔ یہ ہمیں ہمارے اسلامک انسٹیؤٹ میں عالمہ کورس کے دوران بتایا گیا۔

دوسری بات  جوقابل غورلگی وہ یہ کہ ذرا نبوی زندگی اور جنت کی زندگی پر غور کریں تو صبح ناشتے اور رات کے کھانے کا ذکر ملے گا جبکہ دوپہر اور شام کے کھانے اور ناشتے اور چائے کا ذکر نہ سنت میں ہے نا ہی جنت میں۔ مزید یہ کہ جب رمضان آتا تھا تو مسنون افطاری کھجور اور زم زم ہوا کرتا تھا۔ اور پھر جو بھی پکا ہوتا وہ کھالیا جاتا ورنہ صرف کھجور اور زم زم پر ہی قناعت کی جاتی۔ زرا سوچئے کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ دسترخوان سجالیتے ہیں ۔یہ وہ———-

کیا کریں — جائزہ لیں یا سبحانﷲ الحمدﷲ اﷲ اکبر کی صدائیں بلند کرنی ہیں۔ یا کچھ سیکھیں۔

چلئے آج دور نبوی صلیﷲ علیہ وسلم میں چلتے ہیں۔نبوی دور کو ہم قبل از ہجرت شروع کرتے ہیں۔ آپ صلیﷲ علیہ وسلم دائی حلیمہ کے یہاں ہیں جو کہ دیہات ہے اور چرواہوں کے بیچ پل رہے ہیں۔ یاد رکھیں چرواہا اور اس کا رہن سہن ہمیشہ سے ایک جیسا ہی رہا اور رہے گا۔ انتہائی غربت ہے۔ بھلے آپ صلی اﷲعلیہ  وسلم کے مبارک قدم سے بکریوں کو دودھ وافر ہوتا ہو۔ لیکن انکا اسٹیٹس تا حیات چرواہا ہی رہا۔ اب آپ صلیﷲ علیہ وسلم بیوہ ماں کے پاس پھر عیال دار چچا کےپاس پل رہے ہیں ۔ جہاں غربت اپنے عروج پر ہے۔ اور محمد رسول اﷲ صلیﷲ علیہ وسلم یتیم یسیر ہیں اور یتیم یسیر بچے چچا چچی سے جو کہ غریب بھی ہوں ضد نہیں  کیا کرتے کہ ان کے اپنے بچوں کی ڈیمانڈز پوری نہیں  ہورہی تو ان کی کیسے ہوگی۔ اب آپ کی شادی ہوگئی ہے اور نبی و رسول ہوچکے۔ بائیکاٹ ہوچکا۔ کاروبار بند ہوگیا۔ شعب ابی طالب ہوئی جس میں تانت تک بھون کر کھانا پڑا۔ یعنی نبی اﷲاور صحابہ پر بھوک کی سخت آزمائش ہے۔ اور غربت کا عالم ہے۔

 اب سفر جاری رکھیں اور ہجرت کرکے مدینہ آئیں۔ یہاں بھی سب مہاجر ہیں اور غیرت مند مہاجر ہیں ۔ انصار کے ٹکڑوں پر پلنا گورا نہ کرنے والے غیرت مند رسول و صحابہ۔ اس وقت بھی غربت و مفلسی اور سفید پوشی کا عالم ہے اور بھرم جو کہ قائم رکھنا ہے تو کھانے کو میسر نہیں  آیا تو روزہ رکھ لیا۔ اور اگر آگیا تو وہی روزہ افطار کرلیا۔ اب ذرا واپس کچھ دیر ہمارے قرآنک انسٹیٹیوٹ  یعنی عربی میں مدرسہ سسٹم کی طرف آئے جنھوں نے ہمیں مسنون ناشتے کی طرف لگاکر مجھ سمیت لڑکیوں کو جو کام چوری کی عادت لگائی وہ تو ناقابل معافی جرم ہے کہ اس سے ہم لڑکیوں کے جسم کمزور ہوئے اور مجھ سمیت تمام ہی لڑکیوں کو دوران پریگنینسی شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ دوسری عادت دوپہر کا کھانا چھوڑدیا۔ اب سوچیں صبح مسنون ناشتہ جو کہ مٹی کے پیالے یا گلاس میں ڈال کر پیا گیا بوجہ کہ اسکی افادیت اور سو شہیدوں کا ثواب پانے کی چاہت و تڑپ۔ پھر رات کے کھانے تک بھوکا رہنا۔ کہ جی روزے دار ہیں یا نہیں  بھی ہیں تو کثرت سے اﷲ کی نعمت بھری ہونے کے باوجود فاقہ کشی ہورہی ہے کہ جی مسنون ہے۔ اس سے طبیعت چڑچڑی وٹامن ڈی اور کیلشیم کی شدید کمی ان سب کے سبب لڑکیوں نے خوب صحت گنوائی۔ لیکن کیا کریں کہ صبح شام ہم یہ دعا پڑھتے تھے کہ اے اﷲ ہم کوحق حق دکھا کہ اس کی اتباع کریں اور باطل باطل دیکھا کہ جس سے ہم اجتناب کریں۔ البتہ میں یہ دعا دل اور شعور سے مانگتی تھی۔ تو دماغ میں جھماکا ہوا کہ ” عقل بند ” محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس ریفریجریٹر نہیں تھا ۔ اس لئے وہ مٹی کے کونڈے پیالے یا گلاس میں کھجور اور پانی رکھتے تھے تاکہ رات بھر میں کھجور نرم بھی ہوجائے اور پانی مزیدار ٹھنڈا۔ یعنی آپ صلیﷲ علیہ وسلم کو بھی ٹھنڈا مشروب پسند تھا ۔

دوسرا یہ کہ اس بدو معاشرے میں اور غربت اور مہاجرت کے دور میں یہی میسر تھا۔ دوپہر کا کھانا میسر ہی نہیں تھا۔ پھر رات کو یا رمضان میں افطار کے وقت بھی وہی حالات ہوتے تھے کوئی آسمانی خوان نہیں اتر رہا ہوتا تھا۔ ( اس مسنون ناشتے پر بزنس بھی خوب ہوا ہے کہ عجوہ کھجور اور زم زم سے مسنون ناشتہ کیجئے  )  بہرحال — اب دوبارہ مدینہ طیبہ چلئے اور اب دور ہے ریاست کی تکمیل کا اور مال غنیمت کا۔ تو اس وقت جب نعمت خداوندی میسر تھی تو آپ صلیﷲ علیہ وسلم نے گوشت بھی کھایا بلکہ بہترین چکنی بوٹی جو کہ دستی کی ہوتی ہے وہ تناول فرمایا۔ اس سے آپ صلیﷲ علیہ وسلم کے ذوق یعنی ٹیسٹ کا معلوم ہورہا ہے کہ آپ صلیﷲعلیہ وسلم کو اچھے کھانے پسند تھے۔جہاں تک برتن کی بات ہے۔ یہ ایک بدو معاشرہ ہے مصر اور روم کی طرح پڑھا لکھا اسی سے سو فیصد لٹریسی ریٹ والا قطعاً نہیں۔ پھر عرب اور بنی اسرائیل خانہ بدوشوں والی زندگی جئے ہیں۔ چرواہے تھے۔ ان میں جو ریئس تھا وہ تاجر تھا۔ اور یہ گنتی کے تھے نا کہ سارے عرب۔ ان کا لیونگ اسٹائل الگ تھا۔ جیسے مصعب بن عمیر رضیﷲ عنہ ،ان کی تمام ضروریات کی چیزیں امپورٹڈ ہوا کرتی تھی۔

محمد رسولﷲ صلیﷲعلیہ وسلم شروع سے کبھی  دائی حلیمہ سعدیہ کے یہاں تو بہت سا وقت عیال دار چچا ابو طالب کے یہاں رہے۔ آپ کو یوسف موسیٰ داؤد و سلیمان علیھم السلام جیسی زندگی میسر نہیں آئی۔ شروع سے غربت دیکھی سوائے خدیجہ رضیﷲعنہ سے شادی کے بعد اور دور رسالت سے پہلے تک۔ اس وقت اچھا نفیس جوڑا پہنا بھی ،کمایا بھی اور بہترین غذا کھائی بھی۔

 جہاں تک جنت کا ذکر ہے۔ تو اتنی بےوقوفی کی بات لگتی ہے کہ صرف دو وقت کا کھانا۔ ارے جنت تو نعمتوں کا نام ہے اگر سعدیہ کامران کا دل کرے گا کہ بہترین لزانیہ کھائے یا کوئی اسپینش یا تھائی فوڈ یا مغلیہ کھانا کھائے تو ابھی سوچ ہی رہی ہوگی کہ حاضر ہوگا۔ وہ بھی پلک جھپکتے اس کے غلام حاضر کرچکے ہوں گے کیونکہ اچھے نوکر غلام کی پہچان ہی یہی ہے کہ مالک کا مزاج آشنا ہو۔

 ذرا ان مدرسہ کے بچوں کو دیکھئے اچھی بھلی لڑکیاں لڑکے کچھ دن میں مصنوعیت کا شکار ہوکر ہنسنا بولنا تفریح کرنا چھوڑدیں گے۔ حروف حلقی کثرت سے ادا کریں گے۔ اور چلتی پھرتی غربت کی تصویر اور بسااوقات بدوؤں جیسے دکھنے لگتے ہیں۔ خدارا ہم اہل تورات یا بنی اسرائلی ڈی این اے نہیں جو آج بھی جس علاقے میں ہوتے ہیں وہی خانہ بدوشوں کی طرح وہی ڈھیلے کرتے وہی عمامے وہی بےہنگم داڑھیاں نا کہ قرینے سے سجی خوبصورت سنوری ہوئی۔

قوم کے معماروں کو ذہنی اور جسمانی کمزوری میں مت ڈالو۔ کیونکہ ذہن اور جسم کمزور ہوں گے تو قوت ایمانی بھی کمزور ہوگی۔ پھر نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے۔

About سعدیہ کامران

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *